اقبال بانو انتقال کر گئیں

اقبال بانو
،تصویر کا کیپشناقبال بانو کا طبعی رجحان ہلکی پھلکی موسیقی کی بجائے نیم کلاسیکی گلوکاری کی طرف رہا۔ ٹھمری اور دادرے کے ساتھ ساتھ انھوں نے غزل کو بھی اپنے مخصوص نیم کلاسیکی انداز میں گایا
    • مصنف, عارف وقار
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

غزل کی گائیکی میں اپنے منفرد انداز کے لیے شہرت یافتہ گلوکارہ اقبال بانو منگل کو لاہور میں انتقال کر گئیں۔

اقبال بانو نے فیض احمد فیض اور احمد فراز کی غزلوں کے ساتھ ساتھ بلند پایہ اشعار پر مبنی کئی دیگر غزلیں گا کر شہرت حاصل کی اور ان کی گائی ہوئی کچھ غزلوں کے مصرعے بہترین گائیکی کے باعث زباںِ زدِ عام ہوئے۔

اقبال بانو کے فن نے برسوں پہلے آل انڈیا ریڈیو کے دہلی سٹیشن میں پہلا اظہار پایا۔ 1952 میں اس نو عمر گلوکارہ نے ایک پاکستانی زمیندار سے شادی کر لی لیکن فن سے اپنا رابطہ ختم نہ کیا۔

تُو لاکھ چلے ری گوری تھم تھم کے پائل میں گیت ہیں چھم چھم کے اور پھر: الفت کی نئی منزل کو چلا ہے ڈال کے باہیں باہوں میں دِل توڑنے والے دیکھ کے چل ہم بھی تو پڑے ہیں راہوں میں

سن پچاس کے عشرے میں اقبال بانو نے پاکستان کی نو زائیدہ فلم انڈسٹری میں ایک پلے بیک سنگر کے طور پر اپنی جگہ بنالی تھی لیکن اُن کا طبعی رجحان ہلکی پھلکی موسیقی کی بجائے نیم کلاسیکی گلوکاری کی طرف رہا۔ ٹھمری اور دادرے کے ساتھ ساتھ انھوں نے غزل کو بھی اپنے مخصوص نیم کلاسیکی انداز میں گایا۔

دورِ ضیاالحق کے آخری دِنوں میں فیض کی نظم ’لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے‘ ان کا ٹریڈ مارک بن چکی تھی اور ہر محفل میں اسکی فرمائش کی جاتی تھی۔ یہ سلسلہ انکی وفات سے چند برس پہلے تک جاری رہا۔ فیض میلے کے موقع پر لاہور میں ایک بڑے اجتماع کے سامنے انھوں نے یہ نظم گائی توعوام کے پُر شور نعرے بھی اس نغمے کا ایک ابدی حصّہ بن گئے۔

اردو کے علاوہ انھوں نے فارسی غزلیں بھی گائیں جو کہ ایران اور افغانستان میں بہت مقبول ہوئیں۔ جشنِ کابل کے موقعے پر ہر برس انھیں پُر زور دعوت دی جاتی جسے وہ اکثر قبول کرلیا کرتی تھیں۔ اقبال بانو کی رحلت کے بعد پاکستان میں غزل گائیکی کا منظر اور بھی دھندلا ہو گیا ہے۔