ریکھا کی شخصیت میں امیتابھ کا کردار

اگر 11 اکتوبر بالی وڈ کے معروف اداکار امیتابھ بچن کا یومِ پیدائش ہے تو دس اکتوبر کو معروف اداکارہ ریکھا پیدا ہوئی تھیں۔
جمعرات کو ریکھا کی 59 ویں سالگرہ تھی۔ ریکھا کو جہاں ان کی بہترین اداکاری کے لیے یاد کیا جاتا ہے، وہیں ان کی پراسراریت بھی ان کی جاذب نظر شخصیت کا حصہ رہی ہیں۔
بی بی سی کی مدھوپال نے ممبئی میں ان کی سالگرہ کے موقعے سے چند ایسی شخصیتوں سے ملاقات کی جو ریکھا سے اچھی طرح سے واقف رہی ہیں۔
سینیئر صحافی رؤف احمد ریکھا کو اس وقت سے جانتے ہیں جب وہ فلموں کے لیے لکھا کرتے تھے۔
انھوں نے بی بی سی کو بتایا: ’ریکھا آج جیسی نظر آتی ہیں اس میں امیتابھ بچن کا بڑا کردار ہے۔ 1976 میں بننے والی فلم ’دو انجانے‘ میں انھوں نے امیتابھ کے ساتھ کام کیا تھا۔‘
انھوں نے بتایا کہ ’اس فلم کے بعد سے وہ ہر معاملے میں امیتابھ بچن کی رائے لینے لگیں۔ انھیں کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں کرنا چاہیے، وہ سب امیتابھ ہی پوچھتيں۔‘
صحافی رؤف کے خیال میں ’ریکھا کو بہر حال ایک گرو اور رہنما کی ضرورت تھی۔‘

رؤف کہتے ہیں کہ ’ریکھا کی خوبی یہ ہے کہ وہ اپنی بات انتہائی صاف اور واضح انداز میں پیش کرنے پر یقین رکھتی ہیں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
رؤف احمد نے ریکھا کے بارے میں ایک بات بتائي کہ ’ریکھا کبھی بھی دوپہر دو بجے سے پہلے اپنی کوئی تصویر نہیں كھنچواتي تھیں۔ ان کا ماننا تھا کہ صبح کے وقت چہرے پر ایک قسم کی سوزش رہتی ہے جو تقریباً ایک بجے تک چلی جاتی ہے۔‘
سنیئیر صحافی کہتے ہیں: ’ایک وقت میں وہ ایک ہی فوٹو گرافر کے ساتھ کام کرتی تھیں۔ اگر انھیں اپنی کوئی تصویر اچھی نہیں لگتی تھی تو وہ اس تصویر کو فوری طور پر ضائع کروا دیتی تھیں۔ وہ ہمیشہ فوٹو گرافر کے پیچھے ایک قد آدم آئینہ رکھواتیں تاکہ وہ بذاتِ خود یہ دیکھ سکیں کہ وہ کیسی نظر آرہی ہیں۔‘
رؤف احمد کے مطابق ریکھا کو اگر مختصراً بیان کرنا ہو تو یہ ہے کہ ’ریکھا ایک دلچسپ پہیلی ہیں، جو مانگ میں سندور لگاتی ہیں، پراسرار زندگی بسر کرتی ہیں اور کبھی تنہائی کی شکایت نہیں کرتیں۔‘
دوسری جانب سینیئر صحافی پروين بھاردواج کا کہنا ہے کہ ریکھا نے بہت کم عمر میں فلموں میں کام کرنا شروع کر دیا تھا اس کی وجہ سے انھیں فلمیں منتخب کرنے کی پرکھ ہی نہیں تھی۔

پروين کے مطابق: ’ریکھا کو یوں محسوس ہوتا تھا کہ انھیں جو بھی فلم مل رہی ہے وہ کر لینی چاہیے۔ لیکن آگے چل کر ان کو یہ احساس ہوا کہ انہیں صحیح انتخاب کرنے ہوں گے۔‘
پروين نے بتایا: ’جنوبی بھارتی فلموں سے آنے کی وجہ سے وہ شروع میں تھوڑی موٹی تھیں، ان کا رنگ بھی سانولا تھا۔ آج کوئی ان کی پرانی تصویر دیکھ لے تو یقین نہیں کرے گا کہ یہ ریکھا ہے۔ بہر حال انھوں نے رفتہ رفتہ یہ جان لیا کہ اپنی لُكس (شکل) پر کام کرنا کتنا ضروری ہے۔‘
پروين کے مطابق پہلے لوگ انہیں طنز کا نشانہ بناتے تھے۔ انہیں ’اگلي ڈكلنگ‘ یعنی بدصورت بطخ کہا کرتے تھے۔ ’لیکن پھر ریکھا نے طے کیا کہ وہ اپنی اس تصویر کو تبدیل کر کے رہیں گی۔ یوگا اور مراقبے کے ذریعہ انہوں نے اپنے جسم میں مختلف قسم کی تبدیلیاں کیں۔‘
صحافی ادے تارا کا کہنا ہے کہ ریکھا سے ان کی ملاقات سنہ 1971 میں فلم اعلان کے سیٹ پر ہوئی تھی۔
ادے کے مطابق ریکھا کو چاکلیٹ کھانا بہت پسند تھا اور وہ بہت چلبلی تھیں۔ ریکھا کو شروع میں لمبے لمبے جملے والے ڈائیلاگ سے ڈر لگتا تھا۔
انھوں نے کہا کہ ریکھا ایک اچھی اداکارہ کے ساتھ ایک اچھی گلوکارہ بھی ہیں۔ انھیں کتوں سے بہت پیار ہے۔







