گنگو بائی: ’میری ماں کو جسم فروش دکھایا گیا ہے جو کہ ہتک آمیز ہے‘، گنگو بائی کے بیٹے کی شکایت

،تصویر کا ذریعہTwitter/AliaBhatt
- مصنف, نصرت جہاں
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن
بالی وڈ میں عموماً فلم کے ریلیز سے پہلے اور پروموشن کے دوران فلم یا اس کے کرداروں یا پھر اداکاروں کے بارے میں کسی نے کسی طرح کے تنازع کا سلسلہ کچھ زیادہ ہی عام ہو رہا ہے۔ اب چاہے وہ فلم 'او مائی گاڈ 'ہو یا عامر خان کی 'پی کے' یا پھر دپیکا پادوکون کے ساتھ سنجے لیلیٰ بھنسالی کی فلم 'پدماوت'۔
جہاں تک سنجے لیلیٰ بھنسالی کی فلموں کا تعلق ہے تو پدماوت کے وقت ان کے ساتھ مار پیٹ تک کی نوبت آگئی تھی۔ اب عالیہ بھٹ کے ساتھ بھنسالی صاحب کی فلم 'گنگو بائی کاٹھیا واڑی‘ پر بھی سوال اٹھائے جا رہے ہیں اور وہ بھی اس فلم کی مرکزی کردار گنگو بائی کے گود لیے بیٹے کی جانب سے۔
60 کی دہائی کے حقیقی کردار گنگو بائی کے گود لیے بیٹے بابو جی راؤ شاہ کا کہنا ہے کہ فلم میں ان کی ’ماں کو جسم فروشی کا دھندہ کرنے والی دکھایا گیا ہے جو ان کی شبیہ کو داغدار کرتا ہے اور ہتک آمیز ہے‘۔
بابو جی راؤ کا کہنا ہے کہ ٹریلر کی رلیز کے بعد سے لوگ ان کی ماں کے بارے میں ناقابل بیان باتیں کر رہے ہیں۔
گزشتہ سال بابو جی راؤ شاہ سنجے لیلی بھنسالی اور عالیہ بھٹ کے خلاف عدالت گئے تھے لیکن ہائی کورٹ نے ہتک عزت کے اس کیس میں کارروائی روک دی تھی۔ فلم اگلے ہفتے تھیئٹرز میں ریلیز ہونے والی ہے اور ریلیز سے پہلے کسی بھی طرح کا تنازع فلم کی تشہیر کے لیے بالی وڈ میں اچھا سمجھا جاتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہSOPA Images
اداکارہ مادھوری دکشت کا کہنا ہے کہ بالی ووڈ میں عورتوں کے مرکزی کردار والی فلمیں اب نئے انداز میں پیش کی جا رہی ہیں۔ ان کے مطابق ان فلموں میں اب عورتیں صرف ظلم کا شکار یا ظالموں سے بدلہ لینے والے کرداروں میں نہیں بلکہ بااختیار اور طاقتور کرداروں میں نظر آ رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ یہ آج کی عورت ہے جو پروفیشنل بھی ہے اور ہاؤس وائف بھی، سپورٹس وومن بھی ہے اور فنکار بھی۔ د
راصل مادھوری دکشت نیٹ فلکس پر ایک ویب سیریز کے ساتھ او ٹی ٹی پلیٹ فارم پر قدم رکھ رہی ہیں۔ 'فیم گیم ' نامی اس نئی سیریز میں مادھوری ایک سپر سٹار کے کردار میں ہوں گی۔ ظاہر ہے کہ سیریز کی مرکزی کرادر بھی وہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہNurPhoto
میڈیا سے بات کرتے ہوئے مادھوری کا کہنا تھا کہ اس وقت انڈسٹری میں عورتوں کے لیے اب تک کا سب سے اچھا دور ہے جہاں فلم کی کہانی ہیروئنز کے گرد گھومتی ہے اور یہ کرادر روایتی بھی نہیں ہیں۔
مادھوری نے 1984 میں فلم ’ابودھ‘ سے ڈیبیو کیا تھا اور اس فلم کی کہانی بھی ہیروئن کے گرد گھومتی تھی۔ مادھوری کا کہنا تھا کہ اس دور میں ایسے فلمساز کم ہی تھے جو اس طرح کی فلمیں بنانے میں دلچسپی رکھتے تھے لیکن اب وقت بدل چکا ہے۔

،تصویر کا ذریعہProdip Guha
یہ درست ہے کہ اب وقت بدل چکا ہے اور ساتھ ہی عورتوں اور فلموں میں ان کے کرداروں کو دیکھنے کا نظریہ بھی اور او ٹی ٹی پلیٹ فارمز نے اس نظریے کو بدلنے میں بہت مدد کی ہے جہاں نئی سوچ اور نظریے کے مالک فلسماز اور مصنف بغیر کسی الجھن کے انقلابی کہانیاں اور کردار لکھ بھی رہے ہیں اور انہیں پیش بھی کر رہے ہیں۔ یہ مصنف پدرشاہی ذہنیت سے آزاد ہو کر جدید حساسیت کے ساتھ سکرپٹ لکھ رہے ہیں۔
لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ تھیئیٹر میں جہاں شائقین ایک طاقتور ہیرو کے ’بیچاری ہیروئن‘ کو غنڈوں یا ظالموں کے چنگل سے بچانے کے منظر پر زور زور سے تالیاں بجاتے ہیں وہیں او ٹی ٹی پر لوگ پیروئن کے یکسر مختلف کردار بھی سراہتے ہیں جس کا مطلب شاید یہ ہے کہ اب ناظرین کی سوچ بھی بدل رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہPUNIT PARANJPE
بڑے پردے کے ہیرو سے یاد آیا کہ سلمان خان ایک بار پھر ٹائیگر تھری کی شوٹنگ پر پہنچ گئے ہیں اور ان کے ساتھ پہنچی ہیں نئی نویلی دلہن کترینہ کیف جو اس فلم میں ان کی ہیروئن ہیں۔ فلم کے کچھ حصے دلی میں شوٹ کیے جانے ہیں حالانکہ اس بات کو خاصا راز میں رکھنے کی کوشش کی جا رہی تھی تاکہ بھیڑ والے اس شہر میں شوٹنگ کے دوران پریشانی نہ ہو لیکن پھر بھی ان دونوں کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں۔
2012 میں اس سیریز کی پہلی فلم ’ایک تھا ٹائیگر‘ آئی تھی جس کی بعد ’ٹائگر زندہ ہے‘ آئی تھی جس میں سلمان خان کی صرف ایک مشین گن سے سینکڑوں گولیاں بے شمار غنڈوں کا کام تمام کر رہی تھیں۔ اس فلم نے بھی باکس آفس پر زبردست کامیابی حاصل کی تھی اور اب ٹائیگر تھری کی تیاری ہے۔ دیکھتے ہیں کہ ایک گولی سے چار غنڈوں کو مار گرانے کا یہ فارمولہ لوگ کب تک پسند کریں گے۔







