کہانی کار: ایک نیا کتابی سلسلہ

- مصنف, انور سِن رائے
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
نام کتاب: کتابی سلسلہ: کہانی کار (خصوصی مطالعہ: اسلم سراج الدین)
مرتبین: لیاقت علی، احمد اعجاز
صفحات: ایک سو اڑسٹھ
قیمت: دوسو روپے (غیر مجلد)
ناشر: مثال پبلشرز، رحیم سینٹر، پریس مارکیٹ۔ امین پورہ بازار، فیصل آباد۔ پاکستان
ایک طرف تو پاکستان میں ایسوں کی کمی نہیں جو یہ کہتے نہیں تھکتے کہ کتاب اور پڑھنا ختم ہوتے جا رہے ہیں اور ادبی رسالے مرتے جا رہے ہیں تو دوسری طرف نت نئی کتابیں شائع ہو رہی ہیں، نئے نئے اشاعتی ادارے سامنے آ رہے ہیں اور الگ سے الگ کام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ابھی علی ساحل کے کتابی سلسلے ’نظم نو‘ کی پہلی جلد آئی تھی(یہ سلسلہ اپنے نام کے مطابق صرف نظموں کے لیے مخصوص ہو گا) اور اب ’کہانی کار‘ آ گیا ہے۔
اس کتابی سلسلے کے مرتبین میں سے ایک لیاقت علی نے تعارف میں کہا ہے کہ ’اس سلسلے کا بنیادی مقصد اردو کے معتبر اور نامور کہانی کاروں کے متوازی ان لکھنے والوں کو قاری سے متعارف کروانا ہے جنہیں کسی سبب سے اب تک وہ اہمیت نہیں دی گئی جس کے وہ حق دار تھے‘۔
ان کا کہنا ہے کہ ہمارے ناقدین ہی نے نہیں مدیران نے بھی بالعموم پہلے سے نامور لوگوں پر ہی اکتفا کیا سو انہی کے گوشے اور خصوصی نمبر شائع ہوتے رہے۔ ہماری خواہش اور کاوش ہو گی کہ ان نامور لکھنے والوں کے خصوصی نمبر بھی شائع کیے جائیں جنہیں ہمارے ناقدین اور مدیران نے اس طرح لائق توجہ نہیں سمجھا جس کی ضرورت تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس تعارف میں موجود تضادات اور اختلاف کی گنجائش کو ایک طرف رکھتے ہوئے کہا جا سکتا ہے یقیناً اس کتابی سلسلے کا خیرمقدم کیا جائے گا۔ اس لیے کہ جس طرح اس میں ایک شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا ہے اور اس کی نمونے جمع کیے گئے ہیں اس سے ایک قدرے جامع تصور ضرور سامنے آتا ہے اور اس سے ان پڑھنے والوں کی رائے میں ضرور فرق پڑے گا جو یا تو اسے سرے سے جانتے ہی نہیں یا کم جانتے ہیں۔ اس رائے کے اچھا یا خراب ہونے کے امکانات کا انحصار اس بات پر ہے کہ ان کی جو چیزیں جمع کی گئی ہیں وہ پڑھنے والے پر کیا اثر ڈالتی ہیں۔
ادبی رسالوں میں خاص طور پر مدیر کو یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ صرف ان چیزوں کا شائع کرے جسے وہ اپنے ذوق کے اعتبار سے اہم سمجھتا ہے اور یہ صرف اس کی آزادی ہی کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ رسالے کی انفرادیت کے لیے بھی ضروری ہے۔ اس کے برخلاف مدیروں کو اگر کسی ایک اصول یا کسی مارشل لا ضابطے جیسے ریگولیشن کا پابند کر دیا جائے تو تمام رسالے یکسانیت کا شکار ہو جائیں گے۔ یہ ایسا مفروضہ ہے جس کا عملاً سامنے آنا اس وقت تک ممکن نہیں جب تک معاشرے میں فسطایت یا فرد یا اکثریت کی ایسی آمریت مسلط نہ ہو جائے جس میں رائے کے معمولی سے معمولی اختلاف کی گنجائش بھی نہیں رہتی۔
تخلیق اور ادب کے لیے اختلاف ناگزیر ہے۔ یہ ذات کی انفرادیت کا اظہار اور ایک جیسا کام کرنے والوں کے سامنے اپنے ہونے پر اصرار کرتا ہے اور اپنی مرضی کر کے ادب اور تخلیق کو وہ نیا پن فراہم کرتا ہے جس سے تنوع اور شناخت پیدا ہوتے ہیں۔ جس دور میں ایسے مختلف نہیں ہوتے وہ اپنے سے پہلے دور کی پیروی، گونج اور توسیع کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔
کہانی کار کے مرتبین کو ادب میں اہمیت کے مسئلے پر ایک بار پھر توجہ دینی چاہیے۔ جس طرح ہر لکھنے والے کے ذہن میں تمام تر دعوؤں کے باوجود پڑھنے والے ہوتے ہیں اسی طرح نقادوں اور مدیروں کے ذہن میں بھی اپنے پڑھنے والے ہوتے ہیں جیسے مذکور مرتبین کے ذہن میں بھی ہوں گے جن تک وہ اسلم سراج الدین اور ان جیسے لکھنے والوں کو پہنچانا چاہتے ہیں اور یہ توقع رکھتے ہیں کہ اس سے انہیں وہ اہمیت حاصل ہو جائے گی جو انہیں اب تک نہیں مل سکی۔ نتائج ان کی توقع کے مطابق ہوں گے اس کے بارے میں ان کی توقع سے صد فی صد اتفاق نہیں کیا جا سکتا۔ ادبی اہمیت مدیروں یا نقادوں کے ہاتھوں میں نہیں ہوتی وہ تو خود اس کے متلاشی ہوتے ہیں یہ اہمیت انہیں پڑھنے والوں سے ملتی ہے جو خود ان کی تخلیقات اور تحریروں سے پیدا تو ہوتے ہیں لیکن پابند نہیں ہوتے۔ اہمیت دینے کا فیصلہ وہ کیسے کرتے ہیں اس کا اسرار اب تک کسی پر نہیں کھلا اسی لیے اس کا کوئی نسخہ بھی نہیں بنایا جا سکا۔
کہانی کار کی پہلی کتاب میں اسلم سراج الدین کے تین افسانے، ناول کے دو باب اور دو مضامین کے علاوہ ان پر احمد اعجاز، احمد ندیم قاسمی، منشا یاد، رشید امجد، قاسم یعقوب اور اختر حسین جعفری کے مضامین، محمد خالد اختر اور آصف فرخی کے خطوط اور تنویر قاضی کی نظم کے علاوہ محمد سلیم ارحمٰن اور آصف فرخی کے انگریزی تبصرے اور ابرار احمد کا ایک انٹرویو ہیں۔ اس کے علاوہ ان کا خاکہ ہے جو مکمل نہیں کہلا سکتا اس میں ان کی ذاتی اور کہانیوں کی تفصیل بہت ہی کم ہے اور غالباً اس خاکے اور احمد اعجاز کے مضمون کے علاوہ سب کچھ مختلف رسالوں اور اخباروں میں شائع بھی ہو چکا ہے۔ اس لیے یہ کتاب بنیادی طور پر اسلم سراج اور ان کے کام پر لکھے جانے والے مضامین، تبصروں اور ایک انٹرویو کا اجتماع ہے۔ ان کے ناول کے باب، ناول میں آ جائیں گے، افسانے اگر ان کے پہلے مجموعے میں نہیں آئے تو کسی نئے میں آ جائیں گے۔ اس کے بعد ایک تعارفی مضمون اور تنویر قاضی کی نظم رہ جاتے ہیں۔
اسلم سراج اگر کچھ نئے افسانے بھی دیتے اور مرتبین ان سے ان کے اور ان کے کام بارے میں ایک نئی تفصیلی گفتگو بھی کرتے تو اس کتاب کی اہمیت کچھ اور زیادہ ہو سکتی تھی۔گنجائش پھر آڑے آ رہی اور بہت سی باتیں باقی ہیں۔







