ایک اور ’متنازعہ‘ فلم کا عزم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
میل گبسن لگتا ہے کہ یہودیوں کو مذید متنفر کرنے والے ہیں کیونکہ اب وہ ہنوکا کے تہوار پر فلم بنانے کا سوچ رہے ہیں۔ یہودی اس تہوار میں ایک سو پینسٹھ برس قبل مسیح یونانی شہنشاہ انٹی اوکس چہارم کےخلاف میکابیس کی فتح کا جشن مناتے ہیں۔ اس تہوار کے بارے میں میل گبسن نے ایک امریکی ٹیلی وژن پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’ میکابیس کے خاندان نے اس جنگ کا ماحول پیدا کیا تھا۔ وہ اپنے ہتھیاروں سے چپکے رہے تھے اور انہوں نے یہ جنگ جیت لی تھی‘۔
میل گبسن کے اس تبصرے پر’ اینٹی ڈیفیمیشن لیگ‘ یعنی ہتک عزت کے خلاف کام کر رہی تنظیم کے ابراہم فوکس کا کہنا تھا کہ ’میل گبسن کے ہاتھوں یہودیوں کی تاریخ مغربی رنگ میں رنگ جائے گی اور ہم شاید اس تاریخ سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔‘ یاد رہے کہ حال ہی میں میل گبسن کی منظر عام پر آنے والی متنازعہ فلم ’پیشن آف دی کرائسٹ‘ کو یہودیت پرستی کے خلاف قرار دیا جاتا رہا ہے۔ یہ فلم امریکی باکس آفس پر اب تک تین سوملین ڈالر کا کاروبار کر چکی ہے۔ ’پیشن آف دی کرائسٹ‘ پر اُس وقت تنازعہ اور بڑھ گیا جب فلسطینی رہنما یاسر عرفات کے ترجمان نے بتایا کہ ’مسٹر عرفات نے فلم دیکھ اسے نہایت متاثر کُن اور تاریخ سے قریب تر قرار دیا ہے‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||