معروف فلم ساز ریتوپرنو گھوش انتقال کرگئے

بھارت کے معروف فلم ساز اور ہدایت کار ریتوپرنوگھوش کا جمعرات کی صبح کولکتہ میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال ہو گیا ہے۔
ان کی عمر 49 سال تھی اور گذشتہ کئی دنوں سے پیٹ کے مرض میں مبتلا تھے اور ہاضمے کے نظام سے پریشان تھے۔
وہ اپنی موت سے قبل ’ويوم كیش بخشی‘ نام کی فلم بنا رہے تھے۔ بخشی ایک جاسوسی کردار ہے جس پر پہلے سیریل بن چکا ہے لیکن اس موضوع پر ریتوپرنو سے ایک مختلف قسم کی فلم کی امید کی جا رہی تھی۔
ریتو پرنو کے سینما کا کینوس کافی وسیع مانا جاتا ہے اور یہ خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ ان کی فلموں کے معنی گہرے اور دل کو چھونے والے ہوتے تھے۔
چاہے ہندی فلم ’رین كوٹ‘ میں ایشوریہ رائے اور اجے دیوگن سے حساس اداکاری کروانا ہو یا پھر بنگالی اور ہندی میں ’چوكھیر بالی‘ ہو یا ’انیشے اپریل‘ کی کامیابی ہو ریتو پرنو نے نہ صرف خواتین کے مسائل کو اٹھایا بلکہ ذاتی زندگی میں وہ ہم جنس پرستوں کے مسائل کو بھی اٹھاتے رہے۔
گھوش کے ساتھ ’مےمیموریز ان مارچ‘ میں کام کرنے والی اداکارہ دیپتی نول نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہاکہ ’اپنی جنسیت کو لے کر اتنا سہل میں نے کسی کو نہیں دیکھا۔ اس نے مجھے بتایا تھا کہ ایک بار ابھیشیک بچن نے اسے ریتو دا کے بجائے ریتو دی کہا اور یہ بتاتے ہوئے اس کی آنکھوں میں چمک تھی۔‘
واضح رہے کہ بنگالی میں دا بھائی کے لیے دی بہن کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
دیپتی کہتی ہیں کہ ’ریتوپرنو کی موت صرف بنگالی سینما نہیں بلکہ قومی سینما کے لیے بہت بڑا صدمہ ہے کیونکہ وہ ایک بین الاقوامی سطح کے فلم ساز تھے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بین الاقوامی شہرت کے حامل ریتوپرنو گھوش کبھی بھی ممبئی کی مین سٹریم فلم بالی وڈ کا رخ نہیں کیا اور کولکتہ میں ہی رہ کر انھوں نے مختلف موضوعات پر بامعنی فلمیں بنائیں۔
ان کی دوسری ہی فلم ’انیشے اپریل‘ کو بہترین فیچر فلم کے قومی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ انھیں اس مختصر سے کیريئر میں بارہ قومی اعزازات سے نوازا گیا۔

فلم ’دہن‘ کے لیے ریتوپرنو گھوش کو بہترین سکرین پلے کا ایوارڈ دیا گیا جبکہ فلم ’اتسو‘ کے لیے بہترین ہدایتکار کا قومی ایوارڈ دیا گیا۔
فلم سے ان کے گہرے تعلق کا اندازہ اسی بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہیں صرف 49 سال کی عمر میں ہی مختلف قومی اور بین الاقوامی ایوارڈز سے نوازا جا چکا ہے۔
ریتوپرنو کا فلمی کیریئر1992 میں شروع ہوا تھا جب انہوں نے ’ہیریر آنگٹی‘ (ہیرے کی انگوٹھی) نام کی ایک چھوٹے بجٹ کی فلم بنائی تھی۔
صرف 21 سال میں اتنے ایوارڈ کم ہی فلم سازوں کو نصیب ہوئے ہوں گے لیکن ریتوپرنو اپنے آپ میں خاص قسم کے ہدایت کار اور اداکار رہے۔ان کی موت سے ان کے دوست اور بطور خاص فلم برادری صدمے میں ہے۔
ان کی یادگار فلموں میں ’دہن‘، ’بیری والی‘، ’تتلی‘، ’چوکھیر بالی‘، ’رین کوٹ‘، ’ابوہونم‘، ’دوسر‘ اور ’لاسٹ ایئر‘ شامل ہیں اور ان تمام فلموں کو کسی نہ کسی اعزاز سے نوازا جا چکا ہے۔ سنہ 2012 میں ریلیز ہونے والی انکی فلم ’چترانگدا‘ کو سپیشل جیوری ایوارڈ دیا گیا تھا۔







