کشمیر: مظاہروں میں احساس کشمیر کنسرٹ کا انعقاد

زوبن مہتا کے کنسرٹ میں سفارت کاروں سمیت دو ہزار مہمانوں نے شرکت کی
،تصویر کا کیپشنزوبن مہتا کے کنسرٹ میں سفارت کاروں سمیت دو ہزار مہمانوں نے شرکت کی

بھارت کے مشہور موسیقار زوبن مہتا نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں احتجاجی مظاہروں کے باوجود سرینگر کے شالیمار گارڈن میں ’احساس کشمیر کسنرٹ‘ کا انعقاد کیا ہے جس میں دو ہزار مہمانوں نے شرکت کی ہے۔

سنیچر کے روز بھارت کے زیر اہتمام کشمیر میں زوبن مہتا کے کنسرٹ کے خلاف ہڑتال کی گئی۔

سرینگر میں ایک اور کنسرٹ کا اہتمام کیاگیا لیکن اس کنسرٹ کے مہمتم خرم پرویز نے کہا حکومت نے کنسرٹ کی اجازت تو دے دی لیکن اس نے لوگوں کو اس میں شرکت سے روک دیا۔

زوبن مہتا نے کنسرٹ کے انعقاد کے بعد کہا کہ یہ ان کی زندگی بھر کی خواہش تھی کہ وہ کشمیر میں اس کنسرٹ کا اہتمام کریں اور انہیں امید ہے کہ اس سے وادی میں امن کا پیغام جائے گا۔

زوبن مہتا عالمی شہرت یافتہ فنکار ہیں جو مغربی کلاسیکی موسیقی کے استاد مانے جاتے ہیں۔

بھارت میں جرمن سفارت خانے کے تعاون سے کنسرٹ کا اہتمام کیا گیا۔

دوسری جانب علیٰحدگی پسند گروہوں کا کہنا ہے کہ اس تقریب سے کشمیر پر بھارتی تسلط کو جواز فراہم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

ایک کارکن خرم پرویز نے سری نگر میں بی بی سی کی نامہ نگار گیتا پانڈے کو بتایا کہ موسیقی کی تقریب کے ذریعے حکومت کو قانونی جواز فراہم کرنا کسی طور پر بھی قابلِ قبول نہیں ہے۔

دوسری جانب جرمن سفیر کا کہنا ہے کہ اس تقریب کا مقصد موسیقی کے ذریعے کشمیریوں کے دلوں تک پہنچنا ہے۔

نامہ نگاروں کے مطابق سری نگر میں ہونے والی موسیقی کی اس تقریب کے لیے سخت سکیورٹی کا بندوبست کیا گیا ہے اور شاہراہوں پر پولیس اور نیم فوجی دستوں کو تعینات کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں بھارتی حکومت کے خلاف سنہ 1989 سے مسلح بغاوت جاری ہے۔

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں حالیہ برسوں میں کچھ کمی آئی ہے۔

.