کراچی۔ ممبئی کنسرٹ کی وڈیو | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بی بی سی اردو اور بی بی سی ہندی کے زیرِاہتمام کراچی ممبئی لائیو کنسرٹ کا اختتام ہوگیا ہے۔ اس کنسرٹ کی مکمل وڈیو دیکھنے کے لیے نیچے دیئے گئے لنکس پر کلک کیجیئے۔ اگر آپ اس کنسرٹ کی آڈیو سننا چاہیں تو آپ کو نیچے دیئے گئے لنک پر کلک کرنا پڑے گا۔ پاکستان سے عابدہ پروین جبکہ بھارت سے شبھا مدگل نے سیٹلائٹ کے ذریعے نشر ہونے والے اس دو گھنٹے کے پروگرام میں اپنے اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ اس کنسرٹ میں پاکستان سے ڈرامہ نگار نور الہدٰی شاہ، شعیب ہاشمی اور انور مقصود جبکہ بھارت سےگوند نہلانی، جاوید اختر اور کرن کھیر جیسے پینلسٹ شامل تھے۔ بی بی سی اردو اور ہندی کی جانب سے منگل کو کراچی اور ممبئی سے ایک ساتھ کیے جانے والی کنسرٹ میں شریک دانشوروں، ادیبوں اور فنکاروں نے اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ فن وسیع تر محبت پیدا کر سکتا ہے لیکن اصل فیصلہ پھر بھی سیاست کے ہاتھ میں رہتا ہے۔ یہ پروگرام آپ کی دنیا کون چلاتا ہے کے تحت کراچی اور ممبئی سے ایک ساتھ پیشں کیا گیا۔ اس پروگرام میں جاوید اختر نے کہا کہ ’میرے خیال میں تو یہ سوال ہی غیر ضروری ہے کہ فنکار دونوں طرف کے لوگوں کو ملا سکتے ہیں یا نہیں کیونکہ اب تک فنکار ہی تو ہیں جنہوں نے لوگوں کو ملا رکھا ہے اور وہی ہیں جو یہ کام کرتے آئے ہیں۔‘ ڈرامہ نگار اور ادیبہ نورالہدٰی شاہ کا کہنا تھا کہ کہ پروگرام کی ابتداء صوفیانہ کلام سے کی گئی ہے اور جاوید اختر صاحب نے جو بات کی ہے وہ درست ہے لیکن ’میرے خیال میں جب فنکار کے دل میں صوفی ہوتا ہے تب ہی اس کا دل سرحدوں کو توڑ سکتا ہے اور دلوں کو جوڑ سکتا ہے۔لیکن جو بازار میں جانا چاہتا ہے اور مال بیچنا چاہتا ہے اس کا اپنا کام ہے۔ جیسے ہی جنگ کا بازار گرم ہوگا اس کا بازار لپٹ جائے گا۔‘ ایک مرحلے پر شعیب ہاشمی نے بتایا کہ ایک بار ایک صاحب نے ہندوستان سے فون کیا کہ وہ شوبھا جی کی طرف سے بول رہے ہیں اور شوبھا جی چاہتی ہیں کہ انہیں فیض صاحب کی دو غزلیں گانے کی اجازت دے دی جائے۔ ’تو ہم نے انہیں جواب دیا ایک دو غزلیں کیا ساری شاعری گا دیں بلکہ نثر بھی گا دیں لیکن شرط یہ ہے کہ فون خود کریں۔ انہوں نے فون تو کیا لیکن وہ ہماری جگہ ہماری بیوی کے ہاتھ لگ یا اور معاملہ کہیں سے کہیں پہنچ گیا۔‘ ’لیکن اب معاملہ یہ ہے کہ موسیقی ہے اور دوستی کی نیت بن گئی ہے اور سب نے سن لیا ہے کہ دونوں طرف کے لوگ کیا چاہتے ہیں تو اس میں سیاست داں اب کیا کر سکتے ہیں۔‘ انور مقصود نے اس حوالے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’دونوں ملکوں کے رشتے کا معاملہ تو اس بات سے ظاہر ہے کہ جنگ میں بھی لتا جی نے جو گیت گایا تو وہ اِدھر کے شاعر کا لکھا ہوا تھا: سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا۔ اس طرح دوسری جنگِ عظیم کے دوران بی بی سی سے جو سمفنی بجائی جا رہی تھی وہ بیتھوون کی تھی جو جرمن تھے‘۔ اس دوران ہندوستان میں فلم ’خاموش پانی‘ کے ریلز ہونے کی بات آئی اور اداکارہ کرن کھیر نے کہا کہ یہ فلم پاکستان میں اب تک ریلیز نہیں ہوئی۔ ’کاش ہو جاتی تو اچھا ہوتا۔‘ اس موقع جاوید اختر نے کہا کہ یہ بات اکثر کی جاتی ہے کہ اِدھر کی فلمیں اُدھر اور اُدھر کی فلمیں اِدھر چلنے کے اجازت دی جائے لیکن ’میرا خیال ہے کہ مشترکہ فلم سازی ہونی چاہیے۔ دونوں ملکوں کی الگ الگ شناخت ہے اور یہ شناخت رہنی چاہیے۔‘ عابدہ پروین نےاس سوال کے جواب میں کہ ان کی دنیا کون چلاتا ہے کہا کہ ’بزرگانِ دین کا جو کلام ہوتا ہے وہ اُس دنیا کا ہوتا ہے لیکن ہوتا اِس دنیا کے لیے بھی ہے اور اسے گانے والا بھی کلام ہو جاتا ہے اور سننے والا بھی۔‘ انور مقصود نے کہا کہ اٹھاون سال سے تو کلچر کی ڈور ہندوستان سے بندھی ہوئی ہے۔ ’اس وقت بھی ہم ایک طرف سے عابدہ کو سن رہے ہیں تو دوسری طرف شوبھا مدگل ہیں تو بھاڑ میں جائے یہ کہ دنیا کون چلا رہا ہے۔ رہی شوبھا کی شکایت کہ انہیں ویزہ نہیں دیا گیا تو میں ان سے کہوں گا کہ کشمیر کے راستے آ جائیں پھر ہم آپ کو ہر جگہ لے جائیں گے۔‘ اس موقع پر نورالہدٰی شاہ نے کہا کہ ’وہ خاتونِ خانہ ہی کیا جو ہمسائے سے لے کر اپنا باورچی خانے چلائے کچھ ادھر سے بن کر جائے کچھ ادھر سے پک آئے تو بات بنتی ہے۔ میں تو کہوں گی کے ایک طرف کی ونڈو پر شوبھا کو اور ایک طرف کی ونڈو پر عابدہ کو بٹھا دیں اور محبت کے سیلاب کو آنے دیں، سرحدوں کی فکر مت کریں انہیں نبی اور مولا علی پر چھوڑ دیں کچھ نہیں ہو گا۔‘ ظفر عباس کے اس سوال کے جواب میں کہ اگر دونوں طرف کے فنکار محبت چاہتے ہیں تو پھر یہ جنگ والی فلموں میں کام کیوں کرتے ہیں؟ جاوید اختر نے کہا کہ ’یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ کرگل کے پہاڑ پر چڑھ آئیں اور مجھے فلم بھی نہ بنانے دیں۔‘ ان کا کہنا تھا جیسا ماحول ہوگا ویسی ہی فلمیں بھی بنیں گی اور ان میں سب کام بھی کریں گے۔ ’اصل میں تو سب سیاستدانوں کے ہاتھ میں ہے اور فلمیں سیاست اور سیاستدانوں کے خلاف ہوتی ہیں عوام کے خلاف نہیں۔ لیکن جب سیاست کا سیلاب آتا ہے تو کیا آرٹ، کیا کلچر اور کیا فلم سب اس میں بہہ جاتے ہیں۔‘ جاوید اختر کا کہنا تھا کہ کوئی نظم، کوئی کہانی اور کوئی فلم انقلاب نہیں لا سکی۔ سیاست میں بڑی قوت ہے اور بڑے فیصلے سیاسی ہی ہوتے ہیں۔ شعیب ہاشمی نے اس مرحلے پر گفتگو میں شریک ہوتے ہوئے کہا کہ ’ابھی بلھے شاہ کا ذکر ہو رہا تھا، تو وہ ان کے حوالے سے کہیں گے کہ بلھے شاہ کے ہاں ’ان حد‘ کا ذکر آتا ہے۔ ان حد ایک سُر ہے، ایک ایسا سُر جس میں کائنات کو تخلیق کیا گیا۔ تو اگر اس کائنات کو ایک سُر میں تخلیق کیا جا سکتا ہے تو اِس میں ایک دو چھوٹے موٹے ملک چلا لینا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ ہم نے تو اپنی ان حد کا سر عابدہ اور شوبھا سے سن لیا ہے۔‘ انور مقصود نے بھی کہا کہ اِدھر عابدہ ہیں اُدھر شوبھا ہیں ، اس کے علاوہ جو تین اِدھر اور تین اُدھر بیٹھے ہیں انہیں چھوڑ دیں اور عابدہ اور شوبھا کو سنیں۔ | اسی بارے میں کراچی اور ممبئی، کنسرٹ کی تیاریاں 26 September, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||