لاریب عطا اللہ عیسی خیلوی: ’ضروری نہیں کہ بچے بھی وہ ہی کام کریں جو والدین کرتے ہیں‘

    • مصنف, محمد زبیر خان
    • عہدہ, صحافی

’پاکستان سے لندن جا کر زندگی کبھی بھی آسان نہیں تھی۔ اس میں میرے لیے ہمیشہ مختلف چیلنجز تھے۔ میں نے نہ صرف ان چیلنجز کا سامنا کیا بلکہ اس میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے انتھک محنت بھی کی ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ آج میرا شمار دنیا کی ان چند خواتین میں ہوتا ہے جو ویژول افیکٹ آرٹسٹ کے شعبے سے وابستہ ہیں جبکہ شاید میں پاکستان سے تعلق رکھنے والی پہلی خاتون ویژول افیکٹ آرٹسٹ بھی ہوں۔‘

یہ کہنا ہے کہ پاکستان کے معروف لوک گلوگار عطا اللہ عیسی خیلوی کی بیٹی لاریب عطا کا۔

لاریب عطا اس وقت برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں مقیم ہیں۔ جہاں پر وہ بحیثت ویژول افیکٹ آرٹسٹ کے طور پر کام کر رہی ہیں۔ اس وقت وہ جارج لوکاس کمپنی سے وابستہ ہیں۔ انھوں نے بحثیت ویژول افیکٹ آرٹسٹ کی حثیت سے مختلف بین الاقوامی شہرت یافتہ فلموں، اشتہاروں اور ڈاکو مینٹریز پر کام کیا ہے۔

جن میں نو ٹائم ٹو ڈائی، فاسٹ اینڈ فیوریس نائن، ٹینٹ، چرنوبل، مارول، ڈاکٹر سٹینج جیسی شہرت آفاق اور آسکر کے لیے نامزد فلمیں شامل ہیں۔

لاریب عطا کو اپنی ٹیم کے ہمراہ آسکر، ایمیز، اور بافٹا جیسی بین الاقوامی ایوارڈ کے لیے نامزد کیا جاچکا ہے جبکہ انھیں نیٹ فلکس سیریز الٹر کاربن پر شاندار کام کی بدولت ویژول ایفیکٹ سوسائٹی ایوارڈ کے لیے بھی نامزد کیا جا چکا ہے۔

لاریب عطا مختلف ویژول افیکٹ پر دنیا بھر میں منعقدہ کانفرنسوں میں لیکچر بھی دیتی ہیں۔

صرف لاریب عطا ہی نہیں بلکہ ان کے بھائی سانول عطا اللہ عیسی خیلوی بھی بیرونی دنیا میں پنجابی اور سرائیکی گانوں کے کانسرٹ منعقد کر رہے ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’اس کے ذریعے سے میں اور میری ٹیم پاکستانی ثقافت کو پوری دنیا میں متعارف کروا رہی ہیں۔‘

لاریب عطا کہتی ہیں کہ ’ضروری نہیں کہ بچے بھی وہ ہی کام کریں جو والدین کرتے ہیں۔ مجھے بچپن ہی سے ٹوائے سٹوری اور ٹیکنالوجی سے دلچسپی تھی۔‘

لندن منتقل ہونے کے بعد بھائی سانول نے انیس سال کی عمر میں مشورہ دیا کہ میں ویژول افیکٹ کا کورس کروں جو مجھے اچھا لگا اور میرے مزاج کے مطابق تھا۔ اس لیے مجھے اس میں کامیابی ملی۔

ویژول افیکٹ کیا ہے؟

لاریب عطا کے مطابق کوئی بھی فلم، وڈیو جس پر کسی بھی طریقے سے فلم، شوٹ، اشتہار، لائیو، ایکشن کیا گیا ہو اس کی فلمنگ اور شوٹنگ کے بعد اس کو ڈیجیٹلی ایڈٹ کرتے ہوئے اس پر مختلف قسم کے افیکٹ ڈالے جاتے ہیں۔ اس کا زیادہ تر دارمدار اس بات پر ہوتا ہے کہ صارف کیا چاہتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ سارے ڈیجیٹل افیکٹ مختلف ٹولز اور سافٹ ویئریرز کے ذریعے سے ڈالے جاتے ہیں۔ یہ سارا کام کسی بھی ویڈیو کی پوسٹ پروڈکشن کے دوران کیا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’پوسٹ پروڈکشن کام جس طرح ہم دیکھ رہے ہوتے ہیں کہ ایک فلم کا کوئی بھی بیک گراونڈ ہو۔ اس کو ہم تبدیل کرتے ہیں۔ اس کے لیے مختلف ٹولز اور سافٹ ویئر استعمال کیے جاتے تھے۔ ‘

لاریب عطا کے مطابق ’ہمارے ویژول افیکٹ میں مختلف شعبے ہوتے ہیں۔ جس میں تھری ڈی ماڈل ہوتے ہیں۔ اس پر مختلف اثرات ڈالتے ہیں۔ اس کی مختلف طریقوں سے جانچ کی جاتی ہے۔ ایک سے زیادہ تیار کرکے صارف کو بھیجتے ہیں جو ان کو اچھا لگے اس پر مزید کام کرتے ہیں۔ یہ کام عموما کافی لمبا بھی ہوسکتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے کام کے اندر ہمیں بار بار ایک فلم، شوٹ، اشتہار پر کام کرنا پڑتا ہے۔ اس میں ایسے نہیں ہوتا کہ ہم جو پہلا کام کرکے دیں گے وہ ہی قبول ہوجائے گا بلکہ اس میں بار بار تبدیلیاں کرنا پڑتی ہیں۔ نئے سرے سے کرنا پڑتا ہے۔ اس وقت تک کام کرنا پڑتا ہے جب تک صارف مطمئن نہیں ہوجاتا۔ ‘

لاریب عطا کا کہنا تھا کہ ’آپ جو چند منٹ اور سیکنڈز کی فلم، اشتہار وغیرہ دیکھتے ہیں عموما اس کو مکمل کرنے میں کئی کئی دن لگ جاتے ہیں۔ بعض اوقات تو مہینے صرف ہوجاتے ہیں۔‘

لاریب عطا کا کہنا تھا کہ ’میں نے بہت شہرت یافتہ فلموں پر کام کیا ہے۔ مختلف آسکرز کے لیے نامزد کردہ فلموں پر کام کیا۔ ان پر میرے کام کو بہت زیادہ سراہا گیا تھا۔ ہمارا ہر پراجیکٹ مشکل اور مختلف ہوتا ہے کوئی بھی پراجیکٹ آسان نہیں ہوتا۔ ہم لوگ اجتماعی طور پر ایک ٹیم کی صورت کرتے ہیں۔ ٹیم کے ہر ممبر کا الگ الگ کام ہوتا ہے۔‘

مجھے کامیابی اس لیے ملی کہ یہ میرا شوق تھا۔ مجھے شروع ہی سے ٹیکنالوجی کے ذریعے سے کہانی بیان کرنا اور سننا اچھا لگتا تھا۔‘

’جو من چاہے وہ کرو‘

لاریب عطا کہتی ہیں کہ ’میں شروع ہی سے بہت الگ تھلگ تھی۔ مجھے ٹیکنالوجی کے ذریعے سے کہانی بیان کرنا اچھا لگتا تھا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ جب بھائی سانول نے مجھے مشورہ دیا تو میں نے فورا قبول کرلیا اور اس پر مردوں کی اجارہ داری کے باوجود مجھے اس میں کامیابی بھی ملی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ میرے والد خود گلوگار ہیں لیکن وہ بھی اور میری مما بھی ہمیشہ کہتے تھے کہ جس چیز میں شوق ہے وہ ہی کام کرنا ہے۔ جب میں پاکستان سے لندن آئی تو اس وقت کم عمر تھی۔

سانول عطا عیسی خیلوی بتاتے ہیں کہ ’میں میوزک کا بچپن ہی سے طالب علم ہوں۔ ابھی بھی سیکھ رہا ہوں۔ اس وقت سیکھنے کا عمل ایک مختلف مرحلے میں داخل ہوچکا ہے۔‘ وہ ایک کمپنی کے ساتھ مل کر امریکہ اور پاکستان میں مختلف کانسرٹ کروا رہے ہیں۔ جس میں پنجابی اور سرائیکی کو فروغ دینے کی کوشش کررہے ہیں۔

لاریب عطا کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’لاریب کی کامیابی کا راز یہ ہے کہ جو وہ چاہتی تھی وہ ہی کام وہ عملی زندگی میں کررہی ہے۔ یعنی شوق بھی اور پیشہ بھی۔ میرے ساتھ بھی یہ ہی ہے۔ جس وجہ سے ہمیں کامیابیاں مل رہی ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

لاریب عطا کا کہنا تھا کہ ’میری زندگی میں بہت چیلنجز اور مشکلات آئیں۔ اس کا سامنا بچپن سے کرتی آرہی ہوں۔ بچپن میں لندن منتقل ہونا ایک اور طرح کا چیلنج تھا۔ پاکستان سے برطانیہ ایک مختلف کلچر ہے۔ پھر اپنے لیے شعبے کا انتخاب کرنا اور یہ اندازہ لگانا کہ کیا صلاحیت ہے اور کیا کرسکتے ہیں۔ یہ ایک اور طرح کا چیلنج تھا۔ ‘

ان کا کہنا تھا کہ ’میں جس فیلڈ میں ہوں اس پر مردوں کی اجارہ داری سمجھی جاتی ہے۔ بہت کم خواتین نظر آئیں گی۔ بہت ہی کم ہیں۔ پاکستان سے آنا اور پھر خاتون کی حیثیت سے خود کو اس شعبے میں منوانا بذات خود ایک چیلنج تھا۔ اب بھی اس شعبے میں عالمی طور پر خواتین کی موجودگی صفر ہی سمجھ لیں۔‘

لاریب عطا کا کہنا تھا کہ ’ان تمام چیلنجز کاسامنا کرنے کے لیے بہادر اور حوصلہ مند ہونا پڑتا ہے۔ ہماری انڈسڑی میں ہر روز ایک نیا چیلنج ہوتا ہے۔ ہر روز ایک نئی کہانی ہوتی ہے۔‘

’میری زندگی کا اصل امتحان اس وقت شروع ہوا تھا جب چند سال کے وقفے کے بعد میں دوبارہ شعبے میں آئی اور کام شروع کیا۔ ‘

شادی کے بعد کام حاصل کرنا چیلنج بن گیا تھا

لاریب عطا کہتی ہیں کہ ’کام ہی کے دوران میری شادی ہو گئی اور اس کے بعد میں ماں بن گئی تھی۔ جس وجہ سے میرے کام میں کافی وقفہ آگیا تھا۔ رابطے کچھ کم ہو چکے تھے۔ کچھ عرصہ کے لیے میں برطانیہ سے بھی باہر تھی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’جب دوبارہ لندن آئی تو کام نہیں مل رہا تھا۔ اب مجھے کام حاصل کرنے کے لیے بہت زیادہ محنت کرنا پڑی تھی۔ جس کے لیے میں باہر نکلی۔ لوگوں سے رابطے قائم کیے۔ کام کے لیے خود کو مشکل میں ڈالا آرام کو ترک کیا۔ روزانہ رابطے کرتی مگر شاندار ماضی کے باوجود زیادہ کامیابی نہیں ہورہی تھی۔‘

لاریب عطا کا کہنا تھا کہ میں نے مایوس ہونا تو سیکھا ہی نہیں تھا۔ ناکامی ہوتی تو دوسرے روز پھر کامیابی کی امید پر رابطے شروع کردیتی کہ مجھے پتا تھا کہ ہر ناکامی کے بعد کامیابی کا دروازہ کھلتا ہے۔ اس دوران میری ملاقات ایک خاتون پروڈیسر سے ہوئی۔ جن کی کمپنی نے کئی آسکر حاصل کررکھے تھے۔ ‘

لاریب عطا بتاتی ہیں کہ ’میں خاتون پروڈیوسر کو ملاقات میں بتایا کہ میں کام کی تلاش میں ہوں۔ انھوں نے مجھے کہا کہ باضابطہ درخواست دو ہمیں تمھاری ضرورت ہوگی تو بلا لیں گئیں۔ اب ضابطہ درخواستیں تو میں دے ہی رہی تھیں مگر مجھے بلایا کسی نے نہیں تھا۔‘

لاریب عطا کہتی ہیں کہ ’ملاقات کو میں نے موقع جانا اور ان کو بتایا کہ میں ایک تجربہ کار اور باصلاحیت ویژول افیکٹ آرٹسٹ ہوں۔ اپنے کام کے بارے میں بتایا ساتھ میں یہ بتایا کہ میں ایک ماں بھی ہوں۔ کام میں وقفہ آچکا ہے اور مجھے اب دوبارہ اپنی صلاحتیوں کا اظہار کرنا ہے۔ ‘

’جس پر انھوں نے مجھے فورا اپنی سی وی دینے کا کہنا اور پھر تھوڑے دن بعد مجھے ان کی جانب سے کال آگئی اور ایک بار پھر مجھے اپنی صلاحتیوں کے اظہار کا موقع مل گیا تھا۔ ‘

سانول عیسی خیلوی کہتے ہیں کہ ’بے شک لاریب کے کام میں وقفہ آیا اور کچھ مشکلات بھی رہیں مگر ہم جانتے تھے کہ یہ باصلاحیت ہے اور جلد ہی دوبارہ پیش قدمی کرتے ہوئے اپنی صلاحیتوں کا اظہار کررہی ہوگئی اور ایسا ہی ہوا۔ ‘

سوشل میڈیا پر مقابلہ سخت ہے

سانول عیسی خیلوی کہتے ہیں کہ ’اس وقت دنیا گلوبل ویلج بن چکی ہے۔ میں اکثر کچھ ایسا میوزک سنتا ہوں جس کے گانے کی زبان سمجھ نہیں آتی ہے مگر میوزک پسند ہوتا ہے۔ بس یہ ہی ہم کچھ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ضروری نہیں ہے کہ گایا گیا سمجھ میں بھی آئے بس میوزک اچھا ہونا چاہیے۔ ویسے بھی میوزک کی کوئی زبان نہیں ہوتی اچھے میوزک سے ہر کوئی لطف اندوز ہوتا ہے۔ ‘

سانول عیسی خیل کہتے ہیں کہ ’اس وقت میں اپنے والد صاحب کے ساتھ ایک سولو گانے پر کام کررہا ہوں۔ امید ہے کہ جلد ہی وہ منظر عام پر آجائے گا۔‘

لاریب عطا کہتی ہیں کہ ’میں ویژول افیکٹ پر بات کرنے کے لیے تقریباً ہر جگہ جاتی ہوں۔ پاکستان میں بھی کام ہورہا ہے۔ برطانیہ کی کچھ کمپنیاں اپنے منصوبوں کے کام کا کچھ حصہ پاکستان سے بھی کرواتے ہیں۔ پاکستان سے بھی مجھ سے رابطے کیے جاتے ہیں۔ معلومات کے علاوہ مدد مانگتے ہیں۔ مجھ ان کی مدد کرکے خوشی ہوتی ہے۔‘