BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 01 August, 2006, 11:32 GMT 16:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
برک لین: فلمبندی پر احتجاج

احتجاجیوں کا کہنا ہے کہ مونیکا علی کے ناول میں انھیں رسوا کیا گیا ہے
جب لندن کے شورڈچ علاقے میں برک لین نامی بازار میں داخل ہوتے ہیں تو تیز مصالحوں کی خوشبو اور بنگالی پاپ موسیقی آپ کی توجہ اپنی طرف کھینچ لیتی ہے۔

مشرقی لندن کا یہ بازار اتوار کو ایک پر جوش احتجاج کا منظر پیش کر رہا تھا۔
بنگلہ دیشی کمیونٹی کے تقریبا ایک سو بیس ارکان نےمونیکا علی کے ناول پر بن رہی فلم پر احتجاج کیا اور یہ الزام لگایا ہے کہ یہ جھوٹ پر مبنی ہے۔

یہ کتاب ایک بنگلہ دیشی خاتون کے متعلق ہے جسے ماں باپ نے شادی کے لئے لندن بھیج دیا تھا۔

مگر کچھ مقامی بنگلہ دیشیوں کا الزام ہے کہ یہ خاص طور پر برک لین کے رہائشیوں کی طرف اشارہ کرتی ہے جس سے ان کی بدنامی ہوتی ہے۔

احتجاجی مظاہرین کا الزام ہے کہ مونیکا علی نے اس کتاب میں بنگلہ دیشیوں کو غیر تعلیم یافتہ اور غیر مہذب بتایا ہے اور ساتھ ہی یہ ظاہر کیا ہے کہ بنگلہ دیشی جوؤں سے بھرے سر لے کر جہاز میں چھپ کر انگلینڈ آجاتے ہیں۔

اس کمیونٹی نے 2003 میں بھی سخت تنقید کی تھی جب یہ ناول پہلی دفعہ چھپ کر آیا تھا۔ مگر جب روبی فلمز والوں نے اس ناول پر مبنی فلم کی شوٹنگ اسی گلی میں شروع کی تو اس نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ اب فلم بنانیوالے اس کی شوٹنگ کسی اور جگہ کریں گے۔

احتجاجیوں نے جن میں دو خواتین بھی شامل تھیں، پوسٹرز اٹھا رکھے تھے جن پر مونیکا کی کتاب پر جھوٹا ہونے کا الزام لگایا گیا تھا۔ احتجاج منظم طریقے سے جاری تھا کہ اچانک ایک ایشیائی نوجوان نے آگے بڑھ کر پوچھا کہ کسی نےیہ کتاب پڑھی بھی ہے ؟

احتجاج کے منتظمین میں سے ڈاکٹر حسنات حسین نے اس نوجوان کو ایک طرف کھینچ کر گلے لگا لیا اور مجمع جلدی ہی سرد پڑ گیا۔

ڈاکٹر حسنات نے اس موقع پر ایک مختصر سی تقریر کی جس میں واضح کیا گیا کہ کس طرح مونیکا کی کتاب میں بنگلہ دیشیوں کے بارے میں لکھا گیا ہے۔ڈاکٹر حسنات نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اس کتاب میں محنتی بنگلہ دیشیوں کے بارے میں غلط بیانی سے کام لیا گیا ہے۔اور جھوٹ بول کر اس کمیونٹی کی بے عزتی کی گئی ہے۔ڈاکٹر نے یہ بھی کہا کہ کسی کا نام لئے بغیر بھی ادب لکھا جا سکتا ہے مگر اس میں تو واضح طور پر برک لین کا نام لیا گیا ہے۔

احتجاج میں صرف دو خواتین شامل تھیں۔ اور مزید خواتین کے نہ ہونے پر ڈاکٹر حسنات نے کہا کہ یہ احتجاج مختصر نوٹس دے کر بلایا گیا ہے اور خواتین گھروں میں مصروف ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد