کباڑی سے کروڑپتی

تاج محمد انعام جیتنے کے بعد پروگرام کے میزبان اور مشہور اداکار امیتابھ بچن کے ہمراہ
،تصویر کا کیپشنتاج محمد انعام جیتنے کے بعد پروگرام کے میزبان اور مشہور اداکار امیتابھ بچن کے ہمراہ

بھارتی ریاست راجستھان سے تعلق رکھنے والے تاج محمد ٹی وی شو ’ کون بنے گا کروڑ پتی‘ کے ساتویں سیزن میں ایک کروڑ روپے جیتنے والے پہلے شخص بنے ہیں۔

اودے پور کے تاج محمد کی زندگی سخت جدوجہد سے عبارت ہے اور اس دوران ایک وقت ایسا بھی آیا جب وہ صرف 20 روپے روز پر كباڑي کا کام کرتے تھے۔

بعدازاں ایک این جی او میں کام کرنے کے ساتھ انہوں نے سرکاری ملازمت کے لیے امتحان کی تیاری کی اور آج وہ سرکاری سکول میں استاد ہیں۔

تاج محمد کا کہنا ہے کہ ’ایک وقت ایسا بھی تھا جب ہمارے پاس پیسے نہیں تھے اور ہمارے گھر کی نیلامی کے نوٹس بھی جاری ہو چکے تھے۔‘

تاج محمد کو زندگی میں بہت سی ناکامیاں ملیں لیکن انہوں نے حوصلہ نہیں ہارا کیونکہ انہیں امید تھی کہ کبھی نہ کبھی وقت بدلے گا اور ہوا بھی یہی جب انہوں نے ’کون بنے کا کروڑ پتی‘ میں ایک کروڑ روپے جیتے۔

اس سوال پر کہ وہ اس ایک کروڑ کو کیسے خرچ کریں گے، تاج محمد نے بتایا کہ ’سب سے پہلے میں اپنی بیٹی کے آنکھوں کا علاج کروانا چاہتا ہوں، اس کی دماغ کی وریدیں دبی ہوئی ہیں۔ دوسرا منصوبہ ہے کہ ان پیسوں سے یتیم لڑکیوں کی شادی كرواؤں اور میری تیسری ترجیح اپنا ایک مکان بنوانا ہے۔‘

تاج محمد بھارت میں لڑکیوں کے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک خصوصاً رحمِ مادر میں ان کے قتل کے خلاف لڑنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’میں اگر دوسروں کی بیٹیوں کے لیے کروں گا تو میری بیٹی کو سب کی دعائیں لگیں گی، اور وہ ٹھیک ہو جائے گی۔‘

تاج محمد اب ایک سکول میں پڑھاتے ہیں لیکن بقول ان کے وہ خود کبھی اچھے طالبعلم نہیں رہے۔ تاج بتاتے ہیں ’میں پڑھنے میں بہت تیز کبھی نہیں رہا۔ ہمیشہ سی یا ڈی گریڈ ہی آتا تھا مگر پڑھنے کا شوق تھا اس لیے پڑھتا گیا۔‘

تاج محمد امیر ہونے کے باوجود شہر میں بسنا پسند نہیں کریں گے۔ ان کے بقول وہ جہاں رہتے ہیں، وہاں کا ماحول انہیں بہت پسند ہے کیونکہ ’لوگ ملنسار ہیں اور سب کی سوچ اچھی ہے۔‘

وہ چاہتے ہیں کہ اتنے پیسے ملنے کے بعد بھی وہ پہلے کی طرح عام زندگی جيئیں، لوگوں سے پہلے کی طرح ملیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’پیسوں سے زندگی کا مزا تو آ جائے گا لیکن گہرائی نہیں آ پائے گی۔‘

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کوئز شو میں تاج محمد کو یہ امید بھی نہیں تھی کہ وہ ہاٹ سیٹ پر پہنچیں گے کیونکہ انہیں کمپیوٹر چلانا نہیں آتا: ’میں کمپیوٹر چلانا نہیں جانتا۔ شروع میں خوب غلطیاں ہوئی تھیں۔ مشکل سے پہنچ گیا تو پھر سوالات کا سلسلہ شروع ہوا۔‘

اپنی جیت کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ ’اس وقت سب سے زیادہ دعائیں کام آتی ہیں، ورنہ علم تو ایک طرف رہ جاتا ہے۔ علمیت تو آپ تب دکھائیں گے جب ہاٹ سیٹ پر آئیں گے۔‘