فیض احمد فیض اور اشفاق حسین لازم و ملزوم

،تصویر کا ذریعہ
- مصنف, انور سِن رائے
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
نام کتاب: شیشوں کا مسیحا فیض
مصنف: اشفاق احمد
صفحات: 1206
قیمت: 700 روپے
ناشر: ڈاکٹر شاہد حسین، شاہد پبلیکیشنز۔ 2253 ریشم اسٹریٹ، کوچہ چیلان، دریا گنج۔ نئی دہلی۔ 110002
گزشتہ سال فیض کے سال کے طور پر منایا گیا۔ اس سال کے دوران جہاں فیض اور ان کی شاعری کے بہت سے پہلو نمایاں ہوئے وہاں یہ بھی ہو گیا کہ ان کے بارے میں اتنی کتابیں سامنے آ گئیں کہ اگر ان کے بارے میں ادب کے کسی شائق کو کچھ جاننا ہو تو کم و بیش اسے سب ہی کچھ دستیاب ہو جائے گا۔
سال کی کراچی میں ہونے والی آخری تقریب میں اشفاق حسین سے بھی ملاقات ہوئی۔ ان سے شناسائی تو اتنے ہی سال کی ہے جتنے انہیں فیض پر کام کرتے ہوئے ہو چکے ہیں۔ ان اڑتیس انتالیس سال کے دوران اشفاق حسین نے فیض احمد فیض پر اتنا کام کیا ہے کہ کسی ایک نے نہیں کیا ہو گا۔
فیض پر ان کی پانچ کتابیں آ چکی ہیں۔ یہ کتابیں 1977 سے 2010 کے درمیان آئیں۔ یہ کتابیں بالترتیب: فیض ایک جائزہ 1977، فیض حبیبِ عنبر دست 1992، فیض کے مغربی حوالے 1993، فیض فن اور شخصیت 2006 اور فیض تنقید کے میزان پر 2010 میں آئیں۔ ان کتابوں کے کئی کئی ایڈیشن شایع ہو چکے ہیں۔ ان کے تازہ ترین ایڈیشن 2011 کے درمیان پاکستان اسٹڈیز سینٹر، جامعہ کراچی نے شایع کیے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
میں اس دشواری میں تھا کہ ایک ہی مصنف کی پانچ کتابوں پر جن میں سے ہر ایک الگ تبصرے کا حق رکھتی ہے کیسے بات کی جائے کہ ہندوستا میں شایع ہونے والی ’شیشوں کا مسیحا: فیض‘ آ گئی جس میں ان پانچ کتابوں کو ایک جگہ جمع کر دیا گیا ہے، اس سے ایک تبصرے کی حد تک مسئلہ حل ہو گیا۔
ان کتابوں میں ’فیض کے مغربی حوالے‘ پہلے بار جنگ پبلی کیشنز لاہور نے شایع کی تھی اور اس کی ضخامت ہزار صفحات کی تھی لیکن جامعہ کراچی کے پاکستان اسٹڈیز سینٹر نے اس کی تلخیص شایع کی ہے جو 244 صفحات پر مبنی ہے اور یہی تلخیص دہلی سے شایع ہونے والی ’شیشوں کا مسیحا: فیض‘ میں بھی شامل ہے۔
فیض کے بارے میں اشفاق حسین کی پہلی کتاب ’فیض ایک جائزہ‘ ان کی فیض سے ابتدائی شناسائی اور محبت کی کتاب ہے۔ اس میں فیض کی شاعری کے تہذیبی، سیاسی اور ادبی پس منظر، ترقی پسند تحریک اور فیض، جدید اردو نظم اور فیض، فیض کی نظموں کے موضوعات اور رحجانات، جدید اردو غزل اور فیض اور فیض کی غزلوں کے امتیازی اوصاف کا جائزہ لیا گیا ہے۔
دوسری کتاب ’فیض حبیبِ عنبر دست‘ کا پہلا حصہ، فیض ’ٹورنٹو میں‘ کے عنوان سے ہے اس میں اشفاق حسین کی وہ یادداشتیں ہیں جو ٹورنٹو میں فیض کے روز شب سے متعلق ہیں، دوسرے حصے میں فیض کی شاعری کے تجزیے اور آخری سات سالوں کی زندگی کا مختصر حال ہے جب کہ تیسرے حصے میں فیض کے بارے میں اشفاق اور خالد سہیل کا ایک مکالمہ ہے جو خاصا اچھا اور دلچسپ ہے۔ اسی حصے میں فیض کا ایک مختصر مضمون بھی ہے جس میں انہوں نے جوش اور فراق گورکھپوری کے بارے میں اپنی یادداشتیں بیان کی ہیں۔
تیسری کتاب ’فیض کے مغربی حوالے‘ ہے جس کی تلخیص کی گئی ہے۔ یہ حصہ اس اعتبار سے انتہائی اہم ہے کہ اس سے فیض کی شاعری کو ہی نہیں ان کے تخلیقی عمل کو بھی سمجھنے میں بہت مدد مل سکتی ہے۔ اس حصے میں فیض کی امریکہ، کینیڈا، ماسکو، یورپ اور لندن کی مسافرتوں کی تفصیل ہے۔ لیکن ان میں سے کچھ حصے غالباً فیض صاحب کی اپنی تحریریں ہیں تاہم کتاب میں ان کے سن و سال نہیں ہیں، ان میں سب سے اہم سارتر سے ملاقات کی تین صفحات پر مشتمل تفصیل ہے۔ کتاب کے آخر میں شاعری کا ایک انتخاب بھی ہے۔ اس تلخیص میں یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ اصل ہزار صفحوں میں اور کیا کیا تھا اگر تلخلیص کے طریقے کی وضاحت کر دی جاتی یا آئندہ کسی ایڈیشن میں کر دی جائے تو زیادہ بہتر ہوگا۔
’فیض شخصیت اور فن‘ اشفاق کی چوتھی کتاب ہے جسے پہلی بار اکیڈمی آف لیٹرز پاکستان نے شایع کیا تھا لیکن اب اس میں کچھ ترمیم و اضافہ بھی ہے۔ جیسا کے عنوان کا تقاضا تھا اس میں 1911 سے 1984 تک کی زندگی کا حال ہے، تمام کتابوں کا ذکر ہے اور یہ بھی کہ جب ’نسخہ ہائے وفا‘ کے نام سے خود فیض صاحب کے کہنے پر ان کے اس وقت تک کے تمام کلام ایک جگہ جمع کیا گیا تو ’چند نظموں سے کچھ حصے سنسر اور ایک آدھ نظم سرے سے غائب کر دی گئی‘ ایسا کیسے ہوا؟ ایسا کرنے کا کس نے سوچا؟ کیا یہ بات فیض صاحب کی رضامندی سے کی گئی اور اگر ان کی رضا مندی سے کی گئی تو اس کا سبب کیا تھا؟ اس بارے میں تفصیل بیان نہیں کی گئی۔ اگر کسی کو بھی اس تفصیل کا علم ہے تو اس بات کو سامنے لانے کی ضرورت اب پہلے سے کہیں زیادہ ہے اور اس کتاب میں تو اس کا ہونا بہت ہی لازم تھا۔

،تصویر کا ذریعہ
اشفاق حسین کی پانچویں اور اب تک کی اردو میں فیض پر آخری کتاب ہے لیکن در حقیقت یہ فیض پر تنقیدی مضامین کی انتھالوجی ہے جو احتشام حسین، آل احمد سرور، پروفیسر کلیم احمد، پروفیسر ممتاز حسین، احمد ندیم قاسمی، سجاد ظہیر، حسن مجتبیٰ، میجر اسحاق، شمیم حنفی، ملک راج آنند، سحر انصاری، قراۃالعین حیدر، محمد حسن، گوپی چند نارنگ، قمر رئیسں، باقر مہدی، سلیم اختر، عتیق احمد، غالب احمد، صلاح الدین حیدر، اشفاق سلیم مرزا، فخر زمان، شاہین مفتی، عقیلہ شاہین، مشتاق احمد یوسفی، سبطِ حسن، مالک رام، جگن ناتھ آزاد، فارغ بخاری، ظ انصاری، شمس الرحمان فاروقی، وزیر آغا، ظفر اقبال، جیلانی کامران، شارب رودلوی، محمد علی صدیقی، فتح محمد ملک، حمید اختر، کشور ناہید، عبداللہ ملک، ڈاکٹر آغا سہیل، اکرام بریلوی، خالد سہیل، اندر کمار گجرال، پروفیسر سخاچوف، لڈمیلا وسی لیوا، انّاسوروا، افتخار عارف اور خود اشفاق حسین کے ہیں۔ کتاب میں ہر تحریر کا زمانہ اور درکار حوالہ بھی موجود ہے۔
اب تک آپ کو اندازہ ہو گیا ہو گا کہ ان پانچوں کتابوں میں اشفاق نے جو کام کیا ہے وہ مدرّسوں، محققوں اور طالب طالب علموں کے لیے تو انتہائی اہم ہے ہی لیکن ادیبوں کے لیے اس کا خاصا حصہ کار آمد ہے۔ ماضی قریب کے کسی اور ادیب و شاعر کے بارے میں اس نوع کی تفصیل کسی نے جمع نہیں کی ہے۔
پاکستان اسٹڈیز سینٹر جامعہ کراچی کی شایع کردہ ہر کتاب اور شاہد پبلی کیشنز کی ’شیشوں کا مسیحا: فیض‘ طباعت، دیدہ زیبی اور قیمت، ہر اعتبار سے داد کی مستحق ہی، نہیں رکھنے کے قابل بھی ہیں اور پڑھنے کے بھی۔







