’دلیپ کمار کو پشاور کی مٹی کی خوشبو آج بھی یاد‘

- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
برصغیر کے معروف اداکار دلیپ کمار کی 91ویں سالگرہ بدھ کو پشاور میں بھی منائی گئی۔
اس موقع پر ان کی بیوی سائرہ بانو کا ٹیلیفون پر کہنا تھا کہ دلیپ کمار کو پشاور کی مٹی کی خوشبو آج بھی یاد ہے۔
یہ تقریب پشاور پریس کلب میں منعقد ہوئی اور اس میں مقامی سینیئر اداکاروں اور دانشوروں کے علاوہ بھارتی فلم سٹار شاہ رخ خان کی چچا زاد بہن نورجہاں نے بھی شرکت کی۔
سائرہ بانو نے ٹیلیفون پر باتیں کرتے ہوئے کہا کہ دلیپ کمار پشاور کو آج بھی یاد کرتے ہیں اور ان کے لیے پشاور کی مٹی کی الگ ہی خوشبو ہے اور ان کی دعا ہے کہ اللہ پشاور کی مٹی کی یہ خوشبو ہمیشہ برقرار رہے۔
سائرہ بانو اللہ کا شکر ادا کر کے بولتی رہیں اور انھوں نے کہا کہ ان کے لیے یہ بہت بڑی بات ہے کہ وہ یوسف میاں (دلیپ کمار) کی ہمسفر بنی ہیں۔
دلیپ کمار مصروفیات کی وجہ سے ٹیلیفون پر بات نہیں کر سکے۔
سائرہ بانو نے بتایا کہ دلیپ کمار کی صحت اب بہت بہتر ہے اور سالگرہ سے پہلے ہی لوگوں کا تانتا بندھ جاتا ہے جس سے ان کی مصروفیت بڑھ جاتی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ دلیپ کمار نے چند روز پہلے ایک شادی کی تقریب میں بھی شرکت کی ہے۔
اس تقریب سے وحیدہ رحمان، ساغر سرحدی اور جانی لیور نے بھی خطاب کیا اور دلیپ کمار کی پشاور سے وابستگی کا ذکر کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ تقریب کلچرل ہیری ٹیج کونسل نے منعقد کی تھی۔ اس تنظیم کے جنرل سیکرٹری شکیل وحیداللہ خان نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ دوسرا سال ہے کہ وہ دلیپ کمار کی سالگرہ ان کی آبائی شہر پشاور میں منا رہے ہیں اور اب ان کا منصوبہ ہے کہ پشاور اور خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے دیگر ایسے اداکاروں اور گلوکاروں کی سالگرہ کا دن بھی منائیں جو اب یا بھارت میں ہیں یا پاکستان فلم انڈسٹری کے بڑے ستارے بن چکے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ انڈین فلم انڈسٹری میں بڑی تعداد میں پشاور سے تعلق رکھنے والے اداکار ہیں جن میں راج کپور کے خاندان کے علاوہ ونود کھنہ، منوج کمار، مقبول فلم کبھی کبھی کے ڈائریکٹر ساغر سرحدی، انیل کپور اور بڑی تعداد میں دیگر اداکار بھی ہیں جو پشاور آنا بھی چاہتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ شاہ رخ خان، انیل کپور اور ونود کھنہ نے کئی مرتبہ اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ وہ پشاور آنا چاہتے ہیں۔
شکیل وحیداللہ نے کہا کہ دلیپ کمار کا پشاور میں آبائی مکان خستہ حال ہے اس لیے حکومت کو چاہیے کہ اس قومی ورثے کو بحال کیا جائے۔







