نِنٹینڈو کا ’ہم جنس‘ گیم کا وعدہ

ٹومو ڈاچی لائف اب تک سب سے زیادہ فروخت ہونے والی گیم ہے

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنٹومو ڈاچی لائف اب تک سب سے زیادہ فروخت ہونے والی گیم ہے

ویڈیو گیمز بنانے والی مشہور جاپانی کمپنی ’نِنٹینڈو‘ نے کہا ہے کہ وہ اپنی گیم ’ٹومو ڈاچی‘ میں ہم جنس پرست کرداروں کی غیرموجودگی پر پشیمان ہے تاہم فی الحال اس میں یہ کردار شامل نہیں کیے جا سکتے۔

کمپنی نے یہ بیان نِنٹینڈو کے ایک صارف کی سوشل میڈیا میں جاری ایک مہم کے جواب میں دیا ہے جس میں صارف کا مطالبہ ہے کہ یہ گیم کھیلنے والے کو یہ سہولت ہونی چاہیے کہ وہ ایک ہی جنس کے کرداروں کے درمیان تعلقات کا روپ دھار سکیں۔

صارف کی دلیل ہے کہ چونکہ عام زندگی میں ایک ہی جنس کے حامل اصل انسانوں کے درمیان تعلقات کوئی اچھنبے کی بات نہیں اس لیے نِنٹینڈو میں بھی ایسا کرنا ممکن ہونا چاہیے۔

لیکن نِنٹینڈو کا کہنا ہے کہ انھوں نے جب اس گیم کو لانچ کیا تو اس کا مقصد معاشرتی تعلقات پر تبصرہ کرنا نہیں تھا تاہم مستقبل میں آنے والے ورژن میں ایسے کردار دستیاب ہوں گے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم بہت سے صارفین کو مایوس کرنے پر معذرت خواہ ہیں۔ بدقسمتی سے اس وقت گیم کا ڈیزائن بدلنا ممکن نہیں لیکن ہم پرعزم ہیں آنے والے ورژن میں ایسا کر پائیں۔‘

یاد رہے کہ نینٹڈو کی گیم ’ٹومو ڈاچی لائف‘ کو جاپان میں بہت پذیرائی ملی ہے اور کمپنی اسے جون میں امریکہ اور یورپ بھر میں متعارف کرانے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔

کپمنی کی امریکی شاخ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ٹومو ڈاچی میں کرداروں کے درمیان تعلقات کی آپشن محض کھیل کی حد تک ہے اور یہ آپشن اصل انسانی زندگی کی عکاسی کا دعویٰ نہیں کرتی۔‘

’ہمیں امید ہے کہ ہماری گیمز کے شائقین خود دیکھ لیں گے کہ ’ٹومو ڈاچی لائف‘ کا مقصد شائقین کو ایک دلچسپ تخیلاتی گیم مہیا کرنا ہے اور اس گیم کی بنیاد پر ہم کسی قسم کا معاشرتی تبصرہ کرنے کی قطعاً کوشش نہیں کر رہے ہیں۔‘

ٹومو ڈاچی لائف کو جاپان میں ہاتھوں ہاتھ لیا گیا ہے اور یہ نِنٹینڈو کی تھری ڈی ایس گیمز میں سب سے زیادہ فروخت ہو رہی ہے۔ اسے جاپان میں گذشتہ برس لانچ کیا گیا تھا اور اس گیم کا مرکزی ورچوئل کردار کا نام ’می‘ ہے جو ایک تخلیاتی جزیرے پر رہتا ہے۔ گیم میں یہ سہولت موجود ہے کہ کھیلنے والا اپنی مرضی کے دوسرے ’می‘ کردار تخلیق کر کے انھیں گیم کی ورچوئل دنیا میں مرکزی کردار کے گھرانے کے افراد، دوستوں یا اس قسم کے دوسرے کرداروں کی شکل میں متعارف کر سکتا ہے۔

امریکی ریاست ایریزونا کے تئیس سالہ ٹائی مرینی نے معاشرتی رابطوں کی ویب سائیٹ پر مہم چلا رکھی ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ نِنٹینڈو کو چاہیے کہ وہ گیم میں کرداروں کے درمیان ہم جنس تعلقات کی آپشن بھی مہیا کرے۔ ٹامی مرینی خود بھی گے ہیں اور ان کا گلہ ہے کہ چونکہ گیم میں ان کا ورچوئل کردار کسی دوسرے مرد سے شادی نہیں کر سکتا اس لیے وہ دیگر صارفین کے برعکس گیم میں دی گئی ایک اچھی آپشن کو استعمال نہیں کر پائیں گے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس سے بات کرتے ہوئے ٹائی مرینی کا کہنا تھا:’ میں گیم کے اندر شادی کرنا چاہتا ہوں، لیکن میرے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں کہ میں ایک زنانہ کردار سے شادی کر لوں، یا پھر اپنے کردار کی جنس تبدیل کر دوں اور اگر میں ایسا نہیں کرتا تو میں ٹوموڈاچی میں دی گئی ایک اتنی اچھی آپشن کو مِس کر جاؤں گا۔‘