نیلمبور عائشہ: انڈیا کی وہ اداکارہ جنھوں نے مذہبی منافرت اور گولیوں کا مقابلہ کیا

    • مصنف, عمران قریشی
    • عہدہ, بی بی سی ہندی

یہ سال 1953 کی بات ہے 18 سالہ نیلمبور عائشہ سٹیج پر مکالمہ ادا کر رہی تھیں کہ ایک گولی ہوا کو چیرتی ہوئی گزر گئی۔

’یہ میرے پاس سے نکلتی ہوئی سٹیج کے پردے سے ٹکرا گئی کیونکہ میں بولتے ہوئے حرکت کررہی تھی۔‘

عائشہ اب 87 سال کی ہیں، جنوبی انڈیا کی ریاست کیرالہ کے قصبے نیلمبور (جو ان کے سٹیج کے نام کا حصہ بن گیا) میں اپنے گھر پر بیٹھی اس دن کو یاد کرتی ہیں۔

حملہ آور کی یہ کوشش ان متعدد حملوں میں سے ایک تھی جو عائشہ کو سٹیج سے زبردستی ہٹانے کے لیے کیے گئے۔ مذہبی قدامت پسندوں کا خیال تھا کہ ایک مسلمان عورت کو اداکاری نہیں کرنی چاہیے۔

لیکن وہ اداکاری کرتی رہیں، لاٹھی، پتھر اور تھپڑ کا مقابلہ کرتی رہیں یہاں تک کہ وہ کہتی ہیں،’ہم لوگوں کے رویوں کو بدلنے میں کامیاب ہو گئے۔‘

گذشتہ ماہ عائشہ اگلی صف میں بیٹھی تھی جب کیرالہ میں اداکاروں کی ایک نئی نسل نے اس ڈرامے کو دوبارہ پیش کیا جو وہ اس وقت کر رہی تھی جب ان پر فائرنگ کی گئی تھی اس ڈرامے کے نام کا مطلب تھا ’آپ ایک اچھا انسان بننے کی کوشش کریں‘۔

نیا ورژن عائشہ پر گولی چلانے کی کوشش کے ساتھ شروع ہوتا ہے اور یہ مسلمانوں میں مذہبی قدامت پرستی کو نشانہ بناتا ہے جیسا کہ پہلے والے ورژن میں کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ اس میں عدم برداشت کے کئی حالیہ واقعات کو شامل کیا گیا ہے، خاص طور پر جن میں خواتین کو دبایا گیا۔

مثال کے طور پر، چند ہفتے قبل، کیرالہ میں ایک سینیئر مسلم رہنما نے ایک تقریب کے منتظمین کو سٹیج پر ایک طالبہ کو ایوارڈ وصول کرنے کے لیے بلانے پر ڈانٹ پلا کر تنازع کھڑا کر دیا تھا۔

2014 کے بعد سے، جب انڈیا میں ہندو قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی نے کامیابی حاصل کی، مسلمانوں پر حملوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ مسلمان انڈیا کی 20 کروڑ آبدادی کے ساتھ سب سے بڑی اقلیت ہے۔

عائشہ کہتی ہیں کہ وہ اس بات سے پریشان ہیں کہ 1950 اور 60 کی دہائیوں میں جس قدامت پرستی کے خلاف انھوں نے اور ان کے ساتھی فنکاروں نے لڑائی لڑی، انڈیا میں، بشمول کیرالہ، جسے اکثر انڈیا کی سب سے ترقی پسند ریاستوں میں سے ایک کہا جاتا ہے ایک بار پھر جڑیں پکڑ رہی ہے۔

عائشہ کہتی ہیں ’ہم نے پہلے بھی ان رویوں کو بدلنے کی کوشش کی تھی۔ لیکن اب، جب ایک نوجوان لڑکی کے سٹیج پر جانے پر اعتراض ہوتا ہے، تو ایسا لگتا ہے کہ ہم ان خوفناک دنوں میں واپس جا رہے ہیں۔‘

اس کا آغاز گراموفون سے ہوا

عائشہ ایک امیر گھرانے میں پیدا ہوئی تھیں جو اپنے والد کی موت کے بعد مشکل حالات سے دوچار ہوگئیں۔ وہ کہتی ہیں کہ جب وہ زندہ رہنے کے لیے جدوجہد کر رہے تھے تو انہیں برادری کے رہنماؤں سے بہت کم مدد ملی۔

زندگی مشکل تھی لیکن وہ گھر میں خوش تھیں۔ چند برس پہلے تک وہ بمشکل ہی گھر سے نکلا کرتی تھیں۔ پھر جب وہ صرف 14 سال کی تھیں، ان کی شادی ایک 47 سالہ شخص سے ہوگئی لیکن صرف چار دن بعد ہی انھوں نے شادی ختم کر دی۔ انھیں بعد میں معلوم ہوا کہ وہ حاملہ ہیں لیکن انھوں نے اسے طلاق دے دی۔

ایک دن، وہ گراموفون پر ایک ریکارڈ کے ساتھ گا رہی تھیں ’ہمارے گھر میں یہ واحد پر تعیش چیز رہ گئی تھی۔‘ جب ان کے بھائی اور ان کے دوست، ڈرامہ نگار ای کے ایامو اندر داخل ہوئے۔

اس وقت، کمیونسٹوں کی حمایت یافتہ ایک ترقی پسند تھیٹر گروپ ریاست میں ڈراموں، شعلہ انگیز سیاسی گانوں اور فن کی دیگر اقسام کے ساتھ جگہ بنا رہا تھا۔ اس نے کئی چھوٹے گروپوں کو ڈرامے لکھنے اور سٹیج کرنے کی ترعیب دی۔

لیکن زیادہ تر کردار بشمول خواتین کے بھی مردوں نے ہی ادا کیے۔

جب ای ایم ایس نمبودری پاد جو 1957 میں انڈیا کے پہلے کمیونسٹ وزیر اعلیٰ بنےتو ان کی سربراہی میں ایک حکومت کیرالہ میں برسراقتدار آئی تھی۔ انھوں نے ایک ڈرامہ دیکھا، تو انھوں نے ایامو کو مشورہ دیا کہ وہ خواتین کو ان کے لیے لکھے گئے کرداروں میں کام کرنے کے لیے تلاش کریں۔

جب ایامو نے عائشہ کو گاتے ہوئے سنا، تو انھوں نے پوچھا کہ کیا وہ جمیلہ کا چیلنجنگ کردار ادا کریں گی، جو ایک گھریلو خاتون ہے، جس کا ڈرامہ میں اہم کردار تھا۔

عائشہ تیار تھیں لیکن اس کی والدہ کو خدشہ تھا کہ مذہبی رہنماؤں کی طرف سے انہیں بے دخل کر دیا جائے گا۔

عائشہ کا کہنا تھا کہ ’میں نے انھیں بتایا کہ جب ہم مصیبت میں تھے تو وہ کبھی ہماری مدد کے لیے نہیں آئے۔ تو اب وہ ہمیں کیسے سزا دے سکتے ہیں؟‘

یہ ڈرامہ بہت کامیاب ہوا، لیکن اس نے بہت سوں کو بے چین کر دیا۔

ڈرامے میں عائشہ کے بیٹے کا کردار ادا کرنے والے وی ٹی گوپال کرشنن کا کہنا ہے کہ ’ہم پر بہت سے حملے ہوئے۔ مسلمان قدامت پسندوں کو یہ گستاخانہ لگا کہ کمیونٹی کی ایک خاتون سٹیج پر آ رہی تھی۔‘

لوگوں نے عائشہ پر پتھراؤ کیا جب وہ اداکاری کر رہی تھیں۔ جب ان کے ساتھیوں نے انھیں بچانے کی کوشش کی تو ان پر حملہ کیا گیا۔

ایک بار، ایک شخص نے سٹیج پر چھلانگ لگائی اور عائشہ کو اتنا زور سے تھپڑ مارا کہ ان کے کان کے پردے کو نقصان پہنچا اس سے وہ مستقل سماعت کی معذوری کا شکار ہوگئیں۔ ان پر گولی چلانے والا شخص کبھی نہیں پکڑا گیا۔

کیا ان حملوں نے انھیں خوفزدہ کیا؟

’ہرگز نہیں، میری طاقت میں اضافہ ہی ہوا۔‘

عائشہ کا کہنا ہے ’یہ لوگوں میں اچھائیوں کو سامنے لانے اور دوسروں سے ان کے پس منظر سے قطع نظر محبت کرنے کا ایک انسانی ڈرامہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے گروپ کو کئی بار نشانہ بنایا گیا۔‘

ایک سینئر صحافی جانی اوکے کا کہنا ہے کہ عائشہ کی ہمت نے انہیں کیرالہ کی تاریخ میں ایک ناقابل فراموش مقام دیا ہے۔

’وہ سماجی اصلاح کی تحریک کا حصہ تھیں جس نے فن اور ثقافت کے ذریعے تبدیلی لائی۔‘

عائشہ نے کئی ڈراموں اور فلموں میں اداکاری کی لیکن کچھ ہی عرصے بعد انھیں پیش کش ہونا بند ہونے لگیں۔

اس کے بعد وہ گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کرنے سعودی عرب چلی گئیں ’کتنے عرصے تک، مجھے یاد نہیں۔‘

جب وہ کیرالہ واپس آئیں، تو انھوں نے ملیالم زبان کی فلموں میں دوبارہ اداکاری کرنا شروع کی، اپنی کچھ پرفارمنسز کے لیے ایوارڈز جیتے۔

انھیں ورکشاپس اور پروگراموں میں بولنے کے لیے بھی مدعو کیا جاتا ہے جہاں بہت سے لوگ انھیں ایک قابل تقلید مثال کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

اپنے ماضی کے حوالے سے وہ کہتی ہیں کہ انھیں کوئی پچھتاوا نہیں ہے۔

’میں نے جسمانی حملوں سمیت ہر چیز کو برداشت کیا، آج 87 سال کی عمر میں، میں دنیا کے سامنے فخر سے کھڑی ہو سکتی ہوں۔‘