لیجنڈ روسی بیلے ڈانسر کا جرمنی میں انتقال

پلائسیستکیا نے بولشوئی تھیئٹر میں سنہ 1943 میں شمولیت اختیار کی اور اپنے فن کی خالصیت سے دنیا بھر کے ناظرین کو مسحور کر لیا

،تصویر کا ذریعہRIA Novosti

،تصویر کا کیپشنپلائسیستکیا نے بولشوئی تھیئٹر میں سنہ 1943 میں شمولیت اختیار کی اور اپنے فن کی خالصیت سے دنیا بھر کے ناظرین کو مسحور کر لیا

روس کی ممتاز بیلے ڈانسر ماپلیٹس یسکیا کا جرمنی میں 89 سال کی عمر میں انتقال ہو گیا ہے۔

بولشوئے تھیٹر کے ڈائرکٹر ولادیمیر یورن نے ان کی موت کی تصدیق کی ہے۔

ولادیمیر نے کہا کہ ان کی موت حرکتِ قلب بند ہو جانے سے ہوئی ہے۔

روسی خبر رساں ایجنسی تاس کے مطابق انھوں نے کہا کہ ’ڈاکٹروں نے انھیں بچانے کی تمام تر کوششیں کیں لیکن انھیں بچایا نہ جا سکا۔‘

روسی صدر ولادیمیر پوتن نے ماپلیٹس یسکیا کی موت پر ’گہرے دکھ‘ کا اظہار کیا ہے اور ان کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

پلائسییستکیا نے 65 سال کی عمر میں سٹیج کو خیرباد کہا

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنپلائسییستکیا نے 65 سال کی عمر میں سٹیج کو خیرباد کہا

خیال رہے کہ مایہ ناز بیلے رقاصہ ماپلیٹس یسکیا نے بولشوئے تھیٹر میں سنہ 1943 میں شمولیت اختیار کی اور اپنے فن کی خاصیت سے دنیا بھر کے ناظرین کو مسحور کر لیا۔

سنہ 1960 میں وہ بولشوئی کی پرائما بیلرینا یعنی اہم ترین بیلے ڈانسر بنائی گئیں جو کہ انتہائی مخصوص اعزاز ہے۔

ان کے اہم کرداروں میں ’سوان لیک‘ میں اوڈیٹے اوڈائل، ’سلیپنگ بیوٹی‘ میں ارورا اور ’کارمن سوٹ‘ میں کارمن کا کردار اہم ترین تھا۔

سٹیج کو خیرباد کہنے کے بعد وہ کوریؤگرافر بن گئیں
،تصویر کا کیپشنسٹیج کو خیرباد کہنے کے بعد وہ کوریؤگرافر بن گئیں

ماپلیٹس یسکیا نے 65 سال کی عمر میں سٹیج کو خیرباد کہا اور کو کوریو گرافر یعنی رقص کے رموز سکھانے والی بن گئیں اور دنیا بھر میں گس فن کو سیکھنے کی جستجو رکھنے والوں کو اپنی ماہرانہ اور فنکارانہ تربیت سکھائی۔

وہ سنہ 1991 میں اپنے شوہر اور موسیقار روڈیون شیڈرن کے ہمراہ جرمنی منتقل ہوگئیں اور انھوں نے میونخ میں سکونت اختیار کی۔