آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ٹک ٹاک: ایک وائرل لمحے کو ترستے موسیقار
’اب یہ ایک ایسی چیز ہے جو کہیں جا نہیں رہی اور آپ کو اس کے ساتھ ہی کام کرنا پڑے گا۔‘
جے لیون ایک گلوکار ہیں جو اپنا مقام پیدا کرنے کی کوشس کر رہے ہیں اور ان کے نزدیک ٹک ٹاک ہی وہ راستہ ہے جس سے وہ اپنا مقصد حاصل کر سکتے ہیں۔
ٹک ٹاک کی تیزی سے بڑھتی مقبولیت موسیقی پر اثر انداز تو ہوئی ہے لیکن اب نئے آنے والے گلوکاروں کا خیال ہے کہ ٹک ٹاک کے بغیر کوئی اور چارہ بھی نہیں۔
29 سالہ جے اپنے نئے گانے کی ریلیز سے قبل مخصوص جھلکیاں روزانہ ٹک ٹاک پر پیش کر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’میں چاہتا ہوں کہ دنیا میرا نام جانے۔‘
ٹک ٹاک پر لگائی جانے والی اس گانے سے متعلق ہر ویڈیو کا ایک ہی عنوان ہے کہ ’ایک اور ایسا دن جب میں اپنا گانا اس خواہش کے ساتھ پوسٹ کر رہا ہوں کہ یہ مشہور ہو جائے اور میں پورا گانا جاری کر دوں تاکہ پھر میں صرف موسیقی کو ہی وقت دوں۔‘
جے کہتے ہیں کہ یہ ایک محنت طلب کام ہے لیکن تسلسل اہم ہے اور وہ جانتے ہیں کہ ٹک ٹاک پر وائرل ہونے کے لیے ایک ہی ویڈیو کافی ہو سکتی ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ اپنے آرٹ کو کمپرومائز کیے بغیر ٹک ٹاک جیسے بڑے سٹیج سے فائدہ اٹھانا ایک مشکل کام ہے جس میں توازن برقرار رکھنا پڑتا ہے۔
نئے گلوکاروں کے علاوہ اب تو جانے مانے آرٹسٹ بھی سمجھنے لگے ہیں کہ ٹک ٹاک پر غیر موجودگی ان کو سامعین کی ایک بڑی تعداد سے محروم کر دے گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ٹک ٹاک: موقع بھی، آزمائش بھی
بیکی ہل کے مطابق شاید زیادہ تر لوگ اس دباؤ سے آگاہ نہیں جو وائرل ہونے کی خواہش میں آرٹسٹ پر ہوتا ہے۔ ’جب ٹک ٹاک نیا نیا تھا تو مجھ سمیت سب کو لگا کہ یہ ایک اور پلیٹ فارم آ گیا جس پر مواد ڈالنا پڑے گا۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ٹک ٹاک اب ان کے سوشل میڈیا کا ایک انتہائی اہم جز بن چکا ہے لیکن پھر بھی ان کو کبھی کبھار مشکل پیش آتی ہے۔
برطانوی جوئیل کوری کے نزدیک وہ سمجھتے ہیں کہ ایسی موسیقی نہیں بنانی چاہیے جو صرف ٹک ٹاک پر ہی چلے۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی گانے کا وائرل ہونا ایک قدرتی عمل ہوتا ہے۔
لیکن تمام آرٹسٹ ٹک ٹاک ایپ کے بارے میں اتنے پرجوش نہیں ہیں۔ مشہور گلوکارہ ادیلے نے حال ہی میں بیان دیا کہ وہ اپنی نئی البم کو خاص طور پر ٹک ٹاک کے لیے بنانے کے لیے تیار نہیں۔
ایپل میوزک کو دیے جانے والے انٹرویو میں ادیلے کا کہنا تھا کہ ’اگر ہر کوئی ٹک ٹاک کے لیے موسیقی بنا رہا ہے تو پھر میری نسل کے لیے کون کام کر رہا ہے؟ میرے خیال میں بہتر ہو گا کہ میں اپنے لیول پر ہی لوگوں کے لیے کام کرنا پسند کروں گی۔‘
ٹک ٹاک پر گانے کو ٹیز کرنے کی حکمت عملی پنک پینتھریس کے لیے کام کر گئی تھی۔ حال ہی میں ایسا ہیزی کے ساتھ بھی ہوا جن کی پیکس اینڈ پوشنز کے لیے لکھی گئی فری سٹائل تحریر ٹک ٹاک پر بے انتہا مقبول ہونے کے بعد ایک مکمل گانا ریلیز ہوا اور ری مکس بھی ہوا۔
ٹک ٹاک وہ پہلا سوشل میڈیا پلیٹ فارم نہیں جو موسیقاروں کے کام آیا ہو (اس سے پہلے مائی سپیس بھی تھی) لیکن کامیابی کی تلاش کرتے نئے گلوکاروں کو اس پلیٹ فارم پر کامیابی پانے کے لیے درکار تخلیقی جدت شدید دباو کی شکل میں بھی سامنے آتی ہے۔
جے لیون کہتے ہیں کہ ’آپ ایسا کام کرنا چاہتے ہیں جس کو لوگ دیکھنا پسند کریں۔‘
’اس کام میں مایوسی بھی ہوتی ہے خصوصا اگر آپ دن رات کام کر رہے ہیں لیکن نتائج وہ نہیں ہوتے جو دوسرے لوگوں کے کام پر آتے ہیں۔‘
ٹک ٹاک پر وائرل ہونے کا طریقہ
ٹک ٹاک موسیقی کی انڈسٹری میں کام کرنے والوں کے لیے ایک پہیلی ہے جس میں یہ سمجھنا کافی مشکل ہے کہ کوئی ایک گمنام سا گانا کسی مشہور آرٹسٹ کے گانے پر سبقت کیسے لے جاتا ہے۔
دوسری جانب ٹک ٹاک نے کلاسیکی گانوں کو زندہ کرنے میں بھی مدد دی ہے۔ یہ ڈیوڈ گویٹا جیسے موسیقاروں کے لیے اچھی خبر ہے جن کے چھبیس گانے برطانیہ کے ٹاپ ٹین میں رہے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ٹک ٹاک نے ان کے لیے اس طرح آسانی کر دی کہ ’وہ گانے جو اب پرانے ہو چکے ہیں، ان کو دوسری زندگی مل رہی ہے۔‘
’مجھے نئے گانوں سے بھی پیار ہے اور میں جانتا ہوں کہ ہم ایسے سسٹم کا حصہ نہیں بننا چاہتے جو بہت قوائد و ضوابط کی قید میں ہوں اور جہاں صرف پرانے گیت ہی سننے کو ملیں۔‘
پال ہوریکون برطانیہ اور یورپ میں ٹک ٹاک کے میوزک آپریشنز کے سربراہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے پلیٹ فارم نے لوگوں کو خوف زدہ نہیں بلکہ پرجوش کیا ہے۔
’ٹک ٹاک نے موسیقی کے کھوج اور موسیقاروں اور شائقین میں رابطے کو نئی جہت دی ہے۔‘
انھوں نے اس تاثر کو رد کیا کہ ٹک ٹاک مذید طاقت ور ہونا چاہتا ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ ان کا کہنا تھا کہ ایسا ضرور ہے کہ برطانوی میوزک انڈسٹری میں موجود آوازوں کو مذید پھیلانے کی خواہش رکھتے ہیں۔
پال کے مطابق وائرل ہونے کے لیے درست تخلیق، گانے کے موزوں حصے کا چناو اور قدرتی ہونا نہایت اہم ہے۔
انھوں نے سیم فینڈر کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایسے گلوکار تھے جنھوں نے ٹک ٹاک پر اپنے چاہنے والوں کے ذریعے سیوینٹین گوئنگ انڈر ٹریک کو پھیلایا۔
ٹک ٹاک پر کوئی گانا کتنی بار دیکھا گیا اس کا چارٹ پر کوئی اثر تو نہیں ہوتا لیکن یہ ضرور ہوتا ہے کہ اس پلیٹ فارم پر مشہور ہونے والے گانے کو دیگر سٹریمنگ سروسز پر زیادہ سنا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
2021 میں برطانیہ میں ٹک ٹاک پر مشہور ہونے والے پانچ گانے
- باڈی (ری مکس) ٹیون وئین اور رس ملینز فیٹ آرڈی، ای ون، زیٹ ٹی، بزگی میلون، بونی، فیویو فارن اور ڈارکو
- لائک آئی کین، سیم سمتھ
- جسٹ فار می، پنک پینتھریس
- ان لاک اٹ (لاک اٹ) جیف پرائیو مکس، چارلی ایک سی ایکس
- لیوی ٹیٹنگ، دوا لیپا
2020 کے اواخر اور 2021 کے اوائل میں ٹک ٹاک نے تین بڑے ریکارڈ لیبلز (یونیورسل، سونی اور وارنر) کے ساتھ شراکت داری کا اعلان کیا۔ اس معاہدے کے تحت ٹک ٹاک صارفین کو ان کمپنیوں کے مکمل کیٹالاگ تک رسائی مل گئی جہاں سے وہ کلپس استعمال کر سکتے تھے۔
پال کہتے ہیں کہ ایسا نہیں کہ بڑے لیبلز ٹک ٹاک کے ذریعے مخصوص گانوں یا ٹرینڈز کو مشہور کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ ’ایسا بلکل نہیں۔ میرا خیال ہے کہ خوشگوار تخلیقی حیرانی ہی ٹک ٹاک کے مشہور ہونے کی اصل وجہ ہے اور رہے گی۔‘
اب اس بات پر بھی توجہ دی جا رہی ہے کہ ٹک ٹاک پر اپنی اصلی موسیقی لانے والے گلوکاروں اور آرٹسٹ کتنا کما سکیں گے۔ ایک ٹوئٹر صارف نے دعوی کیا کہ ٹک ٹاک پر ان کے گانے کو تین لاکھ ساٹھ ہزار بار سنا گیا لیکن ان کو صرف 19 پینس ملے۔
گزشتہ برس اراکین پارلیمنٹ کی جانب سے بھی تنقید کی گئی تھی کہ سٹریمنگ سروسز سے آرٹسٹ کچھ زیادہ نہیں کما پا رہے۔
اس چھ ماہ کی انکوائری میں ٹک ٹاک کا جائزہ نہیں لیا گیا تھا لیکن پلیٹ فارم کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ انھوں نے مکمل طور پر لائسنس یافتہ ہونے کے لیے بہت محنت کی اور تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ باقاعدہ معاہدے کیے جن میں ریکارڈ لیبلز، موسیقی اکھٹا کرنے والی سوسائٹیز بھی شامل ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ جو لوگ موسیقی بناتے اور پرفارم کرتے ہیں وہ اس کے ٹک ٹاک پر استعمال سے مالی فائدہ اٹھا سکیں۔