فیض کی سوچ اب پاکستان میں کہاں ملتی ہے؟

،تصویر کا ذریعہ
- مصنف, قندیل شام
- عہدہ, بی بی اردو ڈاٹ کام، لندن
اگر فیض میلے کا مقصد ایک ایسا پاکستان ہے جس میں جمہوریت، امن، ثقافت اور سماجی برداشت ہو تو کیا یہ میلہ وہ کر سکا یا پھر ابھی تک یہی ہے کہ ’وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں؟‘
محبتوں اور احساسات کے شاعر فیض احمد فیض کو گزرے 30 برس ہو گئے۔ رہ گئی تو ان کی شاعری یا پھر ۔
پچھلے ہفتے فیض کلچرل فاؤنڈیشن کی جانب سے منعقد کیا جانے والا سالانہ میلے کے سلسلے میں یونیورسٹی آف لندن کا لوگن ہال فیض کے چاہنے والوں سے بھرا ہوا تھا۔ ادیبوں، شاعروں، دانشوروں اور سیاسی رہنماؤں کے علاوہ رقص و موسیقی کے کئی فنکار بھی وہاں موجود تھے۔
میں نے موسیقار ارشد محمود کو جا لیا۔ پوچھا کہ کیا فیض کی سوچ آج کے پاکستان میں کہیں ملتی ہے؟
’فیض باتیں ہی کچھ ایسی کر گئے ہیں جن کا زندگی سے رشتہ امر ہے۔ انھوں نے انسان کے احساسات اور جذبات کے بارے میں لکھا۔ انسانیت کی قدر ان کی شاعری میں گڑی ہے۔ اس لیے جو بھی انھیں پڑھتا ہے اسے لگتا ہے وہ ہماری ہی بات کر رہے ہیں۔‘
لیکن ان کی بیٹی سلیمہ ہاشمی میرے سوال پر ہنس پڑیں: ’آج ہر قسم کے سیاست دان یا پارٹی کو جب کوئی اور لفظ نہیں ملتے تو وہ فیض کے کلام کی جانب بھاگتے ہیں۔ ایک وقت تھاجب فیض کا نام لینا یا ان کا شعر پڑھنا میڈیا میں بلکل منع تھا لیکن آج میرے خیال میں فیض ہی مدد کو آتا ہے۔‘
ڈاکٹر دانشور اور مفکر پرویز ہودبھائی نے بس اتنا کہا کہ ’اب صدیوں کے اقرار اطاعت کو بدلنے، لازم ہے کہ انکار کا فرماں کوئی اترے۔‘

،تصویر کا ذریعہ
ان کی باتوں میں تلخی زیادہ تھی یا مایوسی، میں فیصلہ نہ کر پائی اور سیاست دان میاں افتخار حسین کے پاس جا پہنچی جو کچھ یوں گویا ہوئے: ’ترقی پسندی کو اپنانا، سماجی انصاف کو اپنانا، دہشت گردی کا خاتمہ کرنا، امیر اور غریب کا فرق مٹانا، یعنی انسان کو انسان سمجھنا، اگر یہ فیض ہے تو آج ہم فیض کے سامنے شرمندہ ہیں۔ وہ جس نظام کے لیے لڑتے رہے وہ تو آج اور بھی اوجھل نظر آتا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیکن کیا ہمیشہ سے ایسا ہی نہیں تھا؟ یا پھر یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر ہمیشہ سے ایسی ہی تھی؟
ڈاکٹر ہودبھائی کہنے لگے: ’جب میں دس سال کا تھا اور کراچی میں رہتا تھا تو ہمارے آس پاس بہت سے عیسائی تھے، پارسی تھے، ہندو تھے۔ لیکن اب اس سارے علاقے میں کوئی مذہبی اقلیت نہیں بچی اور جو ہیں وہ پاکستان کو خوف کی نظر سے دیکھتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ وہ ملک سے جلد از جلد نکل جائیں۔‘
اور ان کے مطابق ایک بنیادی چیز جو ہمیں فیض اور ان کی سوچ سے دور لے جا رہی ہے وہ ہمارے بچوں کی ’غلط‘ تعلیم ہے۔ ’آج بچوں کو سکولوں میں یہی پڑھایا جاتا ہے کہ ہمارے اردگرد بس دشمن ہی دشمن ہیں اور یوں ان کے دماغوں میں نفرتیں کوٹ کوٹ کر بھر دی جاتی ہیں۔ قاعدے میں پڑھایا جاتا ہے کہ ’ا‘ سے اللہ ’ب‘ سے بندوق اور ’ج‘ سے جہاد۔‘
اور سینیٹر افراسیاب خٹک کے مطابق یہ سنہ 1977 کے بعد سے ہوا کہ فیض اور پاکستان کے راستے جدا ہوئے، یعنی پاکستانی معاشرے میں تحمل نے دم توڑا:
’تحمل سے میری مراد انسان کا وہ بنیادی حق ہے کہ وہ کہہ سکیں کہ میرا عقیدہ یہ ہے۔ لیکن اب لوگ کہتے ہیں کہ تمہارا عقیدہ غلط ہے اور پھر وہاں پر بھی نہیں ٹھہرتے اور کہتے ہیں اس غلط عقیدے کو مٹانا ضروری ہے۔‘
تاہم سینیٹر خٹک کو آج بھی پاکستانی عوام میں فیض کی روح دکھائی دیتی ہے گو پاکستانی الیٹ یا اشرافیہ اس سے بہت دور ہے۔ سیاسی الیٹ کا حوالہ دیتے ہوئے وہ کہتے ہیں: ’فیض کا نام تو بہت لوگ لیتے ہیں، لیکن لگتا ہے کہ یہ بھی اب خود اپنی ہی پیروڈی بن چکا ہے۔ اس وقت اسلام آباد میں جو انقلابی ہیں، جو نعرے بازی کو اپنا بنیادی حق سمجھتے ہیں، ان کے خیال میں سیاسی ورکروں کی قربانیاں صرف ان کی نعرے بازی کے حق کے لیے تھیں۔ اسی لیے لوگوں نہ جیلیں کاٹیں، اسی لیے جلاوطنی بھگتی۔ کیا انھیں یہ احساس ہے کہ فیض نے جو راستہ دکھایا تھا وہ جدوجہد کا راستہ تھا۔ ہمیں اپنی نئی نسل کو یہ بتانا چاہیے کہ جدوجہد کے بغیر کچھ نہیں ہوتا۔‘
لندن میں فیض میلے کے ماحول، مقررین اور فن کاروں کی باتوں اور لوگوں کی شمولیت سے تو یہی لگا کہ فیض کے پیغام کی آج بھی بہت سے پاکستانیوں کے دل میں جگہ ہے۔ لیکن اگر پاکستان کو دیکھیں تو؟
ارشد محمود نے فیض کی کتاب شامِ شہریاراں سے یہ نظم گنگنائی ’تم دل کو سنبھالو جس میں ابھی، سو طرح کے نشتر ٹوٹیں گے۔‘







