گجرات پیڈیا، فنون، اجرا، لوک بیانیہ اور سیاست

    • مصنف, انور سِن رائے
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

گجرات پیڈیا، گجرات کا انسائیکلوپیڈیے کی پہلی جلد ہے، جو پاکستانی گجرات کے بارے میں بہت کچھ بتاتی ہے۔ فنون کا تازہ شمارہ اپنی روایتی آب وتاب سے آیا ہے اور اس میں دو سو ستائیس لے لگ بھگ تخلیقات ہیں۔ اجرا کے تازہ شمارے میں بھی ڈیڑھ سو کے لگ بھگ تخلیقات ہیں اور ’لوک بیانیہ اور سیاست‘ کے نام سے رانا محبوب اختر کے کالموں کا مجموعہ آیا ہے۔

لوٹ پیچھے کی طرف

نام کتاب: گجرات پیڈیا

مدیران: احمد سلیم/ ڈاکٹر امجد علی بھٹی

صفحات: 590

قیمت: 2000 روپے

ناشر: شعبہ تصنیف و تالیف، یونیورسٹی آف گجرات۔ حافظ حیات کیمپس، جلال پور جٹاں روڈ گجرات

یونیورسٹی آف گجرات، نہ صرف اپنی شناخت بنانے میں بلکہ ایک الگ شناخت بنانے میں کوشاں ہے۔

شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر نظام الدین چاہتے ہیں کہ جامعہ محض سرٹیفکیٹوں اور اسناد سے آرستہ لوگ ہی فراہم نہ کرے بلکہ ایسے کام بھی کرے جس کی بنا پر جامعہ کا نام ایک باوقار تعلیمی اور تحقیقی درسگاہ کے طور پر اپنی جگہ بنائے۔

جس شیخ الجامعہ کے ذہن میں ایذرا پاؤنڈ بھی گونجتا ہو، اس سے اس کی امید بھی رکھی جا سکتی ہے۔ وہ پاؤنڈ کے حوالے سے کہتے ہیں ’انسان اور تاریخ کے درمیان وہی رشتہ ہے جو آزادی اور غلامی کے درمیان ہوتا ہے۔ اگر ہم بھی تاریخ کے مابعد ہیں تو ہم ہی اس کا ضمیر اور ہم ہی اس کا شکار ہیں۔ اس کا جہنم ہماری قیمت لے کر ہی بھر سکتا ہے‘۔

یونیورسٹی کے پاس اپنے وسائل تو ہوں گے ہی لیکن اس نے احمد سلیم کو بھی اس کام میں شامل کیا ہے۔ وہ اس کے مدیران میں شامل ہیں۔ وہ نہ صرف پاکستان میں بلکہ برصغیر اور دنیا کے دوسرے ملکوں میں سماجیات، سیاسیات، ادب و تاریخ پر تحقیق کے لیے درکار مواد تک رسائی کے لیے رہنمائی کر سکنے والوں میں شاید واحد یا چند میں سے ایک ہیں۔

اس پیڈیا کے مقدمے میں بالکل صحیح نشاندہی کی گئی ہے کہ نوآبادیاتی دور میں پنجاب کی ضلعی تواریخ کے حوالے سے جو کام ہوا وہ ڈیڑھ سو سال گذر جانے کے باوجود بھی بنیادی ماخذ کا کام دیتا ہے۔

یہ کام انگریز سکالروں نے محکمہ مال سے وابستہ انسویں صدی کے اہلکاروں سے کرایا اور فارسی اور اردو میں ہے۔ اسی طرح گزٹیئرز، سیٹلمنٹ و ایڈمنسٹریشن رپورٹیں اور کسٹمری لاز وغیرہ کے بارے میں مترب کیا جانے والا مواد، جو جمع تو اور مقاصد سے ہوا تھا لیکن اب ہمارا ایسا تاریخی، سیاسی اور تمدنی اثاثہ ہے جو محفوظ نہ ہوتا تو ہمیں بہت سے دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا اور بہت سے باتیں تو کبھی بھی نہ کھلتیں۔

محققین و مرتبین کی اس بات سے اختلاف کی کوئی گنجائش کج بحثی کے سوا نہیں نکلتی کہ اس سلسلے کو، جو بیچ میں ٹوٹ گیا تھا پھر سے جوڑا جا رہا ہے۔ یہ بات بھی درست ہے کہ ایک گجرات ہی میں نہیں ہر ضلعے میں یہ کام ہونا چاہیے۔ اگر کام خلوص سے کیا جائے تو شاید تاریخ کو عوامی بنیادیں فراہم کے امکانات بھی پیدا ہو جائیں۔

پہلی جلد کے سولہ باب بنائے گئے ہیں جن میں بالترتیب، منتخب تاریخی ماخذوں کا جائزہ، مطبوعہ و غیر مطبوعہ مطالعے، لوک ورثہ، ارضیاتی، طبیعی اور آبادیاتی ماحول، تاریخ تحریکِ آزادی اور قیامِ پاکستان کے بعد، انتحابی تاریخ، ثقافتی اور روحانی ورثہ، قومیں، قبیلے اور ذاتیں، فنون اور کھیل، تعلیم، صنعت، حرفت و تجارت، سماجی فلاحی/ رفاعی ادارے اور وفتگان (رفتگان یا گذر جانے والے) کے جائزے اور ذکر ہے۔ اس کے علاوہ اہم تصاویر کا بھی ایک حصہ ہے۔

یہ کام کس نوعیت کا ہو سکا ہے، اس کے بارے میں صحیح بات تو وہی کر سکیں گے جو دستاویزات سے اس کا تقابلی جائزہ لیں گے۔ میرے خیال میں تو اس کی سمت انتہائی درست ہے۔

ابھی اس کے دو حصے اور آنے ہیں، جو لگتا ہے کہ اس حصے سے زیادہ ضخیم ہوں گے۔ ان میں کیا ہو گا اس کی وضاحت نہیں کی گئی، اسی حصے میں کر دی جاتی اور ہر حصہ دوسرے دہ حصوں کی تفصیل بھی فراہم کرتا ہو تو کچھ آسانی یقینًا ہو جاتی۔

اہتمام، ترتیب، زیبائش، کاغذ اور جلد بندی اور پروڈکشن دیدہ زیب ہے لیکن قیمت ایسی ہے کہ ادارے اور خوشحال ہی خریدنے کے اہل ہوں گے۔ تصویروں اور پروفنگ پر کچھ اور توجہ درکار ہو گی۔

اس کے باجود گجرات پیڈیا نہ صرف گجرات اور گجرات یونیورسٹی کی تاریخ کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار پائے گا بلکہ پورے پاکستان کے لیے قابلِ تقلید مثال ثابت ہو گا۔

سہہ ماہی فنون شمارہ 133

نام کتاب: سہہ ماہی فنون شمارہ 133

مدیر: نیّر حیات قاسمی

مدیر اعزازی: ڈاکٹر ناہید قاسمی

صفحات 468

قیمت: 350 روپے

رابطہ: 251- بلاک f-2- واپڈا ٹاؤن- لاہور (پاکستان)

ای میل:quarterlyfunoon@gmail.com

فنون کا یہ شمارہ غالبًا کچھ تاخیر سے آیا ہے۔ لیکن آیا ہے اور اب تو فنون پاکستان سے نکلنے والے چند ایک ادبی جریدوں میں سے ہے جو اپنی اشاعت جاری رکھے ہوئے ہیں ورنہ تو ادبی جریدوں کی جگہ کتابی سلسلوں نے لے لی ہے جو نسبتًا زیادہ باقاعدگی سے بھی شائع ہو رہے ہیں۔

تاخیر کے باعث یہ شمارہ کچھ ضحیم بھی ہے اور اس میں حرفِ ثانی (اداریہ) اور بین السطور کے علاوہ حمد و نعت سمیت دو سو چوبیس کے قریب نثری اور منظوم تخلیقات ہیں۔

حرفِ ثانی میں نیّر حیات قاسمی نے اردو شاعری کے سنہری دور کے گذر جانے کا سوال اٹھایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شاعری معیار کے لحاظ سے جس قدر ناتوانی کی طرف جاتی دکھائی دے رہی ہے مقدار میں اسی قدر فربہ نظر آتی ہے۔ انحراف کو جدت کا نام دیا جا رہا ہے۔ اگر انحراف کو انحراف ہی رہنے دیا جائے تو پھربھی اس کا کچھ مطلب ہو سکتا ہے۔

ان کی رائے غور طلب بھی ہے اور بحث طلب بھی۔ ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ادب و فن میں شاید کہیں بھی اور کبھی بھی حال کو ماضی سے بہتر نہیں جانا گیا۔ ماضی اور ماضی بعید کے بارے میں ہی بات کی جاتی ہے اور اس میں بھی آرا کا اتفاق نہیں ہوتا۔

لیکن انھوں نے انٹر نیٹ اور سوشل میڈیا کے حوالے سے جو مسئلہ اٹھایا ہے وہ ضرورانتہائی توجہ طلب ہے، کسی بھی مدیر کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ فیس بُک پر شیئر کی جانے والی تحریروں کے بارے میں پوری طرح جان سکے۔ اب اگر وہی تحریریں جرائد کو بھی بھیج دی جائیں گی تو اس کا اثر ضرور پڑے گا۔ اس لیے ادبی جرائد میں شائع ہونے کے خواہشمندوں کو صبر اور تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ جلد بازی تو یوں بھی ادب کے حق میں اچھی نہیں۔

فنون کے اس شمارے میں رفتگاں کے بارے میں مضامین کے لیے مخصوص حصے میں ہاجرہ مسرور، لطف اللہ خاں، ملک محمد جعفر اور فیضان پیرزادہ کے بارے میں تحریریں ہیں۔

مضامین کے حصے میں ڈاکٹر سلیم اختر، مرزا حامد بیگ، صوفی عبدالرشید، عامر سہیل، پیروز بخت قاضی، ظفر سِپل، نصرت انور، ڈاکٹر ناہید قاسمی، ارشد نعیم، جلیل عالی اور طاہرہ اقبال کے افکار ہیں۔

احمد ندیم قاسمی، احمد فقیہہ اور اقتدار جاوید کی طویل نظموں کے بعد 44 دوسری نظمیں بھی ہیں جواحمد ندیم قاسمی، آفتاب اقبال شمیم، آصف ثاقب، گلزار، امجد اسلام امجد، ستیہ پال آنند، قیصر نجفی، صوفی عبدالرشید، طاہر سعید ہارون، جلیل عالی، نصیر احمد ناصر، کرامت بخاری، محمد انیس انصاری، شوکت مہدی، احمد فقیہہ، نثار ترابی، شہزاد نیّر، ندیم احمد صدیقی، عامر سہیل، ثروت زہرہ، عنبرین صلاح الدین، محمد مختار علی، بہزاد برہم، زاہد نبی، نعیم رضا بھٹی، ناہید قاسمی اور نیّر حیات قاسمی کی ہیں۔

تئیس افسانے ہیں جن میں احمد ندیم قاسمی کا افسانہ ’ٹریکٹر‘ بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ الطاف فاطمہ، رضیہ فصیح احمد، خالدہ حسین، گلزار، رفت مرتضٰی، پروین عاطف، نیلوفر اقبال، طاہر نقوی، عطیہ سید، محمدسعید شیخ، علی تنہا، فرحت پروین، نیلم بشیر، رئیس فاطمہ، نگہت نسیم، سلمٰی افتخار صدیقی، نجیب عمر، فرخ ندیم، محمد نعیم دیپالپور، رفعت طور، نگہت یاسمین اور نیّر حیات قاسمی کے افسانے ہیں۔

ام عمارہ اور سلمٰی اعوان کے ناولوں کے حصے ہیں۔ احمد ندیم قاسمی کے حوالے سے پروفیسر سحر انصاری کی یادداشتیں ہیں۔

ایک سو گیارہ غزلوں کے بعد فنون لطیفہ کا حصہ ہے جس میں مختار بیگم، طلعت محمود، مہدی حسن کے بارے میں مضامین کے علاوہ ’برگساں اور سینماگرافی‘ کے بارے میں مضمون ہے اور رگِ سنگ کے عنوان سے نفیسہ قاسمی نے آرٹ کی تاریخ کے بارے میں ایک سلسلے کی پہلی قسط لکھی ہے۔

احمد ندیم قاسمی پر مستنصر حسین تارڑ کا مضمون جگہ کی کمی کی شکایت کے باوجود رسمی سا لگتا ہے۔ اختلافات و تاثرات والے حصے کے نام کی تبدیلی انتہائی ضروری محسوس ہوتی ہے۔

’فنون‘ نے ظاہرًا اپنا معیار بحال کر لیا ہے اب لکھنے والے جیسا لکھ رہے ہیں اس کی ذمہ داری مدیر پر نہیں ڈالی جا سکتی۔ فنون جیسے شاندار ماضی کا امین ہے اس کا حال ویسا ہے یا نہیں اس کا فیصلہ اتنی جلد نہیں ہو سکے گا۔ کیونکہ یہ فیصلہ صرف فنون کے بارے میں نہیں ان تمام لوگوں کے بارے میں بھی ہے جو اس میں شائع ہو رہے ہیں۔

اجرا کا نیا شمارہ

نام کتاب: کتابی سلسلہ، اجرا - 13

مدیر: احسن سلیم

صفحات: 576

قیمت: 400 روپے

ناشر: اجرا، 1-G-3/2 ناظم آباد۔ کراچی، پاکستان

یہ اجرا کا 13ھواں شمارہ ہے۔ اس بیچ میں دو شمارے گیارہ، بارہ میں بارہ کی خبر اس شمارے میں شامل خطوط سے ملتی ہے۔

مجھے ان رسالوں کو ترتیب وار دیکھنے میں یہ دلچسپی ہے کہ ان میں شاہین نیازی، ول ڈیوراں کی سٹوری آف سولّائیزیشن کا ترجمہ کر رہے ہیں لیکن دسویں شمارے میں ان کے ترجمے کی قسط نہیں تھی، تو میں سمجھا کہ مصروفیات آڑے آ گئی ہوں گی یا تھک گئے ہوں گے۔ لیکن اس شمارے سے ان کی خیریت کی اطلاع ملتی ہے۔

مندرجات پر انفرادی تبصرے کی گنجائش یہاں نہیں بنتی لیکن ان لوگوں تک اطلاع ضرور پہنچ جاتی ہے جنھیں ایسی معلومات سے بھی دلچسپی ہوتی ہے۔

اسی شمارے کو لے لیں اس میں خیابانِ خیال اور اداریے کے علاوہ چھ نعتیں ہیں۔ موضوع سخن میں ڈاکٹر سلیم اختر، ذکی احمد، قیصر عالم اور ناصر شمسی کے مضامین ہیں۔ مرزا اطہر بیگ سے اقبال خورشید کا کیا ہوا انٹرویو ہے۔

امجد اسلام امجد، سلیم کوثر، احمد صغیر صدیقی، سلیم شہزاد، طالب انصاری، سید ایاز محمود، صفدر صدیقی رضی، نسیم نازش، اختر رضا سلیمی، شاہین عباس، ارشد معراج، شہاب صفدر، علی اکبر ناطق، فہیم شناس کاظمی، عارفہ شہزاد، عامر سہیل، احمد سہیل، عطاالرحمٰن قاضی، شاہد زبیر، رفعت ناہید، میثم علی آغا، الیاس بابر غوری، علی عارف، اورنگزیب اور یاسمین حامد کی منظوم اور منظور احمد میمن اورتبسم فاطمہ کی نثری نظمیں ہیں۔

تراجم میں ول ڈیوراں کے علاوہ ہنری تھوریو، انتھونی برکلے، کلمان زاتھ، نواز، ماریو برگس یوسا، عرفانہ نذیر، نور الہدٰی شاہ، ایڈگر ایلن پو اور او ہنری کی تخلیقات ہیں۔

ماہ طلعت زیدی اور مظہر حسین شاہ کے سفر نامے ہیں۔ غزلوں کے پہلے حصے میں 39 دوسرے میں 18 اور تیسرے میں 36 کے لگ بھگ غزلیں ہیں جو 51 غزل کہنے والوں کی کاوش ہیں۔

نافۂ نایاب کے عنوان سے غالب کے فارسی خطوط کا ترجمہ ہے، شان الحق حقی پر مضمون ہے، قراۃ العین حیدر اور پروین شاکر کی رنجش کا تذکرہ ہے، منٹو کے لکھے ہوئے خاکوں پر مبنی کتابوں کا جائزہ ہے، صحابہ کرام وادیِ پشاور یا بلوچستان میں کے عنوان سے مضمون ہے اور ’شبنم شکیل: خدا حافظ مرے اے ہم نشینو‘ کے عنوان سے تعزیت ہے۔

تنقید و تجزیات کا ہی ایک اور باب ’خرد افروزیاں کے عنوان سے ہے۔ جس میں اسلم جمشید پوری، انوار احمد زئی، ضیا الحسن، امجد طفیل، دانیال طریر، طاہرہ اقبال اور محمد ندیم صادق کی تحریریں اور تجزیے ہیں۔

طنز و مزاح میں صلاح الدین حیدر، ایس ایم شاہد، شوکت جمال اور ظہیر خان کی تخلیقات ہیں۔ وسعتِ بیان میں ناصر علی سید کی شاعری، عرش گیاوی پر کتاب، ذوقی کے ناول ’آتشِ رفتہ‘، رئیس فاطمہ کی کتاب ارتکاز، مرزا عابد عباس کی کتاب ’شریر خامہ کی سرمستیاں، ابنِ صفی پر راشد اشرف کی ایک اور کتاب، منٹو پر ابوالحسن نغمی کی کتاب اور سعید احمد، ممتاز اطہر اور ستیہ پال آنند کے شعری مجموؤں پر تبصرے ہیں۔

افسانے، کہانیاں اور ناولٹ کے حصے میں سمیع آہوجہ، مشرف عالم ذوقی، محمد سعید شیخ، احمد صغیر صدیقی، اجمل اعجاز، تبسم فاطمہ، محمد حامد سراج، ڈاکٹر اختر آزاد، اقبال حسن آزاد، اقبال خورشید، محمد عمر نجیب، یٰسین احمد، ممتاز رفیق، شاہد رضوان، سائرہ غلام نبی، فائق احمد اور ظہیر مرزا کی تخلیقات ہیں۔

یہ ساری تحریریں انفرادی طور بھی قابلِ تذکرہ و بحث طلب ہیں اور اجرا کے پہلے شماروں کی طرح اس شمارے کو بھی قابلِ توجہ بناتی ہیں۔

لوک بیانیہ اور سیاست

نام کتاب: لوک بیانیہ اور سیاست

مصنف: رانا محبوب اختر

صفحات: 163

قیمت: 400 روپے

ناشر: سانجھ پبلیکیشنز، 2/46 مزنگ روڈ، لاہور

E-mail:sanjhpks@gmail.com

یہ کتاب رانا محبوب اختر کے ان 28 کالموں کا مجموعہ ہے جو 139 صفحات پر پھیلے ہوئے ہیں اور اس کتاب سے پہلے پاکستانی اخبار ’خبریں‘ میں شائع ہوئے ہیں۔

کتاب سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ یہ کالم محبوب اختر کے کالموں کا انتخاب ہیں یا انھوں نے اب تک کل یہی 28 کالم لکھے ہیں۔ اخبارات میں شائع ہونے والے کالموں کے حوالے سے یہ بات بھی اہم ہوتی ہے کہ وہ روزانہ شائع ہونے والے کالم ہیں یا ہفتہ وار۔ اسی طرح اخبارات میں ادارتی صفحے پر کالم نما مضامین بھی شائع ہوتے ہیں لیکن ان کا بھی عمومی دائرہ جاری واقعات و مسائل سے ہوتا ہے۔

اخبارات نے جب سے ہفتہ وار ایڈیشن شائع کرنا شروع کیے تب سے ان ایڈیشنوں پر کالم بھی شروع ہوئے ہیں لیکن وہ کالم ایڈیشن کے موضوعات کے پابند ہوتے ہیں۔ اُن سے زیادہ آزادی ان کا لموں کو ہوتی ہے جو ہفت روزوں اور ماہناموں میں شائع ہوتے ہیں۔ ایسے کالم زیادہ تر نصف مضمون اور نصف کالم ہوتے ہیں اور انھیں اپنے اسلوب میں بھی ہر طرح کی آزادی حاصل ہوتی کالم وہ محض اس لیے کہے جاتے ہیں انھیں کوئی ایک لکھنے والا باقاعدگی سے لکھتا ہے۔ عام طور پر یہ لکھنے والا کسی خاص شعبے کا ماہر ہوتا ہے۔ اسی نوع کے کالموں میں معاشیات، سماجیات، مذہبیات اور ادبیات سمیت وہ تمام شعبے جن میں یات لگایا جا سکتا ہو شامل کیے جا سکتے ہیں۔

اس نوع کے کالم لکھنے والوں کو ان کے خاص شعبے کی وجہ سے پوری آزادی حاصل ہوتی ہے کہ وہ اپنے موضوع کی مخصوص زبان اور اصطلاحات استعمال کریں، ان سے موضوعات کو عام فہم بنانے کا تقاضا بھی نہیں کیا جاتا لیکن اس کے برخلاف اخباروں میں لکھے جانے والے کالم ہر موضوع کو عام فہم اور نتیجہ خیز بنانے کے پابند ہوتے ہیں۔ لیکن اگر کوئی کالم نگار بہ وجوہ مدیر کا چہیتا ہوتا ہے تو اس صفحے کا نگراں نہ صرف چشم پوشی سے کام لیتا ہے بلکہ اس کی پروف ریڈنگ تک میں خصوصی احتیاط سے کام لیتا ہے۔

پاکستان کے اردو اخبارات میں کام کرنے والوں میں شاید ہی کوئی ہوگا جسے اس اندرونی ثقافت کی رنگا رنگیوں اور متنوع تشدد سے نہ گذرنا پڑا ہو۔

مجھے ان ساری باتوں کا خیال اس لیے آرہا ہے محبوب اختر کے کالم ذرا وکھری ٹائپ کے ہیں اور کسی نوع سے بھی اخباری نہیں ہیں لیکن اس بات سے ان کے کالموں کی متنوع فرانز فیننیت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ ان کی اپیل، اثر انگیزی، وسیب سے جُڑت اور دردمندی تمام کلیوں سے آزاد ہے۔

اس کے علاوہ مجھ کم علم کے لیے یہ بات بھی ذرا انوکھی ہے کہ اس کتاب کے لیے رفعت عباس، شوکت اشفاق، ہارون رشید، سید محسن، فراست علی، عاشق بزدار، رازش ملک اور ظہور دھریجہ بطور گواہ / وکیل آنا پڑا۔

رانا محبوب اختر صرف پڑھے لکھے نہیں انگریزی پڑھے لکھے ہیں، سی ایس ایس اور ملٹائی نیشنل کا تڑکا لگے۔ عملی سیاست کے تجربہ انھوں نے صوبائی انتخابات میں شریک ہو کر حاصل کیا ہے۔ تو اندازہ کیا جا سکتا ہے یہ کالم چکی مشقت سے نہیں مشقِ سخن سے پیدا ہوئے ہیں۔

کتاب ایک بار پڑھنے کی نہیں کئی بار پڑھنے کی ہے۔ بہت اچھی چھپی ہے لیکن قیمت ان پڑھنے والوں کے لیے یقینی طور پر زیادہ ہے جو مجھے اس کتاب کے مخاطبیں کی اکثریت محسوس ہوتے ہیں اور جن کے روشن مستقبل کا رانا محبوب اختر کو یقین رہتا ہے۔ میری ناقص رائے میں یہ کتاب تو اُنھیں اپنا مستقبل روشن ہونے سے پہلے ہی پڑھنی ہے۔