| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
کون آیا تھا! کون آیا تھا! نہ جانے کون آیا تھا ہتھیلی کے نشان جس کے کچن کے میلے شیشوں پر نمایاں تھے نہ جانے کون تھا وہ جو پرانی کھڑکیوں پر زور بازو آزماتا تھا اور اس پہ گھر کا دروازہ نہ کھلتا تھا ’پرانے گھر بہت مضبوط ہوتے ہیں بڑی مشکل سے کھلتے ہیں‘ کوئی پندرہ برس سے گھر کے دروازے سے ٹوٹے گیٹ تک میرے ہی قدموں کے نشاں بنتے رہے مٹتے رہے کوئی نہیں آیا مگر رامن کی سبزی کی دکان سے باسی ترکاری سمیٹے جو وہ مجھ کو مفت دیتا ہے میں گھر لوٹا تو دروازے کے باہر گیلی مٹی پر نشاں اک اجنبی جوتے کے چسپاں تھے اگر وہ چور تھا تو میرے گھر سے اس کو کیا ملتا میں پینشن یافتہ بوڑھا نہ میرے پاس مال و زر نہ کوئی بے بہا پتھر نہ کپڑا ہے نہ لتّا ہے فقط اک سوٹ کالا ہے بلاوا آئے تو اس کو پہن کر سوگ کی محفل میں جاتا ہوں جہاں سب دوست رشتے دار مل کر وائین اور سکاچ پر مرحوم کے اچھے برے کو یاد کرتے ہیں مگر اب چند برسوں سے وہ میرا سوٹ بیچارہ یونہی لٹکا ہوا ہے وہ بھی شاید سوچتا ہوگا کہ پہلے کی طرح اب لوگ کیوں نہیں مرتے بلاوا کیوں نہیں آتا جو میرے پاس سب سے قیمتی شے ہے وہ ایک ٹی وی پرانا ہے جو ٹینا ’میری بیوی‘ کی نشانی ہے جسے رخصت ہوئے شاید کوئی سولہ برس گزرے مگر اب تک مجھے لگتا ہے جیسے بس ابھی ٹینا کچن سے چائے کی دو پیالیاں لے آئے گی اور مل کے ٹی وی کے مقابل ہم یوں ہی بیٹھے رہیں گے منہمک ۔۔۔۔۔ خاموش ۔۔۔۔۔ اثاثے میں میری پینشن کی بک ہے جو میں ہر منگل کو جاکر ڈاک گھر میں پیش کرتا ہوں وہاں کی کیشئر لڑکی، لگاوٹ سے میری پینشن مجھے دینے سے پہلے ایسے کھل کر مسکراتی ہے کہ میں پینشن سے بڑھ کر اس کی دلکش مسکراہٹ کیش کرتا ہوں اچانک میں محلے کے قصائی کی دکان میں خود کو پاتا ہوں قصائی دیکھ کر مجھ کو ہمیشہ پوچھتا ہے ’پھر وہی آرڈر‘؟ میری ہاں پر وہ اک چھوٹا سا ٹکڑا بیف کا مجھکو دکھا کر پیک کرتا ہے اسے معلوم ہوگا میں کبھی اس سے زیادہ اپنی پینشن میں تصرف کر نہیں سکتا مہینے سال میں چھ اونس کا سٹیک مانگو تو بڑی حیرت سے کہتا ہے ’تمھاری آج پیدائش کا دن ہوگا‘ منگل کے دن، اسُی منگل کے دن بازار میں اک شخص ملتا ہے نہ میرا دوست ہے اس سے نہ میرا کوئی رشتہ ہے پرانی ہیٹ کو سر سے اٹھاکر سر جھکاتا ہے وہ پھر موسم کی سختی کی شکایت کرنے لگتا ہے میں ہاں میں ہاں ملاتا ہوں وہ کہتا ہے گرانی بڑھتی جاتی ہے میں ہاں میں ہاں ملاتا ہوں وہ کہتا ہے حکومت کچھ نہیں کرتی میں ہاں میں ہاں ملاتا ہوں وہ کہتا ہے میں بجلی گیس کا بل دے نہیں سکتا میرے لب بند رہتے ہیں وہ کہتا ہے میری دو بیٹیاں ہیں، چار بیٹے ہیں وہ سارے مجھ کو بے حد چاہتے ہیں جان چھڑکتے ہیں مگر سب دوسرے ملکوں میں رہتے ہیں بڑے سے گھر ہیں ان کے اپنے بزنس ہیں میں ایسے مسکراتا ہوں کہ جیسے اس کا کنبہ میرا کنبہ ہو میں اپنی کچھ نہیں کہتا کہ میرے پاس اس کے بولنے کے بعد باقی کچھ نہیں رہتا میں اک چھوٹی سی دنیا میں پلٹ کر پھر اکیلا لوٹ آتا ہوں مگر اس بار جانے کون آیا تھا میری اس خالی دنیا میں نہ جانے کون آیا تھا شاعر: مصطفٰی شہاب، لندن |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||