’فیئری ٹیلز ہزاروں برس سے سنائی جا رہی ہیں‘

،تصویر کا ذریعہPA

ایک نئی تحقیق کے مطابق بچوں میں انتہائی مقبول ’بیوٹی اینڈ دی بیسٹ‘ اور ’جیک اینڈ دی بین سٹاک‘ جیسی’فیئری ٹیلز‘ یا دیومالائی کہانیوں کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے۔

انگلینڈ کی ڈرہم اور پرتگال کی لزبن یونیورسٹی میں کی جانے والی تحقیق کے دوران اس تکنیک کی مدد لی گئی جو عمومی طور پر ماہرین حیاتیات استعمال کرتے ہیں۔

ماہرین نے دنیا بھر میں سنائی اور پڑھی جانے والی کہانیوں کا باہمی تعلق تلاش کرنے کے لیے باریک بینی سے جائزہ لیا ہے اور اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ان میں سے چند کہانیوں کی جڑیں ماقبل تاریخی دور سے جا کے ملتی ہیں۔

تحقیق کے بعد سائنسدانوں نے دریافت کیا کہ کچھ کہانیاں قدیم ترین ادبی تاریخ سے بھی پرانی ہیں اور ان میں سے ایک کہانی زمانۂ کانسی سے بھی پرانی ہے۔

اس سے قبل خیال کیا جاتا رہا ہے کہ ان کہانیوں کی تاریخ 16ویں اور 17ویں صدی عیسویں تک جاتی ہے۔

ڈرہم یونی ورسٹی کے ماہر بشریات ڈاکٹر جامی تہرانی نے اپنی ساتھی ماہر اور یونیورسٹی آف لزبن کی لوک روایات کی ماہر سارا گراسا ڈی سلوا کے ساتھ اس موضوع پر کام کیا۔

ڈاکٹر تہرانی کا کہنا ہے کہ ’ان میں سے چند کہانیوں کی تاریخ قدیم ترین ادبی تاریخ سے بھی پرانی ہے اور یقیناً دیومالائی داستانوں سے بھی پرانی ہیں۔ ان کہانیوں کے کچھ نسخے ہمیں لاطینی اور یونانی تحریروں میں بھی نظر آتے ہیں لیکن ہماری تحقیق کے نتائج کے مطابق یہ کہانیاں اس سے بھی پرانی ہیں۔‘

سائنسی جریدے رائل سوسائٹی اوپن سائنس جرنل میں شائع ہونے والی تحقیق میں نسلی ارتقا کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ اس تجزیے کا مقصد نسلی نوع کے درمیان باہمی ارتقائی رشتہ دریافت کرنا تھا۔

مذکورہ تحقیق میں مشترکہ کہانیوں کی ابتدا تلاش کرنے کے لیے انڈو یوروپین زبانوں کا شجرہ استعمال کیا گیا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ ان کہانیوں کی تاریخ کس دور تک جاتی ہے۔

ڈاکٹر تہرانی کا کہنا ہے کہ ’جیک اینڈ دی بین سٹاک‘ کی جڑیں اصل میں پانچ ہزار سال قبل کے دور میں جا کے ملتی ہیں جبکہ مشرقی اور مغربی انڈو یورپی زبانیں اپنی الگ پہچان بنا رہی تھیں۔ یہ کہانی اس وقت کی ایک کہانی ’دی بوائے ہُو سٹول اوگرز ٹریژر‘ سے جا کے ملتی ہیں۔

تحقیق میں پیش کیے جانے والے تجزیے سے پتہ چلتا ہے کہ ’بیوٹی اینڈ دی بیسٹ‘ اور ’رمپل سٹلٹ سکن‘ کے قصے تقریباً چار ہزار سال پرانے ہیں۔

ایک اور لوک کہانی ’دی سمتھ اینڈ دی ڈیول‘ جو کہ ایسے لوہار کی کہانی ہے جو جادوئی طاقت حاصل کرنے کی خواہش میں اپنی روح شیطان کے پاس گروی رکھ دیتا ہے۔ یہ کہانی ایک اندازے کے مطابق چھ ہزار سال پرانی ہے اور کانسی کے زمانے تک جاتی ہے۔

ڈاکٹر تہرانی کہتے ہیں ’ہمیں یہ بات بہت حیرت انگیز محسوس ہوتی ہے کہ یہ قصے اور کہانیاں لکھی ہوئی شکل میں نہ ہونے کے باوجود بچی رہیں۔

’یہ اس وقت سے سنائی جارہیں ہیں جبکہ انگریزی، فرانسیسی، اور اطالوی زبانوں کا وجود بھی نہیں تھا۔ یہ (کہانیاں) ممکنہ طور پر معدوم ہوجانے والی انڈو یوروپین زبان میں سنائی جاتی تھیں۔‘