’خوشونت سنگھ کا سچ، محبت اور ذرا سا کینہ‘

خوشونت سنگھ

،تصویر کا ذریعہ

،تصویر کا کیپشنخوشونت سنگھ کا نام بھارت میں تو یقیناً انتہائی جانا پہچانا ہے پر وہ پاکستان میں بھی غیر معروف نہیں ہیں۔
    • مصنف, انور سِن رائے
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

نام کتاب: سچ، محبت اور ذرا سا کینہ

مصنف: خشونت سنگھ

مترجم: محمد احسن بٹ

صفحات: 416

قیمت: 450 روپے

ناشر: آصف جاوید

برائے: نگارشات پبلشرز، 24 مزنگ روڈ، لاہور

انگریزی میںTruth Love and A Little Malice کے نام سے شائع ہونے والی خود نوشت کا یہ اردو ترجمہ ظاہری حقائق اور ذاتی تجربات کا ایسا ملاپ ہے کہ جو ان بہت سے ناولوں میں بھی نہیں ملتا جو برصغیر کے پچھلے اسی نوے سال کے بارے میں لکھے گئے ہیں۔

خوشونت سنگھ کا نام بھارت میں تو یقیناً انتہائی جانا پہچانا ہے پر وہ پاکستان میں بھی غیر معروف نہیں ہیں لیکن دنیا کے دوسرے ملکوں کی طرح پاکستان میں بھی انہیں جاننے والے ہیں لیکن زیادہ تر وہی جو بھارت کے انگریزی لکھنے والوں سے دلچسپی رکھتے ہیں۔ اس لیے بہت ممکن ہے کہ یہ ترجمہ ان کے کچھ نئے چاہنے والے بھی پیدا کرے گا۔

پاکستان کی طرح بھارت کی مختلف زبانوں میں لکھنے والے بھی انگریزی میں لکھنے والوں کے مقابل احساس کمتری کا شکار رہتے ہیں۔ وہاں بھی بات طبقاتی اثراندازی، پذیرائی اور پیسے کی ہے۔ وہاں کچھ تبدیلی تو آئی ہے لیکن توازن ابھی انگریزی کے حق میں ہی ہے اور اس کا انکشاف بھی اسی خود نوشت سے ہوتا ہے۔

پیدائش کے اعتبار سے ہمارے یہ محترم پاکستانی پنجابی خوشونت سنگھ اگلی 2 فروری کو چھیانوے کے ہو جائیں گے۔ ان کے والد نے چورانوے اور والدہ نے غالباً چھیانوے یا اٹھانوے کی عمر پائی تھی۔ اس کتاب کی ابتدا ہی میں انہوں نے آپ بیتی لکھنے پر جو معذرت نامہ سا لکھا ہے اسے پڑھتے ہوئے اگرچہ یہ بھی لگتا ہے کہ لکھنے والا زیادہ توجہ اور ہمدردی حاصل کرنے کا ماحول پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ پڑھنے والوں میں یہ احساس بھی پیدا کرنا چاہتا ہے کہ جو کچھ وہ لکھ رہا ہے وہ ایک ایسے آدمی کا بیان ہے جو اب موت کے بہت قریب ہے اور جو کچھ اس نے کہا ہے وہ کسی لگی لپٹی اور پروا کے بغیر کہا ہے۔

’یہ لازماً میری آخری کتاب ہو گی، میری آخری تحریر جو میں نے اپنی زندگی کی شام میں قلم بند کی ہے۔ میں تیزی سے ادیبانہ اہلیت و استعداد کھو رہا ہوں۔ مجھ میں ایک اور ناول لکھنے کی سکت نہیں ہے۔ بہت سے افسانے ادھورے پڑے ہیں اور مجھ میں انہیں تکمیل دینے کی توانائی نہیں ہے‘۔

یہ 2002 تھا اور جو کچھ انہوں نے اس وقت اپنے بارے میں محسوس کیا اور لکھا تھا اس میں سے کچھ بھی درست ثابت نہیں ہوا، اس کے بعد 2010 تک ان کی دس کتابیں اور آئیں اور بہت کچھ ایسا ہوا جو خشونت سنگھ کی زندگی میں اس سے پہلے نہیں ہوا تھا۔

اس کے بعد ہی ان کتاب ’عورتوں کی قربتیں‘ شائع ہوئی اور مسلسل چھ ماہ تک بھارت کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتابوں میں سرِ فہرست رہی اور ان کے بقول اس کتاب نے انہیں سب سے زیادہ پیسے کما کر دیے۔ اس کے علاوہ بھی ان کی کئی اور کتابیں بھی زیادہ فروخت ہونے والی کتابوں میں شامل ہوئیں۔

اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے اس خود نوشت کی اشاعت میں کوئی چھ سال کی تاخیر ہو گئی۔ یہ تاخیر اس لیے ہوئی کہ جب یہ کتاب تیار ہو کر چھپنے کے مرحلے میں پہنچی تو اس کے کچھ حصے کتاب کی پروموشن یا پیشگی تشہیر کے لیے ’انڈیا ٹو ڈے‘، ’ٹیلیگراف ‘ اور ’ہندو ‘ میں شایع ہوئے۔ ان میں وہ حصہ بھی تھا جو سنجے گاندھی کی حادثاتی موت کے بعد مونیکا گاندھی اور اندرا گاندھی کے درمیان شروع ہونے والے جھگڑے اور پھر مونیکا کے وزیراعظم ہاؤس سے نکالے جانے کے بارے میں ہے۔

مونیکا اس حوالے سے کتاب کی اشاعت رکوانے کے لیے عدالت چلی گئیں اور دہلی ہائیکورٹ نے ان کی درخواست پر امتناعی حکم جاری کر دیا۔ ڈیڑھ سال تک جوابی اپیل کی سماعت کے بعد عدالت نے امتناع کو برقرار رکھا۔ اس فیصلے کے خلاف اپیل اور اس پر فیصلے میں چار سال سے زائد اور لگ گئے لیکن اس بار فیصلے میں امتناع کو ختم کر دیا گیا اور مونیکا گاندھی کو دس ہزار روپے ہرجانے ادا کرنے کا حکم دیا گیا۔

مونیکا نے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی۔ اس کے بعد کیا ہوا اس بارے میں تفصیل دستیاب نہیں غالباً معاملہ انتظار کے مرحلے میں ہے لیکن خوشونت سنگھ کا کہنا ہے کہ اب مونیکا انہیں ہتک عزت کے الزام میں عدالت لے جائیں گی لیکن اس صورت میں انہیں اپنے کردار پر جس تفصیلی جرح کا سامنا کرنا پڑے گا وہ ان کے لیے باعثِ ندامت ثابت ہو سکتی ہے اور ’جس وقت تک مقدمے کا فیصلہ ہو گا اس وقت تک امکان ہے کہ میں اُس کی (غالباً فیصلے یا مونیکا) پہنچ سے دور جا چکا ہوں گا‘۔ اور اب تک دونوں میں سے کوئی مرحلہ نہیں آیا۔

اب خوشونت سنگھ کی آپ بیتی کا ترجمہ دستیاب ہے، پس نوشت سمیت اس خود نوشت کے کُل انیس باب ہیں اور پس نوشت ایسی ہے کہ بس۔

بالآخر میں یہ ضرور کہوں گا کہ اردو میں اس کتاب کا شائع ہونا ایک زبردست بات ہے، اور کم و بیش ہر اردو پڑھنے والے کے لیے یہ کتاب ایک انتہائی دلچسپ تجربہ ثابت ہو گی لیکن اردو میں لکھنے والوں کے لیے تو یہ کتاب ناگزیر اور لازمی مطالعے کی حیثیت رکھتی ہے کیوں کہ اپنی اس زبان میں ہم ڈھیروں انٹ شنٹ لکھ اور چھپوا رہے ہیں اور پھر زبان اور ملک سے جعلی محبت کے نام پر لکھنے والوں کو آسمان پر بھی بٹھاتے رہتے ہیں اور یہ شکایت بھی کرتے رہتے ہیں عالمی سطح پر اس زبان میں لکھی جانی والی تحریروں کی بر بنائے تعصب پذیرائی نہیں ہوتی لیکن یقیناً حقیقت یہ نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم اپنی اوقات کو جاننا ہی نہیں چاہتے اور جب تک ہم اپنے آپ کو جاننے پر آمادہ نہیں ہوں گے، ہم شروعات ہی نہیں کر سکیں گے اور شروعات کے بغیر ہم کہاں پہنچیں گے اس کا جواب میں خود آپ پر چھوڑتا ہوں۔

ایک بات اس کتاب کی ان کمزوریوں کے بارے میں جو اس میں بہت کم ہیں۔ دو ایک جگہ حوالے غلط ہیں۔ ایک جگہ غالب کے شعر کو اقبال کے کھاتے میں ڈال دیا گیا ہے اور لطف کی بات یہ ہے کہ اس کی نشاندھی بھی اس ترجمے میں کی گئی ہے انگریزی میں اب تک اس کتاب پر جتنے بھی تبصرے لکھے گئے ہیں کسی میں بھی اس بات کو محسوس نہیں کیا جا سکا۔ اس بات پر تو انگریزی والوں کو داد ملنی ہی چاہیے۔

دوسری بات ترجمے کی زبان کے بارے میں ہے، جس میں بہتری کی گنجائش ہے لیکن اتنی بھی نہیں کہ متن کی طاقت پر چھا جاتی۔

یہ کتاب مجلد اور اچھی چھپی ہوئی ہے اس کے ساتھ اگر اس کا اندرونی کاغذ بھی قدرے بہتر استعمال کیا جاتا تو زیادہ اچھا ہوتا۔