چین میں ’فائٹ کلب‘ کے اختتامی سین کیوں تبدیل کر دیے گئے؟

فلم سنسر ہونا یا اس کا کوئی ایک سین کٹ جانا کوئی اچنبھے کی بات نہیں لیکن اگر آپ کی پسندیدہ فلم کی کہانی ہی بدل دی جائے تو کیا ہو؟

چین میں ایسا ہی ہوا اور ایک مشہور ہالی وڈ فلم دیکھنے والوں کو اس وقت حیرانی کا سامنا کرنا پڑا جب انتہائی دلچسپ اور کلائمیکس کے مراحل میں فلم رک گئی اور کہانی اس طرح بدل دی گئی کہ سرکاری حکام کی جیت ہو گئی۔

یہ ہالی وڈ کی مشہور زمانہ فلم ’فائٹ کلب‘ ہے جس کے چینی شائقین کو اصل اختتامی سین دیکھنا نصیب نہیں ہوئے۔

لیکن ایسا کیوں کیا گیا؟ یہ جاننے کے لیے فلم کی کہانی پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

فائٹ کلب: فلاپ فلم سے شاہکار بننے تک کا سفر

1999 میں ریلیز ہونے والی ہالی وڈ کی فلم 'فائٹ کلب' نمائش کے وقت کچھ زیادہ کامیاب نہیں رہی تھی لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس کی پیچیدہ کہانی اور بہترین اداکاری نے اسے ہالی وڈ کی چند شاہکار فلموں کی فہرست میں شامل کر دیا۔

اس فلم میں مرکزی کردار مشہور اداکروں بریڈ پٹ اور ایڈورڈ نورٹن نے ادا کیے تھے اور فلم کے ہدایتکار ڈیوڈ فنچر تھے۔

یہ کہانی ایڈورڈ نورٹن کے کردار سے شروع ہوتی ہے جو اپنی زندگی اور ملازمت سے خوش نہیں ہوتا۔ ایسے میں اس کی ملاقات ٹائلر ڈرڈن (بریڈ پٹ) سے ہو جاتی ہے اور دونوں مل کر ایک انڈر گراوئنڈ فائٹ کلب کا آغاز کرتے ہیں۔

لیکن ٹائلر ڈرڈن دراصل پرتشدد طریقے سے سماج میں انقلاب لانے کا خواہش مند ہوتا ہے جس کے لیے وہ ایک خفیہ منصوبہ بناتا ہے۔

اس منصوبے کو ’پراجیکٹ میہم‘ یا ’تباہی کا مصوبہ‘ کا نام دیا جاتا ہے جس میں بہت سی عمارتوں کو دھماکے سے اڑایا جانا ہوتا ہے لیکن اسی وقت ایڈورڈ نورٹن کے کردار کو معلوم ہو جاتا ہے کہ ٹائلر اس کا اپنا تصور ہے اور اس طرح وہ خود کو مار کر ٹائلر کا بھی خاتمہ کردیتا ہے جس کے بعد دھماکوں سے عمارتیں تباہ ہو جاتی ہیں۔

چین میں کہانی کیسے تبدیل ہوئی؟

واضح رہے کہ چین میں اس فلم کو حال ہی میں سٹریمنگ پلیٹ فارم ٹینسینٹ ویڈیو پر فراہم کیا گیا ہے جس میں کہانی یکسر تبدیل کر دی گئی ہے۔

چین میں دکھائی جانے والی فلم میں دھماکوں سے پہلے ہی سکرین رک جاتی ہے اور ایک پیغام نمودار ہوتا ہے جس میں لکھا آتا ہے کہ پولیس نے اس منصوبے کو ناکام بناتے ہوئے تمام مجرموں کو گرفتار کر لیا ہے اور ٹائلر ڈرڈن کو علاج کے لیے پاگل خانے منتقل کر دیا گیا ہے۔

اسی پیغام میں فلم دیکھنے والوں کو بتایا جاتا ہے کہ ٹائلر سے حاصل ہونے والی معلومات کے ذریعے پولیس نے جلد ہی پورا منصوبہ جان لیا اور تمام بم پھٹنے سے پہلے ہی ناکارہ بنا دیے۔

ناظرین کو یہ معلومات بھی دی جاتی ہیں کہ اس معاملے پر ایک مقدمہ چلتا ہے جس کے بعد ٹائلر کو علاج کی غرض سے پاگل خانے منتقل کر دیا جاتا ہے اور سنہ 2012 میں وہ صحت یاب ہو کر ہسپتال سے باہر آ جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

چین میں سب کو اچھا انجام ملا

یہ فلم ’فائٹ کلب‘ کے عنوان سے شائع ہونے والے ایک ناول سے اخذ کی گئی تھی جو چک پالانوئک نے سنہ 1996 میں لکھا تھا۔ چین میں اس کہانی کی تبدیلی پر انھوں نے ردعمل دیتے ہوئے ٹوئٹر پر کہا ’یہ تو بہت ہی اعلی بات ہے، چین میں سب کو ہنسی خوشی والا انجام دیکھنے کو ملا۔‘

ایک اور آن لائن پلیٹ فارم سب سٹیک پر بعد میں انھوں نے لکھا کہ ’کتنی زبردست بات ہے، اس کا تو مجھے اندازہ ہی نہیں تھا۔ انصاف کی ہمیشہ جیت ہوتی ہے۔ کوئی دھماکہ بھی نہیں ہوا۔‘

چین میں اگر کسی نے اصلی فلم نہ دیکھی ہوتی تو شاید بات اتنی نہ بڑھتی۔ لیکن ایسے کئی لوگ تھے جنھوں نے اس تبدیلی کو سوشل میڈیا پر زور و شور سے بحث کا حصہ بنایا اور بات فلمی شائقین تک ہی نہیں رکی۔

امریکی سیاست دان اور سینیٹر ٹیڈ کروز بھی اس بحث میں شامل ہو گئے اور انھوں نے لکھا کہ ’فائٹ کلب کا دوسرا اصول یہ ہے ہم وہی کریں گے اور وہی کہیں گے جو چین کے کمیونسٹ سنسر کرنے والے ہمیں کرنے کو اور کہنے کو کہیں گے۔‘

واضح رہے کہ چین میں مغربی ممالک کی فلموں کو سینسر کیا جانا معمول کی بات سمجھی جاتی ہے لیکن ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ کسی فلم کی کہانی کو اپنی مرضی سے تبدیل کر دیا جائے۔