نوراں لال: فحاشی کے الزام کی تردید

- مصنف, مناء رانا
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
گلو کارہ نوراں لال کا کہنا ہے کہ وہ فحش گانے نہیں گاتیں اور انہیں لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے پر بہت دکھ ہوا ہے۔
لاہور ہائی کورٹ نے پیر کو ایڈوکیٹ آصف محمود کی ایک درخواست پر دو گلو کاراؤں نصیبو لال اور نوراں لال کے مبینہ طور پر فحش گانوں پر پابندی عائد کر دی تھی اور دونوں کو پچیس مئی کو عدالت میں حاضر ہونے کا حکم دیا تھا۔
<link type="page"><caption> نصیبو لال کے گانوں پر پابندی</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/entertainment/2009/04/090427_naseebo_lal_uk.shtml" platform="highweb"/></link>
درخواست گزار نے عدالت کو کہا تھا کہ یہ دونوں بہنیں نصیبو لال اور نوراں لال فحش گانے گاتی ہیں اور ان کے ان گانوں پر پابندی عائد کی جائے۔تاہم نوراں لال کا کہنا ہے کہ ان کا تو نصیبو لال سے کوئی رشتہ نہیں ہے۔
اس عدالتی حکم پر ان دونوں کا مؤقف جاننے کی کوشش کی تاہم بارہا کوشش کے باوجود نصیبو لال سے رابطہ نہ ہو سکا، البتہ نوراں لال نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے تو خود ہمیشہ فحش گانوں کی مخالفت کی ہے اور وہ ایسے گانے نہیں گاتیں جو مخرب اخلاق ہوں۔
نوراں لال نے کہا کہ ان کے گانے ایسے ہوتے ہیں جو خاندان کے مرد اور عورتیں اکٹھے بیٹھ کر سنتے ہیں اسی لیے انہیں شادی بیاہ اور دیگر نجی تقریبات پر گانا گانے کے لیے بلایا جاتا ہے۔
نوراں لال نے کہا کہ ان کا نام ویسے ہی ساتھ شامل کر لیا گیا ہے اور کسی اور کے قصور کے سبب وہ بھی ملزم بن گئیں۔
نوراں لال نے کہا کہ وہ بہت کم فلمی گانے گاتی ہیں اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ وہ صرف اسی گانے کو گانے کی پیشکش قبول کرتی ہیں جو اچھا ہو اور فحش گانے کی پیشکش ٹھکرا دیتی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نوراں لال نے کہا کہ کافی گانے ایسے ہوتے ہیں کہ جن کے بول اتنے خراب نہیں ہوتے لیکن ان گانوں پر رقص کرنے والی خواتین کی حرکات و سکنات انہیں فحش بنا دیتی ہیں۔
نوراں لال کے شوہر شفیق بٹ نے بھی کہا کہ یہ نوراں لال پر سراسر الزام ہے کہ وہ اخلاق سے گرے ہوئے گانے گاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ان اکتالیس گانوں کی فہرست حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جنہیں فحش قرار دے کر پابندی لگائی گئی ہے، جس کے بعد وہ عدالت کے سامنے پیش ہونے کے لیے تیاری کریں گے۔







