اردو، پنجابی شاعری کے تین مجموعے اور کانگاں
- مصنف, انور سِن رائے
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
صابر ظفر کا 32واں مجموعہ ’سرِ بازار می رقصم‘ ناصر عباس نیّر کے پیش لفظ کے ساتھ آیا ہے، غلام حسین ساجد کی اردو نظموں کا مجموعہ ’نیند میں چلتے ہوئے‘ شائع ہوا ہے جو پچھلے چالیس سال میں کہی جانے والی نظموں کا انتخاب ہے، صابر علی صابر کا ’الف دا پاندھی‘ ان کا دوسرا شعری مجموعہ ہے اور تماہی ’کانگان‘ کا اس سال کا دوسرا شمارہ شائع ہوا ہے۔
بہ نوکِ خار می رقصم

نام کتاب: سرِ بازار می رقصم
مصنف: صابر ظفر
صفحات: 95
قیمت: 150 روپے
ناشر: نام نہیں ہے
تقسیم کار: سٹی بُک پوائنٹ۔ نوید سکوائر، اردو بازار، کراچی
صابر ظفر کے اس مجموعے کا پیش لفظ ناصر عباس نیّر نے لکھا ہے اور اس میں انھوں نے کم و بیش وہ ساری باتیں کہہ دی ہیں جو اس مجموعے کے حوالے سے کہی جا سکتی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیکن اس میں کچھ باتیں قارئین کی سہولت کے لیے یہاں دہرا دیتا ہوں۔
’صابر طفر نے کتاب کا عنوان شیخ سید عثمان مروندی المعروف لال شہباز قلندر کی طرف منسوب فارسی غزل سے مستعار لیا ہے۔ پوری کتاب مسلسل غزل ہے، بحر، قافیے اور ردیف بھی وہی رکھی ہے۔ اردو میں معروف شعرا کی زمینوں میں غزلیں کہنے کی روایت ہے۔ اس کا ایک رخ اگر خراجِ تحسین پیش کرنے کا ہے تو دوسرا انھیں تخلیقی میدان میں للکارنے کا ہے۔ صابر ظفر کی کتاب پہلے رخ کی نمائندگی کرتی ہے تاہم انھوں نے اس ضمن ایک نئی راہ نکالی ہے
صابر ظفر کی اس کتاب میں جو آب و تاب ہے، اس میں بڑا حصہ شیخ عثمان کے عمومی پیغام اور اس غزل کے داخلی مفہوم کا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ صابر ظفر نے می رقصم کے متن پر ہی پوری کتاب تخلیق کی ہے۔ کہیں می رقصم کا متن ظاہر، کہیں مضمر، کہیں بین السطور اور کہیں ورائے سطور ہے۔
صابر ظفر کی قادر الکلامی ہی داد طلب نہیں، ایک نئی شعری جمالیات کی تشکیل کا عمل بھی توجہ طلب ہے۔ یہ اشعار اردو کی ابتدائی شاعری کی ریختہ نویسی کی طرف دھیان ضرور منتقل کرتے ہیں، جس میں ایک مصرع اس زمانے کی ہندوی میں اور دوسرا فارسی میں ہوتا تھا، مگر صابر ظفر نے یہ طرزِ نفسِ مضمون کی داخلی ضرورت کے تحت اختیار کیا ہے۔
اس جمالیات کا دوسرا لسانی پہلو ہندی (خاص طور پر بھگتی شاعری)، مقامی اور روزمرہ زبان کے الفاظ کے استعمال کا ہے۔ دوسرے لفظوں میں اگر ایک طرف انھوں نے تصوف کی عجمی روایت کا لحاظ رکھا ہے تو دوسری طرف برِصغیر کی مقامی تصوف کی روایت بھی پیش نظر رکھی ہے۔
صابر ظفر کی اس کتاب میں رقص کی جمالیات بھی ظاہر ہوئی ہے۔ شیخ عثمان کی غزل میں بھی رقص کی جمالیات ہی ظاہر ہوئی ہے۔ رقص اُس اسرار آمیز داخلی کیفیت کا نشاطیہ اظہار ہے جو اپنی اصل میں ناقابلِ اظہار ہے۔
- شیخ عثمان اوّل صوفی اور بعد میں شاعر ہیں، جب کہ صابر ظفر اوّل شاعر ہیں، انھیں تصوف سے دلچسپی یقینًا ہے، ’سرِ بازار می رقصم‘ کے مطالعے سے نہیں لگتا کہ تمام اشعار داخلی، صوفیانہ واردات کا اظہار ہوں۔ اصل یہ کہ صابر ظفر نے قلندرانہ صوفیانہ نظام کی بنیاد میں مضمر تصورات و اقدار کو اس کتاب میں دل فریب پیرائے میں پیش کیا ہے۔ وہ اس سلسلۂ تصوف کی روح کو اپنے شعروں میں تخلیقِ مقرر کے عمل سے گزارتے ہیں۔ مثلًا رقص مرکز ہے اور رقص کے سوا ہر شے ناقابلِ اعتبار ہے۔ یہاں تک کہ ملامت بھی۔ یہی بے نیازی صابر ظفر کے اشعار میں بھی موجود ہے۔ انھوں نے ملامتِ خلق کی روایتی علامتوں ہی کو استعمال کیا ہے۔ جیسے قشقہ اور زنار۔ منبر اور مے خانے کا ذکر ساتھ ساتھ۔
ان تمام باتوں کے باوجود بھی کچھ سوال پیدا ہوں گے۔ ایک طرف شہباز قلندر کی ایک غزل ہے اور دوسری طرف صابر ظفر کی پوری کی تقریبًا 79 غزلیں۔
اس کے بھی دو رخ ہیں ایک تو یہ کہ انھوں نے می رقصم کی کتنی جہتیں دریافت کی ہیں یا کرنے کی کوشش کی ہے۔ دوسرا رخ ہم آپ پر چھوڑتے ہیں۔ یعنی للکارنے کا، جو شاعر ایک غزل پر 79 غزلیں کہہ رہا ہے، وہ ایک غزل والے کے بارے میں کیا رائے رکھتا ہو گا۔ لیکن جیسا کہ ناصر عباس نیّر بتاتے ہیں، یہ غزلیں غیر شعوری اور عقل سے عاری نہیں ہیں۔ ہو بھی نہیں سکتیں۔ اس میں شاعر کا وجود غیر اختیاری نہیں اختیاری ہے اور علم بروئے کار ہے۔
بات یہ ہے کہ غزل اور تصوف سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے تو اس کتاب کا پڑھنا بنتا ہی ہے۔
چالیس سال کی منتخب نظمیں

نام کتاب: نیند میں چلتے ہوئے
مصنف: غلام حسین ساجد
صفحات: 232
قیمت: 400 روپے
ناشر: سانجھ پبلی کیشنز، 2/46 مزنگ روڈ، لاہور
E-mail:sanjhpks@gmail.com
غلام حسین ساجد، کا کہنا ہے:
میں نے کئی نظم نگاروں سے زیادہ نظمیں لکھی اور شائع کی ہوں گی مگر اب تک غزلوں کے چھ شعری مجموعے شائع کرنے کی وجہ سے ایک آدھ ناقد کے سوا کسی اور نے میری نظموں کو درخورِ اعتنا نہیں سمجھا۔ اس کے بالکل برعکس کیفیت میری پنجابی شاعری کی ہے، جہاں میں صرف اور صرف ایک نظم نگار کی حیثیت سے جانا جاتا ہوں اور غزلوں اور وائیوں کی ایک ایک معقول کتاب شائع کرنے کے باوجود میری پہلی پہچان میں کوئی فرق نہیں آیا اور نہ شاید آ پائے گا کہ میری پنجابی شاعری کا طبعی رجحان ایک بار پھر نظم کی طرف ہے۔میں مانتا ہوں کہ اردو غزل کہنے سے مجھے طبعی مناسبت ہے اور اسی مناسبت نے مجھے موضوعات کے حوالے سے کامیاب تخلیقی تجربے کرنے کا حوصلہ دیا ہے، جن کی تحسین بھی کی گئی اور تنقیص بھی ۔ ۔ ۔ پھر بھی میں اپنی اردو نظم کو یک سر نظر انداز نہیں کر سکتا کیوں کہ پچھلے چالیس برس سے یہ ایک سایے کی طرح میرے تعاقب میں رہی ہے اور مری ذات اور مری زندگی سے جڑی بہت سی کیفیات کی امین بھی ہے اور مظہر بھی۔ یہ نظمیں میں نے کسی تجربے کو پروان چڑھانے کے لیے نہیں کہیں نہ ہی ان کے ذریعے میں اوزان اور ہئیت کی جکڑ بندیوں کو توڑنے کا متمنی تھا، نہ اپنے غزل گو ہونے اور کہلائے جانے کے تاثر کو ختم کرنے کا خواہش مند۔ میری نظمیں تو میرے لیے کھل کر سانس لینے کا وسیلہ تھیں اور ہیں۔مجھے کہنے دیجیے کہ یہ نظمیں سیاسی ہیں نہ معاشرتی۔ اس میں فلسفیانہ رموز مخفی ہیں نہ کسی عہد کا نفسیاتی مطالعہ کرنے کی غرض سے لکھی گئی ہیں۔ پھر بھی یہ اپنے عہد کی نقیب اور ترجمان ہیں اور اس سے بھی زیادہ شاعر کی نو بہ نو بدلتی ہوئی فکر اور فشارِ ذات کی نمائندہ۔ کیوں کہ ان کے زمانی ابعاد کے پیچ میں وہ دنیا دھڑکتی ہےجو ان نظموں کے خالق کی میراث تھی۔اس کتاب میں شامل تمام نظمیں مجھے اپنے ماضی کو ایک بار پھر جینے کے دل فریب تجربے سے مملو دکھائی دیتی ہیں اور آج پیچھے پلٹ کر نہ دیکھتے ہوئے بھی میں جیسے کسی دیکھی ہوئی دنیا کے نظارے میں مگن ہوں۔
ساجد نے ان نظموں کو شائع کرنے کے اسباب بھی بتائے ہیں اور ان چند لوگوں کے نام بھی جو لاہور، ملتان، کراچی اور کنیڈا میں پچھلے بیس برس سے اس کتاب کے چھپنے کے انتظار میں ہیں۔
ساجد، جیسا کہ آپ جان ہی چکے ہیں پچھلے چالیس سال سے مسلسل لکھ ہی نہیں رہے باقاعدگی سے شائع بھی ہو رہے ہیں۔ وہ اردو اور پنجابی میں شاعری اور نثر کی سترہ کتابوں کے خالق ہیں۔ میں نے وہ تمام کتابیں نہیں پڑھیں اور جو ایک دو پڑھی تھیں وہ بھی اب ذہن میں نہیں ہیں لیکن ساجد کی شناخت میرے ذہن میں ایک شاعر ہی کی ہے۔ اور کم و بیش چالیس سال ہے۔
میں نے کہیں کسی دیوار پر لکھا ہوا پڑھا تھا کہ اگر کوئی چالیس سال کی عمر کے بعد بھی شعر کہنے سے باز نہ آئے تو اسے محض شوقیہ فنکار نہیں سمجھا جانا چاہیے، شاعری اس کے لیے یقینی طور پر ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔ اس میں میری طرف سے یہ اضافہ بھی کرلیں کہ اگر شاعر کسی اور وجہ سے بہت خوشحال یا کوئی بڑا افسر نہیں ہے تو، اگرچہ یہ حتمی شرط نہیں ہے لیکن بعض صورتوں میں شاعر ہونے کا رومانی تصور اور علم کے سبب انکسار کی بجائے پیدا ہونے والی خوش فہمی بھی خرابی پیدا کرتی ہے۔ لیکن یہ ایک لمبا قضیہ ہے۔
غلام حسین ساجد کے بیان کو ایک الگ تجزیے کے لیے چھوڑ دیں۔ یہ کتاب شاعری کے طالب علموں اور ان شاعروں کے لیے بھی ضروری مطالعہ ہے جنھوں نے ابھی خود کو طالبِ علم سمجھنا ترک نہیں کیا۔
سماجیات اور سیاسیات سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے بھی یہ ممنوعہ شجر نہیں کیوں کہ کوئی کتنے بھی دعوے کرے نہ تو سماج سے کٹ سکتا ہے اور نہ سیاست سے، ان شعبوں سے کٹنا اختیاری ہے ہی نہیں۔ اور شاعر تو خود انھیں اپنے عہد کی نقیب اور ترجمان کہہ رہا ہے۔
الف کا نیا مسافر

نام کتاب: الف دا پاندھی
مصنف: صابر علی صابر
صفحات: 128
قیمت: 200 روپے
ناشر: سانجھ پبلیکیشنز، 2/46 مزنگ روڈ، لاہور
E-mail:sanjhpks@gmail.com
مظہر ترمذی ایک خوب صورت شاعر ہیں۔ لیکن آدمی ذرا ٹیڑھے ہیں۔ اسی ٹیڑھ کے سبب شاعر ہیں، مل کر بھی نہیں ملتے، کھل کر بھی نہیں کھلتے۔ لیکن لکھتے ہیں تو ان کا اندر باہر کھل جاتا ہے۔
اگر آپ انھیں نہیں جانتے تو جان لیں کے پنجابی کے شاعر ہیں۔ لندن میں جا بسے ہیں۔ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے ان کے چار شعری مجموعے شائع ہو چکے تھے لیکن کئی سال پہلے کی بات ہے اس دوران کوئی اور ہو گیا ہو تو مجھے پتا نہیں۔ ’دوجا ہتھ سوالی‘، ’کایا کاگد‘، ’ٹھنڈی بھُبھل‘ اور ’جگدا سفنا‘ اگر میرا حافظہ صحیح کام کر رہا ہے تو یہی نام تھے۔
انھوں نے کہا ہے کہ چُپ صابر کے شعر کی کنجی ہے۔ چُپ ہی اس کا روگ اور اس کے فن کا حسن ہے۔ بلھے کی طرح اس کا الف پر یقین ہے اور اس ’ایک الف‘ کو ہتھیار بنا کر وہ لڑتا رہتا ہے۔ اس کی کھج، حسن پسندی، اتاولاپن اور طنز بھی اسی جدل کے نت نرالے روپ ہیں۔ صابر خود چاہے ’اوکھا‘ (مشکل میں) رہے پر شاعری کو ہر طرح سوکھا (آسانی میں) رکھنے کا ہنر جانتا ہے
استاد دامن اکیڈمی کے نصیر احمد بتاتے ہیں: ’صوفیوں سے ایک نعرہ سنتے ہیں کہ ’جو دم غافل سو دم کافر‘ اگر شاعری کے حوالے سے دیکھیں تو صابر ہر دم کا شاعر ہے۔ اخبار کی سرخی، سائن بورڈ کی تحریر، راہ جاتی آوازیں، کس وقت آپ کے منھ سے نکلی کون سے بات پکڑی جائے کچھ پتا نہیں۔ وہ زندگی کو مصرعوں میں ڈھالنے کا فن جانتا ہے اور ہر وقت بحر میں رہتا ہے، ہر وقت شاعر ہونے کے باوجود وہ تھوک کا شاعر بالکل نہیں۔ غزل ہو یا نظم اپنے فلسفیانہ انداز کی وجہ سے تھوڑے سے لفظوں میں اپنی پوری بات کرنے کا عادی ہے۔
الف کیا ہے اور الف کا پاندھی (مسافر) کون ہو سکتا ہے۔ جہاں تک میں سمجھا ہوں الف سے مراد ہو سکتی ہے سیدھ، سچ، نیچر، آغاز الف کنٹھ کی خالص آواز ہے جسے آکار بھی کہا جاتا ہے۔ اس کا جاننے والا ہی، اس کا مسافر ہو سکتا ہے۔ بے شک یہ اسی الف کے راستے کا مسافر ہے جس راستے پر بلھے شاہ چلا تھا۔
صابر کا یہ پہلا شعری مجموعہ نہیں ہے۔ ان کا پنجابی شاعری کا پہلا مجموعہ ’اکو ساہے‘ 2010 میں شائع ہو چکا ہے۔
وہ خود بتاتے ہیں کہ اس کا دوسرا ایڈیشن بھی چھپ چکا ہے اور اُسے ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔ لیکن وہ اس ایوارڈ کو اہم نہیں سمجھتے اور کہتے ہیں ’ایوارڈ کی اہمیت اپنی جگہ پر، اصل ایوارڈ اور کامیابی تو یہ ہے کہ کتاب ادب کے قارئین کو پسند آئے‘۔
وہ بتاتے ہیں کہ ملک کے اندر اور باہر ’اکو ساہے‘ کی کامیابی نے ان کا حوصلہ بہت بڑھایا۔ اُسی کا نتیجہ ہے کہ اب ’الف دا پاندھی‘ آپ کے ہاتھ میں ہے۔
پنجابی ہی کیا کم از کم پاکستان کی تمام قومیتی زبانوں میں یہ اچھائی ہے کہ انھیں اردو کی روایتی غزل مزاجی مناسبت نہیں ہے۔ شاعر جو چاہے دعوے کریں جیسے ہی ان زبانوں غزل کا روایتی انداز آتا ہے کچھ جھوٹ سا محسوس ہونے لگتا ہے۔ غیر روایتی ہونا ان قومیتی زبانوں کا مقدر ہے۔ یہی سبب نظم سے ان کی مناسبت کا ہے۔
صابر علی کی شاعری بہت حد تک اپنی زبان میں خالص ہے۔ ان کی نظمیں جو غزلوں سے کچھ کم ہی ہیں لیکن ابھی انہیں ایڈٹنگ کے راستے پر اور اہم قدم اٹھانے ہیں۔ مختصر نظم تو خاص طور پر ایڈٹنگ ہی سے فن کا نمونہ بنتی ہے۔
لیکن صابر علی کی یہ کتاب یقینی طور پر پڑھنے کی ہے۔ کچھ نظمیں تو ایسی ہیں جو خود اس وقت آپ کے اندر دہرائیں گی جب آپ کتاب پڑھ کر رکھ چکے ہوں گے۔
اپنا مزاج آپ

نام کتاب: کانگاں
مدیر: افضل راز
صفحات: 288
قیمت: 300 روپے
ناشر: افضل راز روزن بلڈنگ، ریلوے روڈ گجرات۔
:dailyrozan@gmail.comرابطہ
کانگاں کے اس شمارے کی ابتدا پنجابی زبان کے فروغ اور ترقی کے لیے کام کرنے یا کام کرنے کی غرض سے بنائے گئے اداروں کے ذکر سے ہوتی ہے، یہ بات تو درست ہی محسوس ہوتی ہے کہ چادریں چڑھانے اور دیے جلانے سے تو زبان کی خدمت نہیں ہو سکتی، کوئی ٹھوس تحقیقی کام کیا جانا چاہیے، لیکن اگر ان اداروں کو کچھ لوگوں کی پرورش کے لیے استعمال کیا جانا ہے تو ظاہر ہے، اس پر کان دھرنے والے کیوں کچھ سنیں گے۔
حسین سحر کی حمد و نعت کے بعد’پنجابی میں آب بیتی کی روایت‘ پر ڈاکٹر عباد نبیل شاد نے، ’احمد سلیم دا سفر نامۂ بھارت‘ پر ڈاکٹر ارشد اقبال نے ’استاد نال اک شاگرد دی استادی‘ کے بارے میں خالد ہمایوں نے لکھا ہے۔ اب اگر امین خیال نے اپنے استاد علامہ یعقوب انور سے کچھ زیادہ ہی فیض کا کسب کیا ہے تو کیا ہو گیا، ہو سکتا ہے یہ استادی نہ ہو استاد کے وجود میں ڈھلنے کی کوشش کی ابتدا ہو۔
’امروز – محبت دا لوک گیت جیہنوں ناں دی لوڑ نہیں‘ کے عنوان سے سلیم پاشا نے امروز سے ملاقاتوں کا ذکر کیا ہے۔ سلیم پاشا مصور اور شاعر ہیں لیکن بدقسمتی سے مجھے ان کی مصوری دیکھنے اور شاعری پڑھنے کا اتفاق نہیں ہوا۔ لیکن ان کی یہ تحریر ایک تخلیقی سفر نامہ کہلانے کی حق دار اور بڑی جان دار ہے۔ اسی میں انھوں نے 2002 میں لکھی جانے والی امرتا پریتم کی آخری نظم بھی دی ہے۔
اس کے بعد اردو میں لکھے گئے تین مضمون ہیں۔ ’ہیر وارث، ایک رومانی انقلابی ایپک‘ غلام رسول آصف، ’وارث شاہ ایک خدا رسیدہ شاعر‘ تسلیم الہی زلفی اور کانگاں کے وارث شاہ نمبر اور پنجابی کے بارے میں لیاقت علی شفقت نے اظہارِ خیال کیا ہے۔
جگت ماں بولی کے عنوان سے بنائے گئے باب میں محمد اشفاق ایاز، رانا منصور امین اور محمد حماد مسعود کی رپورٹیں ہیں۔
’تِن کتاباں بارے وچار‘ کے عنوان سے باب میں اقبال بالم گجراتی اور ان کی شاعری کے بارے میں راشد منصور راشد اور قاضی قمر الاسلام قریشی قلعداری کی تحریریں ہیں، محمد اشفاق ایاز نے اشرف نازک کی شاعری پر بات کی ہے اور افضل راز کی کتاب ’کھنڈک‘ کے بارے میں صابر حسین امداد کا مضمون ہے۔
کانگاں کو موصول ہونے والی کی کتابوں کے ذکر کے بعد ’زبان لیکھ‘ کے باب میں پروفیسر زہیر کنجاہی، محمد عمر، اعظم کمال اور سلیم لکی (گوجرہ) کے مضامین ہیں جن میں پنجابی زبان کے مختلف پہلوؤں اور پاکستانی پنجابی فلموں کے گیتوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔
شاعری کا شعبہ شروع ہونے سے پہلے تین کہانیاں ہیں، جن کا ذکر فہرست میں آنے رہ گیا ہے صفحہ 185 سے کہانی ’اماں اللہ دتی‘ شروع ہوتی ہے۔ اس پر لکھنے والے کا نام بھی رہ گیا ہے۔ دوسری کہانی ’سنتوشٹی‘ ریتو کلسی کی ہے اور تیسری کہانی ’فیصلہ‘ محمد اشفاق ایاز کی ہے۔
اس کے بعد صابر حسین امداد، زہیر کنجاہی، شیخ عبدالرشید، اخلاق عاطف‘ خموش چیچیانوی اور ذوالفقار احسن کی شاعری اور فیڈریکو مایور کے دو نظموں کے تراجم ہیں جو خالد اقبال یاسر نے کیے ہیں۔
’گلاں کرن کتاباں‘ کے باب میں شیخ عبدالرشید نے ڈاکٹر مبارک کی تاریخ اور دانشور، گلشن طارق کی فروغِ اردو میں اقبال کی خدمات کا تحقیقی جائزہ، افتخار کالروی کی ہستیاں، وستیاں، تختیاں، زبیدہ مصطفٰی کی زبان تے ذریعۂ تعلیم، تماہی کانگاں، حمزہ علوی کی تخلیقِ پاکستان (تاریخی اور سماجیاتی مباحث)، ڈاکٹر مبارک علی کی میری دنیا (آب بیتی)، ڈاکٹر جعفر احمد کی پاکستان: ڈائمینشنز آف ہسٹری، محمد اویس کرنی کی کرشن چندر کی ذہنی تشکیل، شازیہ نورین کی فصیلِ جبر، صبح میر کا ترجمہ پنجاب سکینڈے نیوین لسانی سانجھ پر تبصرے کیے ہیں۔
تعریف و توصیف ناموں پر مشتمل ’چٹھیاں‘ کے بعد انگریزی کا حصہ ہے جس میں غلام رسول آصف کے دو مضمون ہیں جن میں پنجابی کی روحانی جمالیات کو موضوع بنایا گیا ہے اور وارث شاہ کو خراج تحسین پیش کیا گیا ہے۔
ان مضامین کے انگریزی متن کو دائیں سے بائیں صفحوں پر چلایا گیا ہے جو مناسب نہیں ہے۔
یوں تو اس شمارے میں کئی تحریریں خاصے کی ہیں لیکن اسے امروز کے حوالے سے صرف سلیم پاشا کی تحریر اور احمد سلیم کے سفر نامۂ بھارت پر مضمون کی بنا پر بھی خریدا جا سکتا ہے اگر کسی نے احمد سلیم کا سفر نامہ نہ پڑھا ہو تو۔







