بلبلِ پاکستان نیّرہ نور چل بسیں: ’ایک سنہری عہد تھا جو تمام ہوا‘

    • مصنف, حمیرا کنول
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام

بلبلِ پاکستان کا ٹائٹل حاصل کرنے والی معروف گلوکارہ نیّرہ نور انتقال کر گئی ہیں۔ ان کی عمر 72 برس تھی۔ ان کی نماز جنازہ اتوار کی سہ پہر کراچی میں ادا کی گئی۔

سنہ 2005 میں انھیں حکومت پاکستان نے صدارتی تمغہ برائے حسنِ کارکردگی سے نوازا تھا۔

برسوں پہلے انھوں نے گلوکاری چھوڑ دی تھی لیکن ان کے گائے گیت، غزلیں ہر دور میں مقبول و معروف رہیں۔

ان کے معروف گانوں ملی نغموں اور غزلوں میں، تیرا سایہ جہاں بھی ہو سجنا، روٹھے ہو تم تم کو کیسے مناؤں پیا، آج بازار میں پا بجولاں چلو، کہاں ہو تم چلے آؤ، اے عشق ہمیں برباد نہ کر اور وطن کی مٹی گواہ رہنا سمیت دیگر بہت سے شامل ہیں۔

نیّرہ کا کرئیر 70 کی دہائی سے شروع ہوا اور سنہ 2022 تک جاری رہا، اس دوران انھوں نے نغمے، غزلیں اور گیت گانے کے علاوہ فلموں اور ڈراموں کے لیے پلے بیک سنگنگ بھی کی۔

اپنے ایک انٹرویو میں انھوں نے بتایا کہ بچپن آسام میں گزرا جہاں ان کے گھر کے پاس ہی لڑکیاں صبح صبح گھنٹیاں بجاتی تھی، بھجن گاتی تھیں اور میں اس سے مسحور ہوتی تھی۔

`میں خود کو روک نہیں پاتی تھی، بیٹھ کر سنتی رہتی تھی تب تک جب تک وہ وہاں سے چلی نہیں جاتی تھیں۔‘

تقسیم کے بعد ان کا گھرانہ پاکستان آ گیا۔

کالج میں دوستوں کے درمیان تو نیّرہ گاتی ہی تھیں ، لاہور میں ایک بار یوتھ فیسٹیول میں اقبال اوپرا کے لیے انھیں بلایا گیا تھا اور انھوں نے گایا۔ اس کے بعد لاہور میں اوپن ائیر میں نیّرہ نے گایا تو انھیں گولڈ میڈل دیا گیا۔

نیّرہ نور نے اپنے ایک انٹرویو میں کہ بتایا کبھی بھی ان کے ذہن میں یہ بات آئی ہی نہیں تھی کہ وہ کبھی باقاعدہ طور پر موسیقی کی جانب آئیں گی۔ تاہم انھوں نے یہ کہا کہ گھر میں گانا بہت سنا جاتا تھا اور انھیں لگتا ہے کہ وہ کسی چیز کی تلاش میں تھی۔

پی ٹی وی کے سیٹ پر انٹرویو میں میزبان منیزہ ہاشمی سے گفتگو میں انھوں نے کہا `مجھے کبھی شاید اس بات کی کبھی سمجھ نہ آ سکتی، این سی اے میں ہمارے کنسرٹس ہوتے تھے اور بڑے بڑے استاد اس میں آتے تھے، ایک بار پروفیسر اسرار کچھ لیٹ ہو گئے تو میرے کلاس فیلوز نے کہا کہ جب تک وہ نہیں آتے تو تب تک تم گاؤ، جب میں گا کر نیچے اتری تو پروفیسیر صاحب نے مجھے کہا کہ میں آپ کو یہ بتانے آیا ہوں کہ آپ بہت اچھا گاتی ہیں اور آپ اس فن کو ضائع نہ کیجیے، وہی ہیں جنھوں نے مجھے پہلے ریڈیو پر لایا اور سب سے پہلی غزل جو میں نے گائی وہ ریڈیو پر ہی گائی۔‘

نیشنل کالج آف آرٹس جہاں نیّرہ پڑھتی تھیں وہاں سے وہ پہلے یونیورسٹی پھر ریڈیو اور ٹی وی پر گانے لگیں۔ انھوں نے ٹال مٹول، اکر بکڑ اور گپ شپ کے لیے گایا اور پھر بعد میں یہ سلسلہ چلتا چلا گیا۔

نیّرہ نور کو پی ٹی وی پر فیض احمد فیض کی بیٹی منیزہ ہاشمی نے متعارف کروایا تھا۔

نیّرہ نور بہت سادہ انداز میں رہتی تھیں اور سنجیدگی کی چھاپ ان کے گانے کے انداز اور شاعری کے چناؤ میں بھی جھلکتی تھی۔

کرئیر کے دوران اور بعد میں بھی ان کے بہت کم انٹرویوز دیکھنے کو ملے۔

فلم فرض اور ممتا کے لیے انھوں نے جب قومی نغمہ `اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں گایا تو اس زمانے میں ریڈیو ڈرامہ آرٹسٹ اور شاعر، حماعت علی شاعر کو دیے اپنے ایک اور انٹرویو میں بتایا کہ ہمارے خاندان میں گانے پر پابندی تو تھی خاص طور پر والد کے خاندان میں لیکن والد نے یہ پابندی ختم کی ان کے الفاظ تھے کہ `کسی بچے پر اگر پابندی لگا دی جائے تو وہ بغاوت کر دیتا ہے اس لیے یہی ہے کہ اس کو اس طرف جانے دیں۔ ‘

وہ کہتی تھیں کہ `ریڈیو سن سن کر گانا سیکھا۔ گانے کے رموز میرے اندر تھے لیکن میں نے بڑے لوگوں کو بہت سنا ہے ، اچھا اور مشکل گانا بہت سنا ہے اور وہ بھی میں سمجھتی ہوں یہ بھی ایک علم ہے، میں 24 گھنٹے اسی میں رہتی تھی، بڑے بڑے اساتذہ کے گانوں کو سنتی اور اب بھی سنتی ہوں۔`

لیکن نیّرہ نے باقاعدہ موسیقی کی تعلیم حاصل نہیں کی لیکن وہ کہتی تھی کہ لوگوں کی توقعات کو دیکھتے ہوئے میں نے ریاض کرنا شروع کیا۔

ان کی شادی ساتھی گلوکار شہریار زیدی سے ہوئی جو کہ اب اداکاری کے شعبے میں نمایاں ہیں۔ ان کے دو بیٹے ہیں۔

وہ کہتی تھیں کہ میری ترجیح ہمیشہ گھر اور بچے ہوتے تھے، لیکن کوشش کی کہ ریاض بھی جاری رکھوں۔

` بعض دفعہ میں بچوں کے جھمیلوں میں ریاض بھی نہیں کر پاتی تھی لیکن مجھے پتہ تھا کہ میں کام کے معیار اور گلے کی طاقت قائم نہیں رکھ پاؤں گی اس لیے کوشش ہوتی تھی ہمیشہ کہ ریاض ضرور کروں۔

وہ کہتی تھیں میں صبح ڈیڑھ گھنٹے ریاض کرتی تھی۔

نیّرہ نے گیت، نغمے، غزلیں گائیں اور فلمی گیت بھی گائے لیکن وہ کہتی تھی کہ فلمی گیت تھوڑے الگ ہوتے ہیں اور جو فلم انڈسٹری کے ماحول کے بارے میں سنا اس سے ڈرتی تھی۔۔۔۔میں اس میں ایڈجسٹ نہیں ہو پائی۔

شیریں فرہاد کے لیے خواجہ خورشید انور نے انھیں بلوایا وہ کہتی تھی کہ وہ لمحہ میرے لیے فخر کا لمحہ تھا۔

`ان کا بلانا میرے لیے بہت اعزاز تھا اور اس کے بعد بہت پر اعتماد محسوس کرتی تھیں۔‘

انھوں نے موسیقار ارشد محمود اور روبن گھوش کے ساتھ بھی کام کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔

گائیکی میں وہ اختری فیض آبادی، بیگم اختر کی مداح تھیں جبکہ شعرا میں وہ فیض احمد فیص اور ناصر کاظمی کو بہت پسند کرتی تھیں۔

نیّرہ نور نے اپنے ایک ریڈیو انٹرویو میں کہا کہ ان کے نعموں اور غزلوں کی ایک البم ریلیز ہوئی جس کے بعد انھوں نے پی ٹی وی پر بہت زیادہ گایا اور پھر اسی کی البمز جاری ہوتی رہیں۔

نیّرہ نور کے دو بیٹے ہیں جن میں سے ایک بیٹا جعفر زیدی کاوش بینڈ کے ساتھ منسلک ہے۔

نیوز کاسٹر رضا زیدی نے ٹویٹر پر نیّرہ نور کی وفات کی خبر دی۔

انھوں نے اپنے پیغام میں لکھا بہت اداس دل کے ساتھ میں اپنی تائی نیّرہ نور کی وفات کا اعلان کر رہا ہوں۔

نیّرہ نور کی وفات پر سوشل میڈیا پر پاکستانی سوشل میڈیا پر اداسی کا سماں ہے۔ بہت سے لوگ ان کی وفات کی خبر پر رنج کا اظہار کر رہے ہیں اور ان کی مشہور غزلوں اور گانوں کو شیئر بھی کر رہے ہیں۔

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے لکھا ’نامور گلوکارہ نیرہ نور کا انتقال موسیقی کی دنیا کے لیے ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔ وہ اپنی آواز میں ترنم اور سوز کی وجہ سے خاص پہچان رکھتی تھیں۔‘

انھوں نے مزید لکھا کہ ’غزل ہو یا گیت جو بھی انھوں نے گایا کمال گایا۔ان کی وفات سے پیدا ہونے والا خلا کبھی پُر نہیں ہوگا۔ خدا مرحومہ کو جنت میں جگہ دے۔‘

سمن جعفری نے لکھا ` اداس، اداس خبر، ایک عہدہ تمام ہوا، ایک بہت بڑا نقصان، نیئرہ نور چل بیس۔۔۔۔‘

سینئیر صحافی اظہر عباس نے لکھا بہت سے لوگ فیض کی انقلابی شاعری کو نیّرہ نور کی گائیکی سے سمجھ پائے۔

مونا فاروق نے لکھا `جو غزلیں اور نظمیں نیرہ نور نے گائیں وہ پھر انہی کی ہوگئیں، شاعروں کے نام پیچھے رہ گئے۔ایک سنہری عہد تھا جو تمام ہوا ۔‘