کشمیر:’رباب سے آرکیسٹرا کا جواب‘

کشمیری تاریخ میں موسیقی کے بڑے مظاہروں کو سیاسی اہمیت حاصل رہی ہے
،تصویر کا کیپشنکشمیری تاریخ میں موسیقی کے بڑے مظاہروں کو سیاسی اہمیت حاصل رہی ہے
    • مصنف, ریاض مسرور
    • عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، سری نگر

بھارت کے زیرانتظام کشمیر کی پچیس سالہ مسلح تحریک میں یہ پہلا موقعہ ہے کہ حکومت کے اہمتام سے منعقد ہونے والے ایک عالمی سطح کے موسیقی کنسرٹ کے خلاف مقامی سماجی اداروں نے ایک ’مزاحمتی شو‘ کا اعلان کیاہے۔

سات ستمبر کو مغل شہنشاہ جہانگیر کے تعمیر کردہ شالیمار باغ میں عالمی شہرت یافتہ زوبن مہتا سو ساتھیوں سمیت اپنے فن کا مظاہرہ کریں گے۔

اس شو کا اہتمام جرمنی کے سفارتخانہ اور حکومت ہند نے مشترکہ طور کیا ہے۔ لیکن یہ شو فی الوقت متنازعہ بنا ہوا ہے۔ علیحدگی پسندوں، مقامی فنکاروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے’احساس کشمیر‘عنوان والے اس شو کو ایک ’سرکاری نمائش‘ قرار دیا ہے اور اس کے خلاف اُسی روز سری نگر میں ’حقیقت کشمیر‘ نام سے متوازی شو کرنے کا اہتمام کیا ہے۔

معروف مزاح نگار، شاعر اور سماجی رضاکار ظریف احمد ظریف ’حقیقت کشمیر‘ کے منتظم ہیں۔

ان کا کہنا ہے ’پچیس برسوں کے دوران کشمیریوں پر ظلم اور مصیبتوں کے پہاڑ توڑے گئے۔ آج بھی عام شہریوں کا قتل ہو رہا ہے۔ ہم یہی حقیقت زوبن مہتا ، جرمنی اور عالمی برادری کو دکھانا چاہتے ہیں۔ہم زوبن کے آرکیسٹرا کا جواب رباب سے دینگے۔‘

واضح رہے زوبن مہتا مغربی کلاسیقی موسیقی کے عالمی شہرت یافتہ اُستاد ہیں۔ وہ ایک خصوصی طیارے میں کشمیر آئیں گے۔ ان کے کنسرٹ کے لیے شالیمار باغ کی مرمت اور مزید آرائش پر مقامی حکومت نے تین کروڑ سے زائد کی رقم خرچ کی ہے۔ ان کی صف سامعین میں فوج، پولیس اور سول انتظامیہ کے افسروں کے علاوہ حکومت کے حامی سماجی حلقوں کے ڈیڑھ ہزار لوگوں کو مدعو کیا گیا ہے۔

مخالف کنسرٹ ’حقیقت کشمیر‘ کا اہتمام انسانی حقوق، فن اور ادب سے جُڑے مختلف گروپوں کے اتحاد ’کولیشن آف سول سوسائٹیز‘ یا سی سی ایس نے کیا ہے۔

سی سی ایس کے ترجمان خُرم پرویز نے بی بی سی کو بتایا ’زوبن مہتا شو کے اعلان کو یہاں کے عوام نے زخموں پر نمک پاشی سمجھا، لیکن بھارتی میڈیا نے کشمیریوں کے خلاف یہ فتویٰ دیا کہ ہم جنون پرست اور فن و موسیقی کے خلاف ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے ادبی جارحیت کا جواب ادبی مزاحمت سے دیا ہے۔‘

دریں اثناء مقامی فنکاروں اور موسیقاروں نے بھی زوبن مہتا کے ’احساس کشمیر‘کی مخالفت کی ہے۔ کشمیر کلچرل ٹرسٹ کے سربراہ مشتاق احمد میر نے بھی کشمیر کی روایتی موسیقی کا ایک کنسرٹ یہاں کے سب سے بڑے قبرستان ’ملاح کھاہ‘ میں منعقد کیا۔ مشتاق احمد میر کہتے ہیں کہ ’حکومت کروڑوں روپے زوبن مہتا کی میزبانی پر خرچ کرتی ہے، لیکن مقامی فنکار اور شاعر گمنامی کی موت مرتے ہیں۔ یہاں کی موسیقی کو رضاکاروں نے زندہ رکھا ، حکومت وہی کرتی ہے جس میں اس کے اقتدار کو فائدہ ہو۔‘

واضح رہے کشمیری تاریخ میں موسیقی کے بڑے مظاہروں کو سیاسی اہمیت حاصل رہی ہے۔

اگست سنہ اُنیس سو تریپن میں جب اُس وقت کے حکمران شیخ محمد عبداللہ کو حکومت ہند نے معزول کر دیا تو نئے حکمران غلام محمد بخشی نے ’شب شالیمار‘ کی مہم شروع کر کے سرکاری خرچے پر فن و موسیقی کی لہر چھیڑ دی۔ لیکن شیخ کے حامیوں نے بائیس سال تک محاز رائے شماری نام سے ہند مخالف تحریک چلائی۔ بعد میں جب شیخ عبداللہ نے حکومت ہند کے ساتھ مفاہمت کر کے وزارت اعلیٰ کی کرسی سنبھالی تو انہوں نے کلچرل ادارے کے ذریعے مقامی فنکاروں کو اپنا حامی بنانے کی کوشش کی۔

پچھلے پچیس سالہ شورش زدہ دور میں بھی فوج، نیم فوجی اداروں اور حکومت ہند کی سرپرستی والی این جی اوز نے کشمیر میں ’ٹیلنٹ ہنٹ‘ کے عنوان سے بے شمار پروگرام منعقد کیے۔

سینٹرل ریزرو پولیس فورسز کے اہتمام سے پچھلے سال جب’بیٹل آف بینڈس‘ کا مقابلہ منعقد کیا گیا تو اس میں پہلی مرتبہ لڑکیوں کے راک بینڈ ’پراگاش‘ نے حصہ لیا۔ یہ بینڈ بھی تنازعے کا شکار ہوا اور بالآخر لڑکیوں نے بینڈ کو ہی تحلیل کردیا۔

یہاں کے اکثر مبصرین کا کہنا ہے کہ کشمیر میں ہمیشہ فن، ادب اور موسیقی ایک سرکاری سرگرمی کے طور سامنے آئے ہیں۔ تبصرہ نگار نصیر احمد کہتے ہیں’یہ پہلا موقع ہے کہ عام لوگوں نے آزادانہ طور پر کسی متنازعہ کنسرٹ کے خلاف ہڑتال کرنے، پتھراؤ کرنے یا تشدد کرنے کے بجائے متوازی کنسرٹ کا اہتمام کیا ہے۔ یہ ہمارے تہذیبی ارتقا کا ثبوت ہے۔‘