’طالبان جیسی تنظیمیں فقط فوجی کارروائیوں سے ختم نہیں ہو سکتیں‘

موجودہ حالات کو سمجھنے کے لیے میں نے درجنوں افغان اور پاکستانی فوجی اور پولیس افسران کا انٹرویو کیا

،تصویر کا ذریعہAMAZON

،تصویر کا کیپشنموجودہ حالات کو سمجھنے کے لیے میں نے درجنوں افغان اور پاکستانی فوجی اور پولیس افسران کا انٹرویو کیا
    • مصنف, حسن عباس
    • عہدہ, امریکہ

آج سے تقریباً چار سال قبل جب ییل یونیورسٹی پریس کی ایک معروف ایڈیٹر نے مجھ سے دریافت کیا کہ طالبان پر کتاب لکھنے میں مجھے کتنا عرصہ درکار ہو گا تو بغیر سوچے سمجھے میں نے کہا ’چار مہینے۔‘

میں اس وقت کولمبیا یونیورسٹی نیویارک میں قائد اعظم پروفیسر تھا اور پاکستان میں اپنے دوستوں سے مسلسل رابطے میں تھا۔ دوستوں کی اکثریت کا تعلق صحافت یا شعبۂ تعلیم سے تھا۔ کچھ پولیس اور فوجی افسران سے بھی راہ و رسم تھی۔ والد مرحوم فوج کے شعبۂ درس و تدریس سے تعلق رکھتے تھے اور مجھے خود پاکستان پولیس سروس میں نوکری کرنے کا موقع ملا تھا۔ لہٰذا مجھے یقین تھا کہ طالبان کے بارے میں کتاب لکھنے کے لیے مجھے جو مواد چاہیے وہ آسانی سے بہم پہنچے گا۔

مگر کتاب شروع کرنے کے چند ہی دنوں میں مجھے اندازہ ہوا کہ یہ کام انجام دینے کے لیے مجھے اپنے قاری کو پہلے تاریخ کے ان ادوار سے روشناس کرانا ہو گا جو طالبان کے وجود کا پیش خیمہ بنے۔

تاریخ کے اوراق سے نبرد آزما ہوا تو اس بات کی اشد ضرورت محسوس ہوئی کہ نہ صرف برِصغیر پاک و ہند میں مذہبی شدت پسند رحجانات کا تجزیہ کتاب میں شامل کرنا ہو گا بلکہ یہ ادراک بھی ہوا کہ افغانستان کی سیاسی اور سماجی تاریخ کو بیان کرنا بھی اہم ہے۔ اپنے ایڈیٹر کو یہ یقین دلانا آسان نہ تھا کہ ان سب باتوں کا تذکرہ کتاب کا اہم حصہ ہے۔

ناشر کی خواہش یہ تھی کہ میں کتاب کا آغاز ہی اکتوبر 2001 سے کروں جب طالبان کو پسپائی کا سامنا تھا۔ بہرصورت تقریباً ایک برس تو اس تاریخ کو سمجھنے اور لکھنے میں صرف ہوا۔

موجودہ حالات کو سمجھنے کے لیے میں نے درجنوں افغان اور پاکستانی فوجی اور پولیس افسران کا انٹرویو کیا۔ کچھ صحافی دوستوں کی مدد سے چند افغان طالبان اور پاکستانی انتہا پسند تنظیموں کے ممبران سے گفتگو کا موقع بھی ملا۔ تقریباً ایک سال اس ریسرچ میں صرف ہوا۔ میں نے بھرپور کوشش کی کہ میں پاکستانی، افغان اور امریکی نقطۂ نظر کو اپنے تجزیے میں نہ صرف شامل کروں بلکہ اپنی ذاتی رائے کو مکمل طور پر آزاد اور منصفانہ رکھ سکوں۔

ظاہر ہے کہ میری بھرپور خواہش ہے میری کتاب کو پڑھا جائے مگر میں یہاں اپنی کتاب کی چند چیدہ چیدہ باتوں کا ذکر کرنا چاہوں گا۔

قدرِ مشترک

افغان اور پاکستانی طالبان میں قدرِ مشترک یہ بات ہے کہ دونوں کی واضح اکثریت پختونوں پر مشتمل ہے اور انھوں نے پختون رسم و رواج کی ایک بگڑی ہوئی شکل کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا ہے۔ اس کےعلاوہ پنجابی طالبان کی اکثریت جو ’جہاد‘ کشمیر سے تعلق رکھتی ہے، اس نے بھی اپنی جہالت کا مظاہرہ اسی بینر تلے کیا۔

افغان اور پاکستانی طالبان

افغان طالبان تو 1980 کی دہائی میں ہونے والے افغان جہاد کا منطقی انجام ہیں۔ مگر پاکستانی طالبان 9/11 کے بعد کی پیداوار ہیں اور ان کے ارتقا میں پاکستانی ریاست کی خوفناک غلطیاں کارفرما رہی ہیں۔ 2004 سے لے کر 2007 تک مشرف حکومت نے فاٹا کے جنگجوؤں کے ساتھ جب ’امن معاہدے‘ کیے تو وہ بہت نقصان دہ ثابت ہوئے۔ لال مسجد کے واقعے اور سوات کے مسئلے کے حل میں تاخیر نے مسائل کو اور گھمبیر کر دیا۔

فوجی آپریشن میں تاخیر

فوجی آپریشن کم از کم دو برس کی تاخیر سے شروع ہوا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنفوجی آپریشن کم از کم دو برس کی تاخیر سے شروع ہوا ہے

اب موجودہ صورتِ حال میں پاکستانی طالبان کے تانے بانے نہ صرف القاعدہ اور اس جیسی تنظیموں سے مستحکم بنیادوں پر استوار ہو چکے ہیں بلکہ اس نے بہت سے ایسے جرائم پیشہ گروہوں کے ساتھ بھی پینگیں چڑھا لی ہیں جو پورے ملک میں پھیلے ہوئے ہیں۔

شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن ایک اہم پیش رفت ہے مگر یہ کم از کم دو برس کی تاخیر سے شروع ہوا ہے اور پاکستانی طالبان نےبھرپور انداز میں اس کا فائدہ حاصل کیا ہے۔ اس شدت پسند تنظیم سے لڑنے کے لیے پاکستان کو کم از کم پانچ سال کا عرصہ درکار ہو گا۔

بری سوچ اور گولی

ایسی تنظیمیں فقط فوجی کارروائیوں سے ختم نہیں ہو سکتیں۔ بری سوچ کو گولی کی زد میں نہیں لایا جا سکتا۔ پاکستان کی پولیس اور عدالتوں کو اس ضمن میں ایک اہم کردار ادا کرنا ہو گا اور اس کے لیے ان کو بہت سے وسائل کی ضرورت ہو گی۔ پاکستان کو یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ اس کو ایف 16 طیارے چاہییں یا پولیس کے لیے بہتر تربیت اور اسلحہ۔

پاکستانی پولیس یقیناً نااہل ہے لیکن اس کی بڑی وجہ حکومت کی بے توجہی ہے۔

نیا افغانستان

یہ حقیقت ہے کہ امریکی امداد کے بغیر افغانستان میں جمہوری اداروں کا مستقبل بہت خطرے میں پڑ سکتا ہے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنیہ حقیقت ہے کہ امریکی امداد کے بغیر افغانستان میں جمہوری اداروں کا مستقبل بہت خطرے میں پڑ سکتا ہے

مختصراً یہ کہ افغان طالبان کے کچھ حلقے ایسے ضرور ہیں جو یہ سمجھ چکے ہیں کہ انھیں شدت پسندی کا راستہ چھوڑنا ہو گا اور افغان جمہوریت کے دائرے میں شامل ہونا ہو گا۔ مگر پاکستانی طالبان میں ایسی کوئی امید نظر نہیں آتی۔

باوجود اس کے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں سے افغانستان میں کئی غلطیاں ہوئیں، نیا افغانستان اب اپنے ارتقائی مراحل سے گزر رہا ہے اور بہت سے نئے ادارے مستحکم ہو رہے ہیں۔ اس عرصے میں ملا عمر اور ان کے ساتھیوں کے لیے کابل کے دروازے ہمیشہ کے لیے بند ہو جائیں گے۔ ہاں وہ پشتون اکثریتی علاقوں میں ضرور اپنی کارروائیاں جاری رکھ سکتے ہیں۔

یہ حقیقت ہے کہ امریکی امداد کے بغیر افغانستان میں جمہوری اداروں کا مستقبل بہت خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

میری نظر میں طالبان اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان اور افغانستان سے فرقہ پرستی کی لعنت کو ختم کیا جائے اور یہ تعلیم اور مذہبی رواداری کے بغیر ممکن نہیں۔

اسلام اخوت اور بھائی چارے کا سبق دیتا ہے مگر بدقسمتی سے اسلام کے ٹھیکیدار بنے بیٹھے افراد جن میں کئی ملا شامل ہیں، ہمیں جہالت اور حماقت کی جانب دھکیل رہے ہیں۔

ایسے میں ان اولیا اور صوفیا کا پیغام سمجھنا بہت ضروری ہو گیا ہے جو اس خطے میں اولاً اسلام کا پیغام لے کر آئے تھے۔