لتا منگیشکر کی وفات: انڈیا اور پاکستان میں مداحوں کا ’سُروں کی ملکہ‘ اور ’بلبل ہند‘ سے جدائی پر اظہارِ عقیدت

    • مصنف, مرزا اے بی بیگ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی

آج صبح نو بجے جب اسلام آباد دفتر سے ایڈیٹوریل میٹنگ کے لیے فون آیا تو ہم نے انڈیا سے متعلق سٹوریز پر بات کرتے ہوئے اچانک لتا منگیشکر کا بھی ذکر کیا۔

حالانکہ وہ چند ہفتوں سے بیمار تھیں، اس لیے ذہن میں ان کا خیال تو تھا ہی لیکن اس وقت تک ہمیں یہ پتا نہیں تھا کہ جس کا ڈر تھا وہ بات ہو چکی ہے۔

تھوڑی دیر بعد پھر فون آیا کہ ان کی موت کی خبر آ رہی ہے ذرا تصدیق کریں۔ میں نے دھڑکتے دل کے ساتھ پتا چلایا تو معلوم ہوا کہ ’سُروں کی ملکہ‘ اور ’بلبل ہند‘ اب اس دنیا میں نہیں رہیں۔

ان کی موت پر دنیا بھر میں پھیلے ان کے لاکھوں مداح افسردہ خاطر ہیں۔ انھوں نے جنوبی ایشیا کی تقریباً تین نسلوں کو اپنا گرویدہ بنائے رکھا۔

سوشل میڈیا پر ان کے ساتھ اظہارِ عقیدت کا تانتا بندھا ہوا ہے، جہاں لوگ ان کے یادگار گیت بھی پیش کر رہے ہیں۔

اسی دوران میرے ایک دوست نے مشرقی ریاست آسام سے فون کر کے ان کی موت کی تصدیق چاہی کیونکہ ان کے خیال میں وہ ایسی تھیں جو امر ہیں اور پھر انھوں نے لتا کے گائے ایک گیت کا مکھڑا دہرایا اور کہا ’میری آواز ہی پہچان ہے، گر یاد رہے۔‘

انھوں نے کہا کہ جس طرح معروف گلوکار محمد رفیع کو یاد کرتے ہوئے ’تم مجھے یوں بھلا نہ پاؤ گے‘ گیت مجسم ہو جاتے ہیں اسی طرح لتا کے لیے ’میری آواز ہی پہچان ہے‘ مجسم ہے۔

بیماری اور موت

رواں سال جنوری کے اوائل میں کووڈ سے متاثر ہونے کے بعد لتا کو ممبئی کے بریچ کینڈی ہسپتال میں داخل کروایا گیا تھا۔ طبیعت بہتر نہ ہونے کے بعد وہ ہفتوں تک آئی سی یو میں تھیں جہاں انھوں نے اتوار کی صبح آٹھ بج کر 12 منٹ پر 92 سال کی عمر میں آخری سانس لی۔

لتا منگیشکر کی موت کے بارے میں معلومات دیتے ہوئے ممبئی کے بریچ کینڈی ہسپتال کے ڈاکٹر پرتیت صمدانی نے کہا کہ ’لتا دیدی (لتا منگیشکر) آج صبح 8:12 بجے وفات پا گئیں۔ ان کے جسم کے کئی اعضا متاثر تھے۔ ان کا طویل عرصے سے ہسپتال میں علاج ہو رہا تھا۔‘

اس سے قبل انڈین حکومت کی جانب سے مرکزی وزیر نتن گڈکری نے ان کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے ٹویٹ کیا کہ ’ملک کا فخر اور موسیقی کی دنیا کی شرمور (تاج) کوئل جیسی میٹھی آواز والی بھارت رتن لتا منگیشکر جی کی موت پر بہت افسردہ خاطر ہیں۔‘

’پاک روح کو میرا دلی خراجِ عقیدت۔ ان کا جانا ملک کے لیے ناقابل تلافی نقصان ہے۔ وہ ہمیشہ موسیقی کے عقیدت مندوں کے لیے ایک ترغیب تھیں۔‘

لیجنڈری پلے بیک سنگر لتا منگیشکر نے انڈین فلمی موسیقی کی ایک نئی تعریف کی تھی۔ ان کا فلمی میوزک کریئر نصف صدی سے زیادہ عرصے پر محیط تھا جس میں انھوں نے 36 انڈین زبانوں میں 25 ہزار سے زیادہ گیت گائے۔

لتا منگیشکر نے کبھی گلوکاری کی باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی۔ ایک نوکرانی نے لتا کو مراٹھی حروف سمجھائے۔ اسی دوران ایک مقامی پادری نے انھیں سنسکرت سکھائی۔ گھر آنے والے رشتہ دار اور اساتذہ انھیں دوسرے مضامین پڑھاتے تھے۔

معروف اداکار دلیپ کمار انھیں اپنی چھوٹی بہن کہا کرتے تھے اور انھوں نے ایک کانسرٹ سے قبل ان کا جو تاریخی تعارف کروایا تھا وہ اپنے آپ میں ایک بڑا اعتراف ہے:

’حضرات! جس طرح کے پھول کی خوشبو یا مہک کا کوئی رنگ نہیں ہوتا وہ محض خوشبو ہوتی ہے، جس طرح کے بہتے ہوئے پانی کے جھرنے یا ٹھنڈی ہواؤں کا کوئی مسکن، گھر یا گاؤں، کوئی وطن یا دیش نہیں ہوتا، جس طرح ابھرتے ہوئے سورج کی کرنوں کا یا کسی معصوم بچے کی مسکراہٹ کا کوئی مذہب یا بھید، بھاؤ نہیں ہوتا ویسے ہی لتا منگیشکر کی آواز قدرت کی تخلیق کا ایک کرشمہ ہے۔‘

’میں اپنے تئیں اس لیے یہاں حاضر ہوا ہوں کہ حالانکہ یہ میری چھوٹی بہن ہیں لیکن میں ان کا احسان مند ہوں۔ میں ان احسان کا اور اظہارِ عقیدت کا ایک معمولی معاوضہ دینے یہاں آیا اور میں اس وقت انھیں مدعو کرتا ہوں، ان کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ آپ کے سامنے تشریف لائیں اور آپ سے استدعا کرتا ہوں کہ آپ ان کا ایسا استقبال کریں، ایسا خیرمقدم ہو کہ یہ ہال گونج اٹھے۔ لتا جی آپ تشریف لائیے۔‘

اردو کی معروف شاعرہ پروین شاکر نے لتا منگیشکر پر ایک نظم ’مشترکہ دشمن کی بیٹی‘ کے عنوان سے لکھی جسے ان کی مقبولیت کا منھ بولتا نمونہ کہا جا سکتا ہے۔ چند مصرعے:

'لیکن اُس پل ، آرکسٹراخاموش ہُوا

اور لتا کی رس ٹپکاتی، شہد آگیں آواز ، کچھ ایسے اُبھری

جیسے حبس زدہ کمرے میں

دریا کے رخ والی کھڑکی کھلنے لگی ہو!

میں نے دیکھا

جسموں اور چہروں کے تناؤ پر

ان دیکھے ہاتھوں کی ٹھنڈک

پیار کی شبنم چھڑک رہی تھی

انڈیا، پاکستان اور دنیا بھر میں جہاں جہاں بھی بالی وڈ کے گیت سنے جاتے ہیں آج ایک اداسی کا ماحول ہے، جس کا اظہار سوشل میڈیا پر کیا جا رہا ہے۔

پاکستان کے وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا کہ ’انڈین لیجنڈری گلوکارہ لتا منگیشکر کا انتقال موسیقی کے ایک عہد کا خاتمہ ہے۔‘

فواد چوہدری نے یہ بھی کہا کہ ’لتا جی نے عشروں تک سُروں کی دنیا پر حکومت کی، ان کی آواز کا جادو رہتی دنیا تک برقرار رہے گا۔‘

یہ بھی پڑھیے

دنیا بھر سے خراج عقیدت

انڈین اداکارہ انوشکا شرما نے لکھا: ’خوبصورت آواز میں خدا بولتا ہے۔ انڈیا کے لیے بہت ہی افسردہ کرنے والا دن کہ ہماری بلبل نے اپنے فانی جسم کو چھوڑ دیا۔ لتا جی کی آواز نے انھیں امر کر دیا۔ وہ ہمارے دلوں میں اپنی موسیقی کے ساتھ رہیں گی۔ ان کے اہلخانہ، دوست اور مداحوں کے ساتھ میرا دلی اظہار تعزیت۔ ریسٹ ان پیس لتا جی۔‘

اداکارہ مادھوری دیکشت نے ان کی آواز کو فرشتوں کی آواز کہا اور لکھا کہ ’وہ اپنی محبت کو بانٹنے آسمانوں کی طرف چلی گئیں۔‘

معروف کرکٹ مبصر اور صحافی ایاز مینن نے ان کے گیت ’گزار ہوا زمانہ، آتا نہیں دوبارہ، حافظ خدا تمہارا‘ کے ساتھ یاد کیا اور کہا کہ ان جیسی سچی اور سحر انگیز آواز اب دوسری نہیں ہو گی۔

کانگریس کے رہنما اور رکن پارلیمان ششی تھرور نے بھی انھیں اسی گیت کے ساتھ یاد کیا۔

پاکستانی صحافی اکمل گھمن نے لکھا کہ ’لتا منگیشکر جیسے لوگ کبھی نہیں مرتے‘ جبکہ پاکستان کے معروف سکوائش کھلاڑی جہانگیر خان نے لکھا کہ ’دنیا آپ کو کبھی نہیں بھول سکے گی۔‘

پاکستان سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکن سلمان صوفی نے لکھا کہ ’انڈیا پاکستان میں کوئی ایسا گھر نہیں جہاں ان کی موسیقی سے جڑی کوئی خوبصورت یاد نہ ہو۔ ہم لوگوں کی زندگیوں میں ایسے لمحات آئے ہیں جو بیک گراؤنڈ میں ان کی موسیقی کے بغیر ممکن ہی نہیں تھے۔ ایک عہد کا خاتمہ۔‘

انڈین کرکٹ کنٹرول بورڈ کے نائب صدر راجیو شکلا نے خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’لتا منگیشکر کے اعزاز میں نرنیدر مودی سٹیڈیم، احمدآباد میں انڈیا اور ویسٹ انڈیز کے درمیان کھیلے جانے والے آج کے میچ میں کالی پٹیاں پہنیں گے۔ قومی پرچم نصف مستول پر ہو گا۔‘

زندگی کے تقریباً تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد لتا منگیشکر کو اپنے اپنے انداز میں یاد کر رہے ہیں۔

اداکارہ اور بالی وڈ کی ’ڈریم گرل‘ ہیما مالنی نے ڈی ڈی نیوز سے بات کرتے ہوئے خود کو خوش قسمت قرار دیا کہ انھیں لتا جی کے گائے گیتوں پر اداکاری کا موقع ملا۔

شطرنج کے معروف کھلاڑی وشواناتھ آنند نے لکھا کہ ’کچھ آوازیں آپ کے دل و دماغ میں ہمیشہ کے لیے بس جاتی ہیں اور آپ کی زندگی کی یادیں اس کی نغمگی میں گندھ جاتی ہیں۔‘

بہت سے لوگوں نے ’اے میرے وطن کے لوگو‘ جیسے گیت کے ساتھ انھیں یاد کیا جبکہ کرکٹر محمد حفیظ نے بھی ’میری آواز ہی پہچان ہے‘ کے ساتھ یاد کیا۔

افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی نے لکھا کہ ’اپنی آواز سے لتا منگیشکر نے لاکھوں دلوں کو خوشیوں سے بھر دیا۔ ان کے گیت آفاقی اور امر ہیں۔‘

جبکہ پاکستانی اداکار اور گلوکار علی ظفر نے لکھا کہ ’الفاظ لتا منگیشکر جیسے لیجنڈ کی تعریف نہیں کر سکتے۔ صرف موسیقی میں ہی ان کی ہمیشہ قائم رہنے والی عظمت بیان کی جا سکتی ہے۔‘

لیکن یہ تحریر لکھتے ہوئے مجھے لتا کا جو گیت یاد آ رہا ہے وہ یہ ہے:

رہیں نہ رہیں ہم، مہکا کریں گے، بن کے کلی، بن کے صبا، باغ وفا میں۔۔۔

جب ہم نہ ہوں گے تب ہماری، خاک پر تم رکو گے چلتے چلتے

اشکوں سے بھیگی چاندنی میں، اک صدا سی سنو گے چلتے چلتے۔۔۔