’چولی کے پیچھے‘ پر بھی خوب ہنگامہ ہوا تھا

بالی وڈ میں گذشتہ کچھ عرصے کے دوران’شیلا کی جوانی،‘ ’منی بدنام ہوئی،‘ ’پارٹی یوں ہی چلے گی‘ جیسے فلمی نغموں میں قابل اعتراض الفاظ کے استعمال کے الزامات لگتے رہے ہیں۔
کیا فلمی گانوں میں اس طرح کے الفاظ مقبول ہو رہے ہیں اور گانوں میں ایسے سطحی الفظ کا استعمال کیوں ہوتا ہے؟
اداکارہ مادھوری دکشٹ کا اس بارے میں کہنا ہے کہ 1993 میں ان کی فلم کھل نائیک کے نغمے ’چولی کے پیچھے‘ پر بھی خوب ہنگامہ ہوا تھا اور اس پر لوگوں نے احتجاج کیا تھا:
’لیکن جب فلم میں لوگوں نے اس کو دیکھ تو سب خاموش ہو گئے، نغمہ لوگوں کو پسند آیا اور مخالفت کرنے والے بھی تالیاں بجا کر اس پر رقص کرنے لگے۔‘
مادھوری دکشٹ کے بقول یہ بات اہم ہوتی ہے کہ نغمے کو پردے پر پیش کس طرح کیا جاتا ہے، اگر اچھے انداز میں بغیر کسی بھونڈے پن کے پیش کیا جائے تو لوگوں کو تکلیف نہیں ہوتی۔
مادھوری دکشٹ نے اپنی آنے والی نئی فلٹ’ ڈیڑھ عشقیہ‘ کی پروموشن پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں اچھے مصنف اور اچھے گیت لکھنے والے چاہیے اور پھر ہی صورت حال بہتر ہو گی۔‘
تاہم مادھوری کے مطابق پہلے کے مقابلے میں اب صورت حال بہتر ہوئی ہے۔
’اب ہم پہلے سے کہیں زیادہ ڈسپلن ہے۔ ورنہ پہلے تو یہ بھی ہوتا تھا کہ ہم میک اپ کر کے سیٹ پر پہنچ جاتے تھے لیکن شوٹنگ شروع نہیں ہو پاتی تھی کیونکہ مصنف سیٹ پر ڈائیلاگ لکھ رہا ہوتا تھا۔ اب سب کچھ منصوبہ بندی سے ہوتا ہے اور ہمیں سب تیار ملتا ہے ارو شوٹنگ وقت پر ختم ہو جاتی ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
شادی کے بعد اپنے خاندان اور کریئر کو وقت دینے سے متعلق مادھوری نے کہا کہ ’میں کوئی انوکھا کام تو نہیں کر رہی ہوں۔ ہر کاروباری خاتون ایسا کرتی ہے۔ گھر کا کام بھی کرتی ہے، دفتر بھی جاتی ہے۔ اس میں میں کیا مختلف کر رہی ہوں۔‘
فلموں میں واپسی سے پہلے مادھوری اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ امریکہ میں رہ رہی تھیں۔
امریکہ اور ممبئی کی زندگی کے بارے میں فرق بتاتے ہوئے مادھوری نے کہا کہ امریکہ میں وہ آزادی سے گھومتی تھیں کیونکہ کوئی ان کو جانتا نہیں تھا لیکن ممبئی میں یہ نہیں ہو پاتا مگر پھر بھی وہ ممبئی کو ہمیشہ سب سے زیادہ پسند کرتی ہیں۔
مادھوری کی فلم’ڈیڑھ عشقیہ‘ دس جنوری کو ریلیز ہو رہی ہے، جس میں ان کے ساتھ نصیر الدین شاہ، ارشد وارثی اور ہما قریشی کا اہم کردار ہے۔







