عہدِ وکٹوریا شروع ہوتا ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یہ اقتباس بی بی سی اردو کے سینئر براڈکاسٹر رضا علی عابدی کی کتاب ’ملکہ وکٹوریا اور منشی عبدالکریم‘ سے لیا گیا ہے۔ منشی عبدالکریم ایک ہندوستانی تھے جو انیسویں صدی کے اواخر میں چودہ سال تک ملکہ برطانیہ کے بہت قریب رہے۔ عہدِ وکٹوریا شروع ہوتا ہے ’اس دوران شاہ جارج مرے۔ ان کے بعد ان کے بھائی ولیم چہارم تخت پر بیٹھے لیکن ان کی زندگانی کا چراغ جلد ہی ٹمٹمانے لگا۔ انہوں نے اپنی بھتیجی کی اٹھارہویں سالگرہ تو دیکھ لی، اب انہیں معرکہ واٹرلو کی سالگرہ دیکھنے کا ارمان تھا۔ 18 جون کو یہ مرحلہ طے ہوتے ہی انہوں نے آنکھیں موند لیں۔ یہ بات سنہ 1837 کی ہے۔ بادشاہ کے مرتے ہی آرچ بشپ، لارڈ چمبرلین اور بادشاہ کے معالج اپنے گھوڑے دوڑاتے ہوئے وکٹوریا کی قیام گاہ کی طرف لپکے جہاں انہوں نے دیکھا کہ گیٹ بند ہے اور دربان خراٹے لے رہا ہے۔ بہت گھنٹیاں بجائی گئیں، بڑی مشکل سے دروازہ کھلا لیکن اندر سے جواب آیا کہ شہزادی سو رہی ہے۔ مگر جب نوواردوں نے کہا کہ وہ شہزادی سے نہیں، ملکہ سے ملنے آئے ہیں تو ماں نے جا کر اور منہ چوم کر ٹھایا۔ وکٹوریہ اپنے شب خوابی کے لباس کے اوپر ڈریسنگ گاؤن اور سلیپریں پہن کر ملاقاتیوں کے پاس آئیں۔ انہیں دیکھتے ہی ملاقاتیوں نے گھٹنے ٹیک دیئے۔ اب لارڈ چمبرلین نے سارا احوال کہنا شروع کیا اور جوں ہی لفظ ’ملکہ‘ پر پہنچے، ملکہ نے اپنا ایک ہاتھ بوسے کے لئے ان کی طرف بڑھا دیا اور اتنے اشتیاق سے بڑھایا کہ اگر شاہی آداب اجازت دیتے تو وہ دونوں ہاتھ بڑھاتیں۔ یہیں سے عہدِ وکٹوریا شروع ہوتا ہے۔‘ (اگلا اقتباس آئندہ) |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||