کشمیر میں کنسرٹ پر تنازع

بھارت کے مشہور موسیقاروں میں سے ایک زبین مہتا بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں موسیقی کی ایک تقریب کا انتظام کریں گے۔

جرمنی کا سفارت خانہ اس تقریب کی میزبانی شالیمار باغ میں کرے گا اور امید کی جا رہی ہے کہ اس میں 1500 مہمان شرکت کریں گے۔

زبین مہتا نے امید ظاہر کی ہے کہ وہ اپنی کارکردگی سے امن کا پیغام پھیلائیں گے۔

دوسری جانب علیٰحدگی پسند گروہوں کا کہنا ہے کہ اس تقریب سے کشمیر پر بھارتی حکومت کو جواز حاصل ہو جائے گا۔

ایک کارکن خرم پرویز نے سری نگر میں بی بی سی کی نامہ نگار گیتا پانڈے کو بتایا کہ موسیقی کی تقریب کے ذریعے حکومت کو قانونی جواز فراہم کرنا کسی طور پر بھی قابلِ قبول نہیں ہے۔

بھارت کے دارالحکومت دہلی میں بات کرتے ہوئے مہتا نے کہا کہ انھیں صرف موسیقی کی زبان آتی ہے اور انھیں امید ہے کہ وہ اپنی کارکردگی سے امن کا پیغام پھیلائیں گے۔

دوسری جانب جرمن سفیر کا کہنا ہے کہ اس تقریب کا مقصد موسیقی کے ذریعے کشمیریوں کے دلوں تک پہنچنا ہے۔

اطلاعات کے مطابق موسیقی کی یہ تقریب درجنوں ٹی وی چینلز کے ذریعے دنیا بھر میں براہِ راست نشر کی جائے گی۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس تقریب کے لیے ایک بہت بڑے سٹیج کو حتمی شکل دینے کی خاطر کارکن جمعے کی شام سٹیج کی روشنیوں اور دوسرے لوازمات کی جانچ پڑتال کرتے رہے۔

نامہ نگاروں کے مطابق سری نگر میں ہونے والی موسیقی کی اس تقریب کے لیے سخت سکیورٹی کا بندوبست کیا گیا ہے اور شاہراہوں پر پولیس اور نیم فوجی دستوں کو تعینات کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں بھارتی حکومت کے خلاف سنہ 1989 سے مسلح بغاوت جاری ہے۔

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں حالیہ برسوں میں کچھ کمی آئی ہے۔

.