پرنس کی جائیداد کا بٹوارہ شروع

پرنس کی جائداد کی قیمت 100 ملئین ڈالر کے قریب ہے

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنپرنس کی جائداد کی قیمت 100 ملئین ڈالر کے قریب ہے

عالمی شہرت یافتہ امریکی گلوکار پرنس کی وفات کے بعد ان کے لواحقین نے ان کی جائیداد کا بٹوارہ کرنا شروع کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ پرنس راجرز نیلسن کی کوئی تحریری یا زبانی طور پر وصیت سامنے نہیں آئی اور ان کی جائیداد کی مالیت دس کروڑ ڈالر کے قریب ہے۔

حکام کے مطابق ان کی ہمشیرہ ٹئکا نیلسن اور ان کے سوتیلے بھائی بہن ان کی جائیداد کے وارث ہیں۔

57 سالہ پرنس کو 21 اپریل کو امریکی ریاست منیسوٹا کے شہر مینیاپلس میں ان کے گھر پر ایک لفٹ میں مردہ پایا گیا تھا۔

حکام اب تک ان کی موت کے حوالے سے تحقیقات کر رہے ہیں۔

پرنس کی بہن ٹئکا نیلسن اور ان کے سوتیلے بھائی ایلفرڈ جیکسن پیر کو منیسوٹا کی کارویری کاؤنٹی عدالت میں پیش ہوئے ہیں جہاں وکلا پرنس کی جائداد کا تخمینہ لگائیں گے۔

اگر پرنس کی کوئی وصیت نہیں ملتی تو ان کی جائیداد کا بٹوارہ کرنے کی ذمہ داری حکومت پر ہوگی۔

اس سے قبل امریکی ریاست مینیسوٹا کے پولیس سربراہ نے مایہ ناز گلوکار پرنس کے پوسٹ مارٹم کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایسے شواہد نہیں ملے کہ سپرسٹار نے خودکشی کی ہو۔

شیرف جم اولسن نے یہ بھی کہا کہ ان کے جسم پر کسی قسم کے نشان نہیں تھے۔

گلوکار کے پاس سے ان کی موت کے وقت ڈاکٹر کی طرف سے دی گئیں دوائیں ملی ہیں تاہم اب تک یہ ثابت نہیں ہو سکا کہ ان کی موت ان دواؤں کی وجہ سے ہوئی ہے۔

حکام کے مطابق وہ اب بھی تحقیقات کر رہے ہیں کہ پرنس کی موت منشیات کے زیادہ استعمال کی وجہ سے ہوئی یا پھر ڈاکٹر کی طرف سے دی گئی دواؤں کی وجہ سے۔

تحقیقاتی ٹیم اس بات کا بھی جائزہ لے رہی ہے کہ پرنس کی ہلاکت سے ایک ہفتہ قبل جب ان کی طبعیت ہوائی سفرکے دوران خراب ہوگئی تھی تو ان کا جہاز میں کسی ڈاکٹر نے معائنہ کیا تھا یا نہیں۔

جہاز کی ایمرجنسی لینڈنگ کے بعد پرنس کو ریاست ایلینوئے میں ہسپتال لے جانا پڑا تھا جہاں کچھ گھنٹے انھیں طبی امداد دینے کے بعد ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا تھا۔