وکٹوریا کا پیارا عبدل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یہ اقتباس بی بی سی اردو کے سینئر براڈکاسٹر رضا علی عابدی کی کتاب ’ملکہ وکٹوریا اور منشی عبدالکریم‘ سے لیا گیا ہے۔ منشی عبدالکریم ایک ہندوستانی تھے جو انیسویں صدی کے اواخر میں چودہ سال تک ملکہ برطانیہ کے بہت قریب رہے۔ وکٹوریا کا پیارا عبدل ’اس روز لندن میں بڑا جشن تھا۔ پورے برطانیہ سے پانچ لاکھ آدمی ملکہ کی گولڈن جوبلی کا جشن دیکھنے آئے تھے۔ زیادہ تر نے اس سے پہلے کوئی برطانوی بادشاہ دیکھا ہی نہ تھا۔ وکٹوریا کی حکمرانی کو پچاس سال پورے ہو رہے تھے اور اس خوشی میں پورا شہر دلہن بنا ہوا تھا۔۔۔۔ یہ جشن ہفتوں چلا۔ دعوتیں اور ضیافتیں ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھیں۔ ہندوستان سے تمام بڑے راجا، مہاراجا اور ان کی رانیاں بھی انگلستان آگئیں۔ ملکہ نے بھی ان کے اعزاز میں ہندوستان جیسے تکلفات کا اہتمام کیا۔ بس انہیں ایک بات کی کوفت کھائے جا رہی تھی۔ ہندوستانی رانیوں اور شہزادیوں کی زبان اردو تھی اور ملکہ کو اردو نہیں آتی تھی۔ وہ مہمانوں سے گفتگو نہیں کر پا رہی تھیں۔ اس بات پر وہ بار بار جھلائیں۔ وکٹوریا کا سن ستّر کے قریب پہنچا تو یوں لگا جیسے ان کا لڑکپن لوٹ آیا ہو۔ وہ کھلکھلاتیں، ان کے رخسار شرم سے سرخ ہوجاتے، کبھی وہ حیا سے اپنا چہرہ چھپا لیتیں۔ اپنی سہلیوں میں بیٹھتیں تو لطیفے کہتیں اور نہ صرف اپنے بڑھاپے کا مذاق اڑاتیں بلکہ یہ بھی کہتیں کہ وہ خود کو جوان محسوس کرنے لگیں ہیں۔ عین ان ہی دنوں آگرے کا ایک چوبیس سالہ، خوب رو اور ذہین جوان ان کی زندگی میں داخل ہوا۔ محمد عبدالکریم۔ وکٹوریا کا پیارا عبدل۔ اور درباریوں کی آنکھ میں کانٹا بن کر کھٹکنے والا منشی عبدالکریم۔‘ (اگلا اقتباس آئندہ) |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||