وہ حادثہ جس نے فلم پردیس کی اداکارہ مہیما چوہدری کے لیے سب بدل دیا

مہیما چوہدری، بالی وڈ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

سنہ 1997 میں بالی وڈ فلم پردیس سے اپنی پہچان بنانے والی اداکارہ مہیما چوہدری چھاتی کے سرطان میں مبتلا ہیں۔

حال ہیں اداکار انوپم کھیر نے اُن کی ایک ویڈیو اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر شیئر کی جس میں وہ بتا رہی ہیں کہ کیسے انوپم کھیر ان کے پاس ایک پراجیکٹ کے لیے آئے جس کے بعد اُنھوں نے اُنھیں اپنی بیماری کے بارے میں بتایا۔

ساڑھے سات منٹ کی اس ویڈیو میں مہیما بات کرتے ہوئے نہایت جذباتی نظر آتی ہیں۔ اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں انوپم کھیر نے اُنھیں ایک بہادر خاتون قرار دیا۔

اُنوپم کھیر نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ 'میں نے مہیما چوہدری کو اپنی 525 ویں فلم دی سگنیچر کے لیے ایک ماہ قبل امریکہ سے کال کی تھی۔ ہماری اچھی بات چیت ہو رہی تھی اور تبھی اُنھوں نے بتایا کہ وہ چھاتی کے کینسر میں مبتلا ہیں۔ اُن کا طرزِ زندگی اور اُن کا رویہ دنیا بھر میں کئی خواتین کے لیے متاثر کُن ہو سکتا ہے۔'

مس انڈیا

وہ 13 ستمبر 1973 کو دارجیلنگ میں پیدا ہوئی تھیں۔ اُنھوں نے اپنی تعلیم مقامی اداروں سے حاصل کی۔ سنہ 1990 میں اُنھوں نے تعلیم چھوڑ کر ماڈلنگ میں اپنے کریئر کا آغاز کیا۔

مہیما چوہدری کو سب سے پہلے ایشوریا رائے کے ساتھ پیپسی کے اشتہار میں دیکھا گیا۔ اسی دوران اُنھوں نے 1990 کا مس انڈیا مقابلہ حسن بھی جیتا۔

اپنے کریئر کی شروعات میں وہ ٹی وی میزبان بھی رہیں۔ یہیں اُنھیں مشہور پروڈیوسر اور ڈائریکٹر سبھاش گھئی نے پہلی مرتبہ دیکھا۔

سبھاش گھئی نے اُنھیں بڑا موقع دینے کا سوچا اور اُنھیں اپنی فلم پردیس میں گنگا نامی لڑکی کا مرکزی کردار دے دیا جس میں وہ شاہ رخ خان کے ساتھ نظر آئیں۔ اس فلم کے گانے اب بھی گائے جاتے ہیں۔

اُنھیں پردیس کے لیے ہی فلم فیئر ایوارڈز میں بہترین نئے فنکار کا ایوارڈ ملا۔ اس کے بعد وہ کئی فلموں میں آئیں جن میں 'داغ: دی فائر' شامل ہے۔ اس فلم میں اُنھوں نے ڈبل رول ادا کیا۔

لجّہ میں اُنھوں نے ایک مضبوط خاتون کا کردار ادا کیا جو شادی کی تقریب میں ہی جہیز کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے شادی سے انکار کر دیتی ہیں۔ اس کردار کے لیے اُن کی بھرپور پذیرائی کی گئی۔

مہیما چوہدری، بالی وڈ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اس کے بعد وہ 'یہ تیرا گھر، یہ میرا گھر'، 'اوم جے جگدیش'، 'دل ہے تمہارا'، 'دھڑکن'، 'کرکشیتر' اور 'باغبان' میں نظر آئیں۔

مہیما کو آخری مرتبہ بنگالی کرائم تھرلر 'ڈارک چاکلیٹ' میں دیکھا گیا تھا جو سنہ 2016 میں ریلیز ہوئی تھی۔

مہیما نے پردیس فلم سے کئی لوگوں کے دل جیتے مگر اُن کا دل انڈین ٹینس کھلاڑی لیئنڈر پیز نے جیتا۔

مہیما اور لیئنڈر نے ڈیٹنگ شروع کی۔ ایک وقت تھا جب میڈیا میں اُن کے بارے میں بہت زیادہ بات چیت ہوتی تھی مگر پھر لیئنڈر پیز مبینہ طور پر اداکارہ ریا پلائی کے نزدیک ہو گئے چنانچہ مہیما اُن سے دور ہوتی گئیں۔ یہ رشتہ کچھ ہی عرصے بعد ٹوٹ گیا۔

اس کے بعد اُنھوں نے کاروباری شخصیت اور ماہرِ تعمیرات بوبی مکھرجی سے سنہ 2006 میں شادی کر لی۔ اس شادی سے ان کی آریانہ نامی ایک بیٹی ہے۔ سنہ 2013 میں ان کی علحیدگی ہو گئی۔

یہ بھی پڑھیے

مہیما نے اپنے ایک انٹرویو میں بتایا کہ اُن کی بوبی سے کئی معاملات پر بحث ہو جایا کرتی اور وہ اس شادی سے خوش نہیں تھیں۔

اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ اُن کے شوہر نے مشکل دنوں میں اُن کا ساتھ نہیں دیا۔ اب وہ اپنی بیٹی آریانہ کے ساتھ رہتی ہیں۔ طلاق کے بعد مہیما نے دوبارہ بالی وڈ میں آنے کی کوشش کی مگر کامیاب نہیں ہوئیں۔

وہ حادثہ جس نے کریئر برباد کر دیا

مہیما نے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ کیسے ایک کریئر نے اُنھیں جسمانی اور ذہنی طور پر نقصان پہنچایا تھا۔

ان دنوں وہ مشہور پروڈیوسر اور ڈائریکٹر پرکاش جھا کے ساتھ اجے دیوگن اور کاجول کی 1999 کی فلم 'دل کیا کرے' میں کام کر رہی تھیں اور بنگلور میں تھیں۔

ایک دن جب وہ شوٹنگ پر جا رہی تھیں تو ایک ٹرک نے اُن کی گاڑی کو ٹکر ماری۔ یہ ٹکر اتنی زوردار تھی کہ گاڑی کے شیشے کے درجنوں ٹکڑے اُن کے چہرے میں پیوست ہو گئے۔ خیال کیا جا رہا تھا کہ شاید اب وہ زندہ نہ بچ پائیں۔

مہیما چوہدری، بالی وڈ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مہیما نے انٹرویو میں اس بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ کسی طرح خود ہی ہسپتال پہنچیں کیونکہ کوئی اُنھیں ہسپتال لے جانے کے لیے تیار نہیں تھا۔

وہاں اُن کی والدہ اور اجے دیوگن ان سے ملنے آئے۔ جب اُنھوں نے سرجری کے بعد پہلی مرتبہ آئینے میں دیکھا تو وہ ہوش و حواس کھو بیٹھیں۔ اُن کے پورے چہرے پر صرف ٹانکے نظر آ رہے تھے۔ ڈاکٹر نے اُن کے چہرے سے شیشے کے 67 ٹکڑے نکالے تھے۔

اس حادثے کے بعد اُنھیں خود کا بہت زیادہ دھیان رکھنا پڑا۔ اُنھیں سورج کی روشنی میں آنے سے منع کر دیا گیا کیونکہ دھوپ میں بالائے بنفشی (الٹراوائلٹ) شعاعیں ہوتی ہیں اور خدشہ تھا کہ اس سے اُن کے چہرے پر موجود زخم ہمیشہ کے لیے نشان چھوڑ جائیں گے۔ اُنھوں نے خود بھی کئی دن تک اپنا چہرہ نہیں دیکھا۔

اس حادثے کے بعد مہیما کو فلموں سے دور رہنا پڑا حالانکہ اس وقت اُن کے پاس کئی بڑی بالی وڈ فلموں کے معاہدے تھے۔

چہرے پر زخموں کی وجہ سے سب نے اپنے فیصلے بدل لیے اور دیگر فنکاروں کو سائن کر لیا۔

مہیما کہتی ہیں کہ اس دوران اجے دیوگن نے اُن کا ساتھ کبھی نہیں چھوڑا اور وہ ان سے ملنے آتے رہے۔ اُنھوں نے مہیما کو اپنی فلموں میں سے ایک میں کام بھی دیا مگر اس کے بعد چیزیں پہلے جیسی نہیں رہی تھیں۔

اب مہیما کی زندگی میں ایک نئی مشکل ہے۔ چھاتی کے کینسر کے باوجود مہیما چوہدری پرعزم ہیں کہ وہ اس مشکل سے بھی ابھر کر آئیں گی اور دوبارہ بالی وڈ میں اپنی جگہ بنائیں گی۔