BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 05 November, 2004, 18:20 GMT 23:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انٹرنیٹ فلموں پر مقدمات کا فیصلہ
ہالی وڈ
فلموں کی غیر قانونی نقول سے ہالی وڈ کو اربوں ڈالر کا نقصان ہوتا ہے
ہالی وڈ کے فلم سٹوڈیو انٹرنیٹ پر فلمیں ریلیز کرنے والوں کے خلاف عدالتی کارروائی کریں گے۔

’موشن پکچر ایسوسی ایشن آف امریکہ‘ ایم پی پی اے کےمطابق فی فلم تیس ہزار ڈالر ہرجانہ طلب کیا جائے گا۔

ایم پی پی اے کےسربراہ ڈین گلکمین نے کہا کہ یہ عدالتی کارروائی نہایت ضروری ہے اس سے پہلے کہ تیز رفتار انٹرنیٹ کی بدولت فلموں کی غیرقانونی نقول عام ہو جائیں۔

ایم پی پی اے سولہ نومبر سےسینکڑوں مقدمے دائر کرے گی۔

گلکمین نے کہا ’ یہ آسان فیصلہ نہیں تھا لیکن اس بات کی ضرورت ہے کہ انٹرنیٹ پر فلموں کےغیرقانونی تبادلے پر قابو پایا جائے‘۔

’ فلمسازی کی ایک سو دس سالہ تاریخ میں فلموں کی غیرقانونی نقول بنانے کا طریقہ ، فلمیں بنانے والوں کو درپیش سب سے بڑا خطرہ ہے‘

یہ مقدمات ان افراد کے خلاف قائم کیے جائیں گے جو یا تو فلموں کی غیرقانونی نقول بناتے ہیں یا پھر ان نقول کے کاروبار میں ملوث ہیں۔

ڈین گلکمین نے مزید کہا کہ ’ وہ لوگ جو فلمیں چراتے ہیں اس خام خیالی کا شکار ہیں کہ وہ انٹرنیٹ پرگمنام ہیں جبکہ ایسا نہیں ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ وہ کون ہیں اور ہم ان کا پیچھا کریں گے‘۔

ایم پی پی اے کے دعوی کے مطابق فلموں کی غیرقانونی نقول کی وجہ سے امریکی فلمی صنعت کو ہر سال تین بلین ڈالر کا نقصان ہوتا ہے۔

ایم پی پی اے ہالی وڈ کےسات بڑے سٹوڈیو کی نمائندہ تنظیم ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد