شیخ مجیب کے قتل سے متعلق ناول پر پابندی

مجیب الرحمان کی ہلاکت بنگلہ دیش میں ایک حساس موضوع ہے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنمجیب الرحمان کی ہلاکت بنگلہ دیش میں ایک حساس موضوع ہے

بنگلہ دیش کی ہائی کورٹ نے ملک کے مقبول مصنف ہمایوں کبیر کے ایک سیاسی ناول پر پابندی لگا دی ہے۔

عدالت کے مطابق اس کتاب میں 'تاریخی حقائق کو توڑ مروڑ' کر پیش کیا ہے اور اسی وجہ سے کتاب پر پابندی لگائی جا رہی ہے۔

یہ کتاب سنہ انیس سو پچھہتر میں بنگلہ دیش میں حکومت کا تختہ پلٹنے کی کارروائی کے دوران ملک کے بانی مانے جانے والے شیخ مجیب الرحمان ان کے خاندان کے کئی ارکان کے قتل کے واقعات کے بارے میں ہے۔

بنگلہ دیش کے اٹارنی جنرل محبوبِ عالم نے پی ٹی آئی سے بات کرتے ہوئے کہا،’عدالت نے ہمایوں احمد کی کتاب پر اس وقت تک پابندی لگا دی ہے جب تک اس میں موجود حقائق کو درست نہیں کیا جاتا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ پہلا ایسا سیاسی ناول ہے جو پندرہ اگست کے دن ہونے والی ہلاکتوں سے جڑا ہوا ہے لیکن اس میں حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے اور ہم نہیں چاہتے ہیں کہ آنے والی نسلوں کو غلط پیغام جائے‘۔

انہوں نے بتایا کہ جسٹس ایچ شمس الدین چودھری اور جسٹس جہانگیر پر مشتمل بینچ نے تعلیم اور اطلاعات کی وزارت سے کہا ہے کہ وہ مصنف سے رابطہ کریں اور حقائق کو ٹھیک كروائیں۔

عدالت نے اس معاملے میں از خود نوٹس لیتے ہوئے فیصلہ دیا ہے۔ یہ کتاب ابھی تک شائع نہیں ہوئی ہے لیکن اس کے کچھ اقتباسات بنگلہ اخبار میں چھپے تھے۔

مجيب الرحمان بنگلہ دیش کی موجودہ وزیراعظم شیخ حسینہ کے والد تھے۔ قتل کی اس واردات میں شیخ حسینہ اور ان کی بہن شیخ ریحانہ بچ گئی تھیں کیونکہ وہ ملک سے باہر تھیں۔