سنی لیونی کے خلاف ایف آئی آر، ملک بدری کی استدعا

پولیس کا کہنا ہے کہ اس ایف آئی آر پر ابھی کوئی ایکشن نہیں لیا جائے گا اور کہا کہ نہ ہی ویب سائٹ کو بلاک کیا جاسکتا ہے

،تصویر کا ذریعہT SERIES

،تصویر کا کیپشنپولیس کا کہنا ہے کہ اس ایف آئی آر پر ابھی کوئی ایکشن نہیں لیا جائے گا اور کہا کہ نہ ہی ویب سائٹ کو بلاک کیا جاسکتا ہے

بھارت کے شہر دنبوولی میں ایک خاتون نے بالی وڈ اداکارہ سنی لیونی کے خلاف ایف آیی آر درج کرائی ہے کہ ’اداکارہ فحاشی پھیلا رہی ہیں اور بھارتی ثقافت اور معاشرے کو اپنی ویب سائٹ سے تباہ کر رہی ہیں‘۔

یہ ایف آئی آر انجلی بلن کی درخواست پر درج کی گئی ہے اور ان کا تعلق ہندو جنجاگروتی سمیتی تنظیم سے ہے۔ اس درخواست میں انھوں نے استدعا کی ہے کہ سنی لیونی کو ملک بدر کردیا جائے۔

تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ اس ایف آئی آر پر ابھی کوئی ایکشن نہیں لیا جائےگا اور کہا کہ نہ ہی ویب سائٹ کو بلاک کیا جاسکتا ہے۔

ایف آئی آر میں کہاگیا ہے کہ بھارتی نژاد کینیڈین اداکارہ سنی لیونی کی ویب سائٹ نوجوان ذہنوں میں جنسی ہوس پیدا کرتی ہے۔

بھارتی اخبار دی ہندو کے مطابق انجلی کا پولیس کو درخواست میں کہا گیا ہے کہ جب ان کو بتایا گیا کہ سنی لیونی اپنی ویب سائٹ کے ذریعے معاشرے میں فحاشی پھیلا رہی ہیں تو وہ اس پر گئیں اور واقعی اس ویب سائٹ پر فحش مواد تھا۔

انجلی نے اپنی ایف آئی آر میں نہ صرف سنی لیونی کےخلاف بلکہ ان تمام لوگوں کے خلاف ایکشن کا استدعا کی ہے جو اس ویب سائٹ پر ویڈیو اپ لوڈ کرتے ہیں۔

ہم اس ویب سائٹ کو چلانے والے سے رابطہ کر رہے ہیں تاکہ معلومات حاصل کی جا سکیں: پولیس

،تصویر کا ذریعہJism 2

،تصویر کا کیپشنہم اس ویب سائٹ کو چلانے والے سے رابطہ کر رہے ہیں تاکہ معلومات حاصل کی جا سکیں: پولیس

دی ہندو کے مطابق دنبوولی تھانے کے سینیئر انسپکٹر سنیل شیورکر کا کہنا ہے کہ پولیس نے ایف آئی آر درج کر لی ہے۔’ہم اس درخواست کے ملنے کے بعد ویب سائٹ پرگئے اور اس پر مواد کو قابل اعتراض پایا۔‘

پولیس نے ایف آئی آر میں چھ دفعات شامل کی ہیں جن میں سب سے زیادہ سزا پانچ سال قید یا دس لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں ہیں۔

ٹائمز آف انڈیا کے مطابق جوائنٹ کمشنر پولیس نے کہا ’اس ایف آئی آر پر فوری ایکشن نہیں لیا جائےگا۔ پہلے پولیس کا سائبر ونگ اس ویب سائٹ کے حوالے سے معلومات حاصل کرے گا کہ کون اس ویب سائٹ ہو چلا رہا ہے اور دیگر قانونی پہلو پر غور کرے گا۔ ہم نے یہ کیس پولیس سے پولیس کے سائبر ونگ کو منتقل کردیا ہے۔‘

پولیس کے سائبر ونگ کے انسپیکٹر جے کے ساونت نے ٹائمز آف انڈیا کو بتایا ’ہم اس ویب سائٹ کو چلانے والے سے رابطہ کر رہے ہیں تاکہ معلومات حاصل کی جا سکیں۔ ہم اس ویب سائٹ کو بلاک نہیں کر سکتے لیکن ویب آپریٹر کو قابل اعتراض مواد ہٹانے کا کہہ سکتے ہیں۔‘

سنی لیونی کے شوہر ڈینیئل ویبر جو پروڈکشن ہاؤس بھی چلاتے ہیں نے ٹائمز آف انڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا ’مجھے اس کیس کے بارے میں آن لائن ہی معلوم ہوا۔ لوگ جو مقدمہ کرنا چاہتے ہیں کریں۔ اگر کوئی کیس ہوا تو ہمارا وکیل اس کا جواب دے گا۔‘