BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 04 November, 2003, 17:52 GMT 22:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لندن کی پینشن یافتہ شاعری

افتخار عارف
افتخار عارف مشاعرے کے مہمان خصوصی تھے۔

پاکستان کے معروف شاعر افتخار عارف گزشتہ دنوں لندن آئے تو یہاں کی سماجی شخصیت شاہدہ احمد نے ان کے اعزاز میں ایک محفل مشاعرہ کا اہتمام کیا۔ صدر محفل لندن میں مقیم بزرگ شاعر ساقی فاروقی تھے۔

لندن جیسے سرد مزاج شہر میں یہ محفل غنیمت تھی۔

لندن میں غم روزگار نے اس کے مکینوں سے ’تصور جاناں‘ کے لئے درکار فرصت کے دن تک چھین لیے ہیں۔ اس لئے بھڑکتے اور گرجتے مشرقی ذوقِ شعری کے لئے یہاں کا موسم کسی بھی طور موزوں نہیں ہے۔

پھر بھی جن اہل سخن اور سخن فہموں نے شعروشاعری سے ناطہ قائم رکھا ہے وہ کم سے کم اپنے اس ذوق کے لئے تو داد کے مستحق ہیں۔

اس شہر میں میرا قیام زیادہ طویل نہیں اور نہ ہی میں طبعاً مجلسی آدمی ہوں اس لئے دعوے سے تو نہیں کہہ سکتا کہ مشاعرے کی روایت کتنی مستحکم ہے تاہم اسی طرح کی ایک آدھ محفل میں شرکت سے جو تاثر قائم ہوا ہے وہ بقول میر درد: ’مغتنم ہے یہ دید جو دم ہے‘

حاضرین محفل

محفل میں مہمان خصوصی افتخار عارف کے علاوہ درجن بھر شعراء نے اپنا کلام سنایا۔ سامعین کی تعداد کوئی ایک سو سے اوپر رہی ہوگی جس میں اکثریت ان لوگوں کی تھی جن کے دل تو یقیناً جوان ہوں گے لیکن عمر کے پیمانے پر وہ پنتالیس کا نشان عبور کر چکے تھے۔ ویسے تو چند خوش امیدوں سے سن رکھا ہے: ’میاں زندگی تو شروع ہی ساٹھ سال کے بعد ہوتی ہے‘۔

پتہ نہیں!

بہرحال ’زندگی‘ جب بھی شروع ہوتی ہو، اس محفل کے شرکاء کو دیکھ کر مجھے لگا کہ لندن میں اردو شاعری اب پینشن زدہ ہو چکی ہے!

تقریب کی شروعات تو کچھ ’گھر کی سی بات‘ لگی کہ جن میں ’خاص بچوں‘ کی حوصلہ افزائی کا سامان بہم پہنچایا گیا تھا۔ ان بچوں نے کچھ اپنا اور کچھ دوسروں کا انگریزی کلام سنا کر داد وصول کی۔

اچھا ہوتا اگر دیار غیر میں اردو کے پاسبان اپنے بچوں کو ورثہ میں اپنی زبان بھی دے دیتے۔ (راقم کے خیال سے قاری کا متفق ہونا ضروری نہیں!)

شعری محفل مجموعی طور پر اچھی تھی اور پھر میرے لئے تو سب کا کلام ہی ’تازہ‘ تھا۔ تاہم وقت کی قلت کے سبب مزہ کچھ کرکرا سا رہا۔ ویسے تو یہ شہر اس قدر پھیلا ہوا ہے کہ لگتا ہے وقت بھی چل چل کر پست قامت ہوگیا ہے۔

اگر بچوں کی خوشی سے صرف نظر کرلیا جاتا تو شعراء کو بھی دل کھول کر کلام سنانے کا ’نادر‘ موقع میسر آجاتا اور سامعین کے دوق کی تسکین بھی کماحقہ ہوجاتی۔

وقت کی قید کا نتیجہ یہ نکلا کہ شعراء کو صرف ایک نظم یا غزل پر ہی اکتفا کرنا پڑا۔ ویسے اس کا فائدہ یہ ہوا کہ منتخب کلام ہی سننے کو ملا۔ ورنہ بعض اوقات تو کلام سننے کے ساتھ سہنا بھی پڑتا ہے۔

کلام سب کا ہی اچھا تھا۔ لیکن مجھے عمر رسیدہ شاعر مصطفیٰ شہاب کی نظم ’کون آیا تھا‘ بہت اچھی لگی۔ یہ نظم مغربی معاشرے میں خاندان کے ٹوٹتے تانے بانے کا نوحہ ہے۔ اگرچہ مشرقی معاشرے میں بھی خاندان کے تار بوسیدہ ہو چکے ہیں لیکن ان میں جذبوں کا تناؤ ابھی سلامت ہے۔ اسی لئے برف ہوتے سروں والے بوڑھوں اور بالوں میں چاندی کے تار ٹانکنے والی بوڑھیوں کو آخری وقت میں پوتے، پوتیوں اور نواسے نواسیوں کے قرب کی کچھ نہ کچھ حرارت میسر آجاتی ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد