امریکی جہازوں کا سامنا درست تھا: روس

گزشتہ 18 ماہ کے دوران متعدد بار روسی طیاروں پر بلقان اور برطانیہ کے قریب جرحانہ پروازیں کرنے کا الزام لگتا آیا ہے
،تصویر کا کیپشنگزشتہ 18 ماہ کے دوران متعدد بار روسی طیاروں پر بلقان اور برطانیہ کے قریب جرحانہ پروازیں کرنے کا الزام لگتا آیا ہے

روس کا کہنا ہے کہ اس کے جنگی جہازوں کی جانب سے جعمے کو بحیرۂ بلقان پر امریکی فضائیہ کے جہاز کا سامنا کرنا درست اقدام تھا۔

اس سے قبل امریکی محمکمہ دفاعی پینٹاگان نے کہا تھا کہ روسی جہازوں نے امریکی جہاز کے قریب جارحانہ اور غیر محفوظ پروازیں کی ہیں۔

روس کا موقف ہے کہ امریکی جہازوں نے اپنا نشاندہی کرنے والا نظام بند کیا ہوا تھا جس کے ذریعے ایک طیارے کی شناخت کی جاسکتی ہے۔

رواں ماہ یہ دوسرا موقع ہے جب امریکہ کی جانب سے روسی طیاروں پر بلقان میں جارحانہ پروازیں کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔

روسی وزارتِ دفاع کی جانب سے جاری کیےگئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’تمام روسی طیاروں کی پروازیں بین الاقوامی قوانین اور قوائد وضوابط کے تحت کی جاتی ہیں، امریکی فضائیہ کے پاس دو حل ہیں یا تو وہ روسی سرحد کے قریب پروازیں نہ کریں یا پھر طیاروں کی نشاندہی کا نظام بند نہ کریں۔ امریکی طیارے باقاعدگی سے اپنا نشاندہی کا نظام بند کر کے روس کی سرحد کے قریب پروازیں کرتے ہیں۔‘

خیال رہے کہ گزشتہ 18 ماہ کے دوران متعدد بار روسی طیاروں پر بلقان اور برطانیہ کے قریب جارحانہ پروازیں کرنے کا الزام لگتا آیا ہے۔

یہ ابھی واضح نہیں ہے کے جمعے کو پیش آنے والے واقعے میں روسی جہاز امریکی طیارے کے کتنے قریب پرواز کر رہے تھے۔

دوسری جانب امریکی محمکمہ دفاع کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’ امریکی طیارہ بین الاقوامی فضائی حدود میں پرواز کر رہا تھا اور کسی موقعے پر بھی روسی حدود میں داخل نہیں ہوا۔‘

ترجمان نے مزید کہا کہ ’ اس طرح کی غیر محفوظ اور غیر پیشہ ورانہ پروازوں دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی کا باعث بنتی ہیں۔‘