’اے میرے وطن کے لوگو‘ گیت کی کہانی

،تصویر کا ذریعہMitul Pradeep
بھارت کی معروف پلے بیک سنگر لتا منگیشکر کے معروف گیت ’اے میرے وطن کے لوگو‘ کی گولڈن جوبلی تقریب 27 جنوری سنہ 2014 بروز اتوار ممبئی میں منائی جا رہی ہے۔
سب سے پہلے لتا منگیشکر نے شاعر پردیپ کے لکھے اس نغمے کو 27 جنوری 1963 کو بھارت کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کے سامنےگایا تھا۔
سنہ 1990 کی دہائی میں بی بی سی کے نریش کوشک سے ایک مخصوص ملاقات کے دوران اس گیت کے خالق شاعر پردیپ نے اس کی بابت یہ دلچسپ کہانی بذات خود بتائي تھی۔ شاعر پردیپ نے اس گیت کے بارے میں کہا:
’سنہ 1962 میں ہونے والی بھارت چین جنگ میں بھارت کو شکست ہوئی تھی۔ پورے ملک کا مورال گرا ہوا تھا۔ لوگ شکست خوردہ محسوس کر رہے تھے۔ ایسے میں سب کی نگاہیں فلمی دنیا اور شاعروں کی طرف اٹھیں کہ وہ کسی طرح لوگوں میں جوش بھریں اور اس شکست خوردگی کے عالم سے نکالیں۔
’حکومت کی طرف سے فلمی دنیا کو کہا جانے لگا کہ بھئی اب آپ لوگ ہی کچھ کیجیے۔ کچھ ایسی تخلیق سامنے لائیے کہ پورے ملک میں ایک بار پھر سے جوش آ جائے اور چین سے کے ہاتھوں ہونے والی شکست کے زخموں پر مرہم رکھا جا سکے۔

،تصویر کا ذریعہLata Mangeshkar
’مجھے پتہ تھا کہ یہ کام پھوکٹ (مفت) میں کرایا جائے گا۔ اس میں پیسہ تو ملنا نہیں تو میں اس سے بچتا رہا۔ لیکن آخر کب تک بچتا۔ میں لوگوں کی نگاہ میں آ گیا۔ چونکہ میں نے پہلے بھی حب الوطنی کے نغمے لکھے تھے اس لیے مجھ سے کہا گیا کہ ایسا ہی ایک حب الوطنی کے جذبے سے سرشار گیت لکھا جائے۔
’اس دور میں فلمی دنیا میں تین عظیم آوازیں ہوا کرتی تھیں _ محمد رفیع، مکیش اور لتا منگیشکر۔
’اسی دوران نوشاد بھائی نے تو محمد رفیع کی آواز میں ’اپنی آزادی کو ہم ہرگز بھلا سکتے نہیں‘ پیش کر دیا۔ یہ گیت بعد میں دلیپ کمار کی فلم ’’لیڈر‘‘ میں استعمال ہوا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’راج کپور صاحب نے مکیش سے ’جس دیش میں گنگا بہتی ہے‘ میں گیت گوائے۔ تو اس طرح سے رفیع اور مکیش تو پہلے ہی ریزرو ہو گئے۔
’اب بچيں لتا۔ ان کی مخملیں آواز میں کوئی پرجوش گانا فٹ نہیں بیٹھتا۔ یہ بات میں جانتا تھا۔
’تو مجھ میں وطنی جذبات سے لبریز ایک گیت لکھنے کا خیال پیدا ہوا۔ اس طرح سے ’’اے میرے وطن کے لوگو‘‘ گیت کا جنم ہوا۔ اسے لتا نے پنڈت جی (جواہر لال) کے سامنے گایا اور ان کی آنکھوں سے بھی آنسو چھلک آئے۔‘
واضح رہے کہ اس سے قبل سنہ 1952 میں آنے والی فلم ’جاگرِتی‘ میں شاعر پردیپ کا تخلیق کردہ گیت ’دے دی ہمیں آزادی‘ بھی بہت مشہور ہوا تھا۔ یہ گانا مہاتما گاندھی کے نام معنون کیا گيا تھا۔







