خوف میں زندگی گزارتے اترپردیش کے چار کروڑ مسلمان

انڈیا کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش میں جب ریاستی اسمبلی کے لیے ووٹ ڈالے جا رہے ہیں تو توجہ ریاست کی چار کروڑ مسلمان آبادی پر ہے مرکوز ہے۔ یہ ریاست سیاسی، مذہبی، معاشی اور سماجی لحاظ سے بہت زیادہ منقسم ریاستوں میں سے ایک ہے۔

بی بی سی کی نمائندہ کیرتی دوبے نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنما اور ریاست کے وزیر اعلیٰ یوگی آدیتہ ناتھ کی حکومت میں مذہبی منافرت کی بنیاد پر تشدد کا نشانہ بننے والے چار مسلمانوں کے معاملے پر نظر ڈالی ہے۔

ریاست کی رہائشی قمرن علی نے اپنے آنسو پونچھتے ہوئے بتایا؛ 'وہ اپنے کاندھے پر ایک رومال ڈالے رکھتے تھے۔ انھوں نے وہی رومال ان کے منہ میں ٹھونس کر ان کی جان لے لی۔'

انھوں نے بتایا کہ ان کے شوہر علی انور کو مبینہ طور پر ہندوؤں کے ایک ہجوم نے مارچ سنہ 2019 میں اس وقت ہلاک کر دیا تھا جب وہ سون بھدر ضلع میں اپنے گھر کے قریب ہندوؤں کے مشتعل ہجوم کو ایک اسلامی مذہبی عمارت کو نقصان پہنچانے سے روک رہے تھے۔

پولیس نے اس واقع میں ملوث 18 افراد کو گرفتار کیا جس میں کچھ 18 سال سے کم عمر کے لڑکے بھی شامل تھے لیکن ان سب کو چند ماہ بعد ہی ضمانتوں پر رہائی مل گئی۔ قمرن علی کے مطابق ان کا خاندان اب تک انصاف کا منتظر ہے۔

سنہ 2014 کے بعد سے جب نریندر مودی کی انتہا پسند جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے پہلی مرتبہ انتخابی کامیابی حاصل کی تھی اس کے بعد سے ذرائع ابلاغ اور اخبارات میں سرِ عام قتل اور مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کی خبریں معمول بن گئی ہیں۔

ناقدین کا دعویٰ ہے کہ اکثر ان جرائم میں ملوث افراد حکمران پارٹی کے حامی اور کارکنان ہوتے ہیں اور بی جی پی کے رہنماؤں کے مسلمان مخالف اشتعال انگیز بیانات سے ان عناصر کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی ان الزامات کی تردید کرتی ہے لیکن حکمران جماعت کے عمائدین کی طرف سے ان واقعات پر شاذ و نادر ہی مذمتی بیانات جاری کیے جاتے ہیں۔

وزیر اعظم مودی پر بھی اس وقت سخت تنقید کی گئی تھی جب سنہ 2015 میں ایک عمر رسیدہ مسلمان شخص کو گوشت رکھنے کی پاداش میں ایک ہجوم نے قتل کر دیا تھا اور اس پر نریندر مودی نے مکمل خاموشی اختیار کیے رکھی تھی۔

اس واقع کے کئی ہفتوں بعد اس شخص کی ہجوم کے ہاتھوں ہلاکت کی مذمت کرنے کے بجائے نریندر مودی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ہندو اور مسلمانوں کو ایک دوسرے سے نہیں بلکہ غربت سے لڑانا چاہیے۔ انھوں نے 'گاؤ رکشک' یعنی گائے کی حفاظت کرنے والے ہندو گروہوں پر بھی تنقید کی۔

سنہ 2015 میں اس قتل پر پوری دنیا میں تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی لیکن اس کے بعد آنے والے برسوں میں مسلمانوں کے خلاف ایسے بے شمار واقعات رونما ہو چکے ہیں۔

بھگوا پوش یا زعفرانی رنگ کا مذہبی لباس پہننے والے یوگی آدتیہ ناتھ کے، جو اکثر مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز تقاریر کرتے ہیں، سنہ 2017 میں وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد یوپی میں کئی بدترین واقعات پیش آئے ہیں۔

یہ کہنا مشکل ہے کہ ہر سال کتنے لوگ سر عام قتل ہوتے ہیں یا مذہبی منافرت کی بھینٹ چڑھتے ہیں۔ سنہ 2017 میں، انڈیا کے 'کرائم ریکارڈ بیورو' نے اس بارے میں اعداد و شمار اکھٹے کیے تھے لیکن ان کو شائع نہیں گیا کیا۔

بی بی سی کی طرف سے جن چار واقعات کو کھنگالا گیا ان میں متاثرین کے اہل خانہ نے پولیس پر بے حسی کا الزام لگایا اور کہا کہ وہ مقدمات کی پیش رفت سے مطمئن نہیں ہیں۔

ملزمان تین مقدمات میں ضمانت پر باہر ہیں جبکہ چوتھے مقدمے میں سات ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود ابھی تک کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔

ریاست میں قانون اور امن عامہ کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل پرشانت کمار نے پولیس کی بے حسی اور نااہلی کے الزامات کی تردید کی ہے۔

انھوں نے کہا کہ عوام کو کسی کو مارنے کا کوئی حق نہیں ہے اور اگر ایسے واقعات ہوتے ہیں تو ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کی جاتی ہے۔

لیکن نفرت پر مبنی جرائم کے متاثرین کی نمائندگی کرنے والے فوجداری مقدمات کے وکیل محمد اسد حیات نے الزام لگایا ہے کہ با اثر لوگوں کے عتاب سے بچنے کے لیے پولیس اس قسم کے مقدمات کی تحقیقات میں ہچکچاہٹ کا شکار رہتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ 'لنچنگ ایک سیاسی ایجنڈے کے تحت ہوتی ہے۔'

دریں اثناء متاثرین کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ خوف کے عالم میں زندگی گزار رہے ہیں، اور کچھ اپنے گھروں کو چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔

پریشان خاندان

انور علی کے بڑے بیٹے، عین الحق نے الزام لگایا کہ مقامی سکول ٹیچر رویندر کھروار کی آمد نے ان کے گاؤں پرسوئی میں فرقہ وارانہ کشیدگی کو جنم دیا۔

وہ کہتے ہیں کہ اس نے نوجوان ہندو مردوں کو امام چوک (جہاں ایک مذہبی ڈھانچہ کھڑا تھا) کے خلاف جمع ہونے اور نعرے لگانے پر اکسایا۔

مسٹر حق کہتے ہیں کہ گروپ نے اسے دو بار نقصان پہنچایا، لیکن دونوں بار پولیس نے مداخلت کی اور اس کی تعمیر نو کے لیے بات چیت کی۔

پولیس کی طرف سے درج کیے گئے مقدمے کے مطابق 20 مارچ سنہ 2019 میں انورعلی نے اس گروہ کو اس ڈھانچے کو تباہ کرنے سے روکا لیکن وہ مشتعل ہجوم علی پر ہی حملہ آور ہو گیا۔ ان کے بیٹے کا کہنا تھا کہ علی کو قتل کر دیا گیا۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق علی کی موت کسی تیز دھار آلے سے ہوئی۔

پولیس کی تفتیش میں کھروار کا نام مرکزی ملزم کے طور پر درج ہے۔ انھوں نے اس کے گھر پر چھاپہ مارا لیکن وہ نہیں مل سکا جس کے بعد اسے 'مفرور' قرار دے دیا گیا۔

کھروار اس قتل میں ملوث ہونے سے انکار کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

جب پولیس نے الزامات درج کیے تو اس چارج شیٹ میں سے اس کا نام غائب تھا۔ ضلع کے پولیس سپرنٹنڈنٹ امریندر سنگھ نے کہا: 'ہمیں رویندر کھروار کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملا۔'

مسٹر کھروار ہندو قوم پرست راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے رکن ہیں۔ جبکہ بی جے پی راشٹریہ سویم سیوک کے نظریات سے جنم لینے والی جماعت ہے۔

انور علی کی موت کے بعد کھروار کا تبادلہ ایک دوسرے گاؤں کے سکول میں کر دیا گیا۔

مرکزی ملزموں میں سے ایک راجیش کھروار نے بی بی سی کو بتایا کہ سکول ٹیچر نے انھیں بتاتا تھا کہ مسلمان اکثریتی ہندوؤں کے لیے خطرہ ہیں۔

نریندر کھروار کا کہنا ہے کہ وہ قتل کے وقت گھر پر تھا اور دوسرے ملزمان کو نہیں جانتا۔

تقریباً تین سال بعد، عین الحق نے کہا کہ وہ مایوس ہیں کہ تمام 18 ملزمان ضمانت پر جیل سے باہر ہیں۔ یہ واضح نہیں ہے کہ مقدمے کی سماعت کب شروع ہوگی۔

شاہ رخ خان نے بھی اسی قسم کی مایوسی کا اظہار کیا۔ شاہ رخ کے والد شیر خان کو جون سنہ 2021 میں متھرا ضلع میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گيا تھا۔ سات ماہ گزر جانے کے باوجود کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی۔

متھرا کے پولیس سپرنٹنڈنٹ شریش چندرا نے کہا کہ وہ اس کی وجہ بتانے کے مجاز نہیں ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ 50 سالہ شیر خان مویشیوں کی نقل و حمل کے دوران 'نامعلوم' دیہاتیوں کے ساتھ جھگڑے کے دوران مارے گئے۔

لیکن ان کے بیٹے نے الزام لگایا کہ قاتل چندر شیکھر بابا تھا، جو ایک مذہبی گرو تھا اور گائے کی پناہ گاہ چلاتا ہے۔

لیکن چندر شیکھر ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

شاہ رخ نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اس وقت بے ہوش ہو گئے جب لڑائی کے دوران گولی کو ایک ٹکڑا انھیں لگا۔

ان کا کہنا ہے کہ انھیں اگلے دن ہوش آیا جہاں انھیں اپنے والد کی موت کا علم ہوا۔

شاہ رخ نے یہ بھی الزام لگایا کہ اس نے کئی بار مسٹر چندر شیکھر کا نام پولس شکایت میں شامل کرنے کی کوشش کی لیکن پولیس نے انھیں روک دیا۔ چندرشیکھر اس الزام کی تردید کرتے ہیں۔

مسٹر چندر شیکھر کا کہنا ہے کہ انھوں نے خان اور کچھ گاؤں والوں کے درمیان لڑائی میں مداخلت کی اور زخمیوں کو ہسپتال پہنچایا۔

یہ واضح نہیں ہے کہ لڑائی کس بات پر شروع ہوئی لیکن بھینسوں کا گوشت بیچنے والوں اور مویشیوں کے تاجروں پر ہندو محافظ گروپوں نے حملہ کیا جو ان پر گائے کے گوشت کی نقل و حمل کا الزام لگاتے ہیں۔ اگرچہ اتر پردیش سمیت متعدد انڈینریاستوں میں گائے کا ذبیحہ غیر قانونی ہے لیکن بھینسیں اس پابندی سے مستثنیٰ ہیں۔

تاہم پولیس نے مسٹر چندر شیکھر کی شکایت پر شاہ رخ اور دیگر پانچ افراد کو مویشیوں کی اسمگلنگ کے الزام میں گرفتار کر لیا۔

شاہ رخ کا کہنا ہے کہ 'میں اپنے والد کی آخری رسومات میں بھی شرکت نہیں کر سکا کیونکہ میں جیل میں تھا۔'

شیر خان کی بیوہ ستارہ نے کہا کہ 'اگر وہ میرے شوہر کو مویشیوں کی سمگلنگ کا ملزم گردانتے ہیں تو انھیں پولیس کے حوالے کرنا چاہیے تھا بجائے اس کے ان پر گولی چلا دیں۔'

متاثرین خوفزدہ، مجرم آزاد

گزشتہ سال مئی میں، مراد آباد ضلع میں ایک مشتعل ہجوم کے ایک شخص پر تشدد کرنے کا ایک ویڈیو وائرل ہوا تھا جس پر شدید عوامی رد عمل سامنے آیا تھا۔

بی بی سی نے مقتول شاکر قریشی کے گھر کا دورہ کیا تو اس کی والدہ خوف سے رونے لگیں۔ آخرکار اس نے اپنے بیٹے کو بولنے کی اجازت دی۔

کئی دہائیوں سے گوشت فروخت کرنے والے خاندان سے تعلق رکھنے والے شاکر قریشی کا کہنا تھا کہ وہ اپنے سکوٹر پر ایک گاہک کے پاس بھینس کا گوشت لے جا رہے تھے کہ ایک ہجوم نے ان کا راستہ روک لیا اور ان پر گائے کا گوشت لے جانے کا الزام لگایا۔

'میں چینختا چلاتا رہا اور ان سے التجا کرتا رہا کہ میں گائے کا گوشت نہیں لے جا رہا، لیکن وہ مجھے مارتے رہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ وہ پولیس کو حملے کی اطلاع دینے سے بہت خوفزدہ تھے۔ انھوں نے ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ہی پولیس سے رجوع کیا۔

پولیس نے منوج ٹھاکر سمیت چھ لوگوں کو گرفتار کیا، جو گائے کی حفاظت کرنے والے گروپ سے وابستہ تھے۔ مسٹر ٹھاکر نے ضمانت ملنے سے پہلے دو ماہ جیل میں گزارے۔

مرادآباد کے سینیئر پولیس سپرنٹنڈنٹ ببلو کمار نے مقدمے سے متعلق سوالات کا جواب نہیں دیا۔

لیکن مسٹر ٹھاکر نے بی بی سی کو حملے میں اپنے کردار کا اعتراف کیا۔ انھوں نے کہا کہ اگر یہ ویڈیو وائرل نہ ہوتی تو انھیں گرفتار نہ کیا جاتا۔

حملے کے بعد، مسٹر قریشی نے گوشت فروخت کرنا بند کر دیا۔ اب وہ یومیہ اجرت پر کام کرتے ہیں۔

تشدد کا شکار ہونے والے کے لواحقین میں خوف اور مایوس کا احساس پایا جاتا ہے جن کا خیال ہے کہ ان کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔

مئی 2017 میں 60 سالہ غلام احمد کو بلند شہر ضلع میں اپنے گاؤں میں آم کے باغ میں مردہ پایا گیا تھا۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان کی موت 'شدید اندرونی چوٹوں' سے ہوئی تھی۔

پولیس نے دائیں بازو کے گروپ ہندو یووا واہنی سے منسلک نو افراد کو گرفتار کیا جسے اترپردیش کے موجودہ وزیر اعلیٰ مسٹر آدتیہ ناتھ نے سنہ 2002 میں تشکیل دیا تھا۔ وہ سب ضمانت پر باہر ہیں اور الزامات سے انکار کرتے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ انھیں چند روز قبل ایک ہندو خاتون کے ساتھ بھاگنے والے اپنے مسلمان پڑوسی کے خلاف انتقامی کارروائی میں مارا گیا تھا۔

انڈیا میں بین المذاہب تعلقات طویل عرصے سے منقطع رہے ہیں، لیکن حالیہ برسوں میں، ہندو مسلم جوڑوں کو ان محافظوں کے غصے کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے جو مسلمان مردوں پر ہندو خواتین کو اپنا مذہب تبدیل کرنے کے لیے راغب کرنے کا الزام لگاتے ہیں۔

احمد کا خاندان اونچی ذات کے ہندوؤں کی اکثریت والے گاؤں کے چند مسلمانوں میں سے ایک تھا۔

مقدمے کے اہم گواہ، احمد کے بھائی پپو نے بتایا کہ انھوں نے زعفرانی کپڑوں میں نقاب پوش مردوں کو احمد کو لے جاتے ہوئے دیکھا تھا۔ لیکن بعد میں اس نے گواہی دینے سے انکار کر دیا۔

احمد کے بیٹے وکیل احمد کا کہنا تھا کہ حقیقت یہ ہے کہ تمام ملزمان کا تعلق زمیندار طبقے سے ہے، جب کہ مسلمان زیادہ تر یومیہ اجرت پر مزدوری کرتے ہیں اور زمیندار ان کے لیے روزی کمانا مشکل بنا دتیے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ مرکزی ملزم گویندر کا جیل سے رہا ہونے پر 'گلے میں ہار ڈال کر استقبال کیا گیا۔' گویندر جرم سے انکار کرتے ہیں۔

اس کے بعد سے غلام احمد کا خاندان وہاں سے منتقل ہو گیا ہے۔ وکیل کہتے ہیں کہ 'ہم اس گاؤں میں کیسے رہ سکتے ہیں؟'