’شیکسپیئر سخت گیر تاجر اور زمیندار تھے‘

شیکسپیئر نے فائدے کے لیے اناج کی ذخیرہ اندوزی بھی کی
،تصویر کا کیپشنشیکسپیئر نے فائدے کے لیے اناج کی ذخیرہ اندوزی بھی کی

انگریزی کے معروف ڈرامہ نویس اور ممتاز شاعر ولیم شیکسپیئر کے بارے میں ملنے والے نئے شواہد سے پتہ چلا ہے کہ وہ صرف بلا کے تخلیق کار ہی نہیں بلکہ ایک سخت گیر تاجر اور زمیندار بھی تھے۔

ویلز میں ابریسٹوئتھ یونیورسٹی نے اس سے متعلق جن دستاویزات کو حاصل کیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قحط کے وقت اور مشکل حالات میں انہوں نے اس سے خوب فائدہ بھی اٹھایا۔

عدالت اور ٹیکس سے متعلق جو ریکارڈ ملے ہیں اس میں لکھا ہے کہ غذائی اشیاء کی ذخیرہ اندوزی کرنے اور پھر دوسرے اوقات میں زیادہ قیمت پر فروخت کرنے پر شیکسپیئر کے خلاف کئی بار مقدمے بھی چلے تھے۔

اس کے مطابق شیکسپیئر نے صرف چوبیس برس تک ہی یہ کام کیا اور پھر جب وہ سبکدوش ہوئے تو وہ اپنے آبائی شہر سٹرٹفورڈ آن ایون میں سب سے زیادہ جائیداد کے مالک بن چکے تھے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ شیکسپیئر کے معروف ڈرامے’کوریولانوس‘ میں ان کے ذاتی جاگیردارنہ تجربات کی جھلک ملتی ہے۔

اس ڈرامہ میں قحط کے دوران اناج کی ذخیرہ اندوزی کرنے پر برپا ہونے والے فسادات کا ذکر ہے۔