متنازع پوسٹر اکیڈمی ایوارڈ کے آڑے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
فرانس کے دارالحکومت پیرس میں اداکار ژوں دیژاداں کی فلم کے ایسے پوسٹر آویزاں کیے گئے ہیں جس نے ان کے اکیڈمی ایوارڈ جیتنے کے امکانات معدوم ہوسکتے ہیں۔
ملک کے اشتہارات کے معیار پر نگرانی کرنے والے مجاز ادارے اے آر پی پی کا کہنا ہے کہ فلم ’لے اِنفیڈلس‘ یعنی کھلاڑی کے پوسٹر میں خواتین کی ساکھ کی ہتک کی گئی ہے۔
فرانس کے میڈیا کا کہنا ہے کہ ان پوسٹروں میں سے ایک میں دکھایا گیا ہے کہ اداکار ژوں دیژاداں ایک خاتون کے برہنہ پیروں کو پکڑے ہوئے ہیں جبکہ خاتون کی اونچی ایڑی کی جوتیاں بھی نظر آرہی ہیں۔
لا پریسین کا کہنا ہے کہ امریکہ اس تصویر کو حیرت انگیز نہیں گردانے گا۔
تاہم لا ایکسپریس میگزین نے سوال اٹھایا ہے کہ آیا ان پوسٹروں پر کسی بھی قسم کا تنازع ژوں دیژاداں کو بہترین اداکار کے لیے آسکر ایوارڈ ملنے کے آڑے آسکتا ہے۔
میگزین کا کہنا ہے کہ کیا اس موقع پر ان پوسٹروں کو ہٹانا منطقی ہوگا۔
اے آر پی پی کا کہنا ہے کہ انہیں عوام کی جانب سے ان پوسٹروں کے خلاف چار مختلف شکایات موصول ہوئی ہیں جن میں ان پوسٹروں کو جارحانہ قرار دیا گیا ہے۔
اے آر پی پی کے مینیجنگ ڈائریکٹر سٹیفن مارٹن کا کہنا ہے کہ گزشتہ پیر کو آویزاں کیے گئے ان پوسٹروں میں خاتون کی تصویر کے ذریعے خواتین کے وقار کی دھجیاں اڑائی گئی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا ’انہوں نے عورت کی شبیہ کی بے حرمتی کی ہے کیونکہ آپ ان میں عورت کا چہرہ نہیں دیکھ سکتے۔ ان (پوسٹروں) میں عورت کو ایک شے کے طور پر دکھایا گیا ہے، اس معاملے میں جنسی شے۔‘
آسکر ایوارڈ کے لیے پسندیدہ قرار دیے گئے فنکاروں کو متنازع کرنے کا عمل کوئی نیا نہیں ہے۔
گزشتہ برس دی کنگز سپیچ کے اداکار جارج VI پر بھی الزامات عائد کیے گئے تھے کہ نازیوں کے لیے وہ ہمدردی رکھتے ہیں۔
یہ الزامات فلم سے براہِ راست تعلق نہیں رکھتے تھے تاہم ٹیلیگراف نے رپورٹ کیا تھا کہ اس طرح کی مہم ایوارڈ جیتنے کے امکانات کو کم کرنے کے لیے حریفوں کی جانب سے چلائی جاتی ہیں۔







