یوسف اسلام قانونی چارہ جوئی کریں گے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یوسف اسلام نے، جنہیں دنیا سابق برطانوی گلوکار کیٹ سٹیونز کے نام سے جانتی ہے، امریکی حکومت کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ کیا ہے۔ یوسف اسلام نے کہا کہ قومی سلامتی کی بنا پر ان کو امریکہ میں داخل نہ ہونے دینے کا فیصلہ بڑا سنجیدہ اور بے بنیاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں انہیں اس کی وضاحت کی جائی۔ ان کی لندن سے واشنگٹن جانے والی پرواز کا رخ واشنگٹن کی طرف سے موڑ کر اسے مین کے ہوائی اڈے پر اتار لیا گیا تھا۔ اس کے بعد انہیں ہوائی اڈے پر ایف بی آئی نے بتایا کہ ملک چھوڑ دیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ قانونی چارہ جوئی کر رہے ہیں کہ یہ پتا چلا سکیں کہ آخر ہوا کیا تھا۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ میں یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ’آزادی کی سرزمین‘ پر ایسا ہو سکتا ہے لیکن بدقسمتی سے ایسا ہوا‘۔ ’مجھے صرف یہ بتایا گیا کہ حکم اوپر سے آیا ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ ’میں امن پسند آدمی ہوں، اور ہر طرح کی دہشت گردی اور نا انصافی کی مذمت کرتا ہوں، یہ امریکی حکام کی طرف سے انتہائی شرمناک بات ہے کہ اگر وہ اس سے ہٹ کر سوچتے ہیں۔ یوسف اسلام انیس سو ستر کی دہائی میں ایک کامیاب گلوکار تھے لیکن انہوں نے گلوکاری ترک کے اپنی زندگی اسلام کی تبلیغ کے لیے وقف کر دی ہے۔ اسلام کی تبلیغ کے لیے ان کی خدمات میں لندن میں ایک بہت بڑے اسلامی سکول کا قیام شامل ہے۔ چار سال قبل یوسف اسلام کو فلسطینوں کی حمایت کرنے کے الزام میں اسرائیل سے ملک بدر کر دیا گیا تھا۔ یوسف اسلام، جن کا پہلے نام سٹیفن جورجیو تھا، انیس سو ساٹھ اور ستر کے عشرے میں مقبول گلوکار تھے اورکیٹ سٹیونز کے نام سے مشہور تھے۔ ان کے چند مشہور گانوں میں ’وائلڈ ورلڈ‘، ’مارننگ ہیز بروکن‘ اور ’مون شیڈو‘ شامل ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||