تلاش: ’یہ پاکستان میں غذائی قلت پر بننے والی شاید پہلی فلم ہے‘

    • مصنف, شمائلہ خان
    • عہدہ, صحافی

پاکستانی فلم ’تلاش‘ شاید وہ پہلی فلم ہے جو بچوں میں غذائی قلت جیسے اہم اور سنجیدہ موضوع پر مبنی ہے لیکن اس میں ایک فیچر فلم کے تمام اجزا جیسے کہ رومانس، ایکشن، سسپنس اور سنسنی موجود ہیں۔

اس فلم کو آج سینما گھروں میں نمائش کے لیے پیش کیا جا رہا ہے جبکہ 26 نومبر کو نیویارک میں قائم اقوام متحدہ کے صدر دفتر میں اس فلم کی خصوصی سکریننگ ہو گی، جس کے بعد اسے اقوامِ متحدہ میں سکرین کی جانے والی پہلی پاکستانی فلم کا اعزاز حاصل ہو جائے گا۔

ہدایت کار ذیشان خان (زی کے) کی پہلی فلم ’تلاش‘ میں مرکزی کردار فاریہ حسن، احمد زیب اور نعمان سمیع نے نبھائے ہیں جبکہ دیگر کاسٹ میں مصطفیٰ قریشی، عدنان شاہ ٹیپو، سلیم معراج، ممتاز کنول اور حمیرا بانو شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

فلم کی کہانی میڈیکل کے تین سٹوڈنٹس کے گرد گھومتی ہے جن کی زندگی میں نیا رخ تب آتا ہے جب انھیں سندھ کے ایک دور دراز دیہات میں میڈیکل کیمپ لگانے بھیج دیا جاتا ہے اور وہاں اُنھیں مقامی وڈیروں سے منسلک دیگر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اداکار احمد زیب بتاتے ہیں کہ ’فلم میں غذائی قلت جیسے ایک سنجیدہ موضوع سمیت تمام کمرشل پہلو بھی مدِ نظر رکھے گئے ہیں۔‘

احمد زیب فلم میں ایک ایسے ڈاکٹر کا کردار ادا کر رہے ہیں جو شہر سے پڑھائی کر کے دیہات واپس اپنے علاقے کے لوگوں کی خدمت کے لیے جاتا ہے۔

وہ بتاتے ہیں کہ ’بہت سے لوگ سیٹ پر آ کر کہتے تھے کہ آپ کے کردار ہماری زندگی سے قریب ہیں۔‘

شائقین میں یہ فلم کتنی مقبول ہو گی اور باکس آفس پر کتنی کامیاب، یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن پہلی بار کسی فلم میں کام کرنے والی اداکارہ فاریہ حسن اس فلم کے مختلف موضوع اور کہانی کی وجہ سے پر اعتماد ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’مجھے لگ رہا ہے کہ اب وقت بدل رہا ہے، اب ہم حقیقت سے قریب فلموں کو دیکھنا پسند کر رہے ہیں۔

’ہمارے پڑوسی ملک میں بھی ایسی فلمیں بن رہی ہیں تو پاکستان میں کیوں نہیں۔‘

سندھ کے علاقے عمرکوٹ، گُھجو اور مٹھی کے باسیوں کی مہمان نوازی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے احمد زیب نے کہا ’میں نے اکثر نوٹ کیا ہے کہ پاکستانی فلموں میں سندھ کو نہیں دکھایا جاتا جبکہ پنجاب بہت خوبصورت دکھایا جاتا ہے۔

’ہم جب ان علاقوں میں گئے تو ایک خوشگوار حیرانی تھی کہ کتنے خوبصوت مقامات اور کتنے خوبصورت لوگ ہیں۔‘

فاریہ حسن نے فلم کی شوٹنگ کے دوران اپنے تجربات پر بات کرتے ہوئے بتایا ’میرا ایک سین ہے جس میں بچوں کی قبریں ہیں۔ جو بہت ہی مشکل تھا۔‘

عالمی ادارے یونیسیف کے مطابق سٹنٹڈ بچوں (اپنی عمر سے کم وزن اور قد والے بچے) کی ایک تہائی تعداد پاکستان میں پائی جاتی ہے۔ جہاں حالیہ برسوں میں یہ شرح کم ہو کر 38 فیصد ہوئی ہے، تاہم اب بھی یہ دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان میں سٹنٹڈ بچوں کے نصف کیسز صوبہ سندھ سے رپورٹ ہوتے ہیں۔