سدھارت نے ثائنہ نہوال سے اپنی ٹویٹ پر معافی مانگ لی

Saina Nehwal

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنانڈیا کی بیڈمنٹن سٹار ثائنہ نہوال

'میں اپنے غیرمہذب مذاق پر آپ سے معافی مانگتا ہوں۔ اگر ایک مذاق کی وضاحت کرنی پڑ جائے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ اچھا مذاق ہی نہیں تھا۔ لیکن لفظوں سے کھیلنے کے پیچھے ایسی کوئی بدنیتی نہیں تھی جیسا کہ لوگ سمجھ رہے ہیں۔ اس کا جنس سے کوئی تعلق تھا نہ ہی میرا ارادہ عورت ذات پر حملہ کرنے کا تھا۔'

یہ الفاظ ہیں رنگ دے بسنتی فلم سے شہرت پانے والے بالی وڈ اداکار سدھارت کے جن کے ذریعے انھوں نے منگل کی شب ٹوئٹر پر انڈیا کی بیڈمنٹن سٹار ثائنہ نہوال سے اپنی ہی ایک 'سیکسسٹ' یعنی صنفی طور پر متعصبانہ قرار دی جانے والی ٹویٹ پر معافی مانگی جس میں انھوں نے ذومعنی الفاظ کا استعمال کیا تھا۔

یہ تنازعہ کیسے اور کیوں شروع ہوا؟

حیران کن بات یہ ہے کہ انڈیا کی فلم اور سپورٹس انڈسٹری سے جڑے دو سٹارز کے درمیان ٹوئٹر پر یہ تنازعہ انڈین وزیراعظم نریندر مودی کی ذات سے شروع ہوا۔

واضح رہے کہ ثائنہ نہوال جو بیڈمنٹن میں اولمپک میڈل جیتنے والی انڈیا کی پہلی کھلاڑی ہیں 2020 میں بی جے پی میں شمولیت اختیار کر چکی ہیں جبکہ سدھارت کا شمار ایسے فلم سٹارز میں ہوتا ہے جو انڈین وزیر اعظم نریندر مودی اور بی جے پی پر تنقید کرنے سے نہیں چوکتے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

یہ معاملہ شروع ہوتا ہے پانچ جنوری کو جب وزیراعظم نریندر مودی انڈین پنجاب کے ضلع فیروزپور میں ایک ریلی سے خطاب کرنے جا رہے تھے جہاں اپوزیشن جماعت کانگریس کی حکومت ہے۔ وزیراعظم کا قافلہ سرحدی گاؤں حسینی والا سے 30 کلومیٹر پہلے ایک فلائی اوور پر 15 سے 20 منٹ تک پھنس گیا تھا کیوں کہ وہاں مظاہرین نے سڑک بلاک کر دی تھی۔

اس واقعے کو سکیورٹی کی کوتاہی قرار دیا گیا اور حکمران بی جے پی کے حامیوں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ اس دوران وزیر اعظم کی زندگی کو خطرہ بھی ہو سکتا تھا۔ یہی بحث انڈین سوشل میڈیا پر بھی نظر آئی جہاں ثائنہ نے بھی لکھا کہ اگر ایک ملک اپنے وزیراعظم کی حفاظت نہیں کر سکتا تو پھر عوام خود کو کیسے محفوظ تصور کر سکتے ہیں۔

وزیر اعظم نریندر مودی

،تصویر کا ذریعہANI

سدھارت کا ثائنہ کو جواب اور ذومعنی لفظ کا استعمال

ثائنہ کی جانب سے ٹوئٹر پر اس رائے کے اظہار پر سدھارت کی جانب سے ردعمل دیا گیا جس میں انھوں نے ایک ایسے انگریزی لفظ 'کاک' کا استعمال کیا جس کے معنی مرغے کے طور پر بھی لیے جا سکتے ہیں اور عضوِ تناسل کے طور پر بھی۔

سدھارت نے لکھا کہ 'سٹل ( subtle) کاک چیمپیئن آف دی ورلڈ۔۔۔شکر ہے انڈیا کو محفوظ رکھنے والے موجود ہیں۔'

یہ بھی پڑھیے

چھ جنوری کو کی جانے والی اس ذومعنی ٹویٹ نے انڈین سوشل میڈیا پر ایک طوفان برپا کر دیا اور سدھارت کو سیاسی اکھاڑے کے دونوں اطراف سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

انڈین گلوکارہ چنمئی سریپڈا نے سدھارت کے جملے کو انتہائی ناگوار قرار دیتے ہوئے کہا کہ 'تم نے وہی کیا جس کے خلاف عورتیں لڑائی لڑ رہی ہیں۔'

انڈیا میں نیشنل کمیشن برائے خواتین کی جانب سے ٹوئٹر کو باضابطہ درخواست دی گئی کہ سدھارت کے ٹوئٹر اکاؤنٹ کو بلاک کر دیا جائے۔یہی نہیں بلکہ ان کی جانب سے مہاراشٹر کی پولیس کے نام بھی درخواست بھیجی گئی کہ سدھارت کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔

سدھارت کی جانب سے وضاحت کی کوشش

Siddharth

،تصویر کا ذریعہGetty Images

تنقید بڑھی تو سدھارت نے دس جنوری کو وضاحت دینے کی کوشش کی۔ اس بار انھوں نے لکھا کہ ان کے جملے سے غلط مطلب اخذ کیا جا رہا ہے کیوں کہ انھوں نے انگریزی محاورے 'کاک اینڈ بل' کا اشارہ دیا تھا یعنی مرغے کی بات ہو رہی تھی۔

سدھارت نے لکھا کہ 'کچھ اور سمجھنا بلکل بھی درست نہیں ہے اور میری کسی کی بے عزتی کرنے کی کوئی نیت نہیں تھی۔'

لیکن اس وضاحت نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور معاملہ یہاں تک پہنچا کہ انڈین ٹی وی چینلز پر ٹاک شوز میں اس پر بحث ہونا شروع ہو گئی۔

ثائنہ نہوال کی جانب سے ردعمل میں انڈین خبر رساں ادارے پی ٹی آئی کو بتایا گیا کہ 'وہ جملہ اچھا نہیں تھا۔' انھوں نے کہا کہ وہ (سدھارت) بہتر الفاظ کا انتخاب کر سکتے تھے لیکن شاید ٹوئٹر پر ایسے الفاظ سے لوگ نوٹس ہونا پسند کرتے ہیں۔'

سدھارت نے اپنی دونوں ٹویٹس کو ہی ڈیلیٹ کر دیا یعنی جس میں پہلے ذومعنی جملہ لکھا گیا تھا اور بعد میں کی جانے والی وضاحت کی ٹویٹ بھی ہٹا دی گئی۔

سدھارت کی معافی

منگل کی رات سدھارت کی جانب سے ثائنہ نہوال کے نام معافی بھری ٹویٹ لکھی گئی جس میں انھوں نے لکھا کہ وہ اپنے مذاق پر معافی مانگتے ہیں۔

سدھارت نے لکھا کہ 'آپ سے اختلاف کے باوجود مجھے کوئی حق نہیں کہ میں اس طرح کی زبان کا استعمال کروں چاہے مجھے آپ کی کسی بات سے کتنا ہی دکھ اور مایوسی کیوں نہ ہوئی ہو۔

'اگر ایک مذاق کی وضاحت کرنی پڑ جائے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ اچھا مذاق ہی نہیں تھا۔ لیکن لفظوں سے کھیلنے کے پیچھے ایسی کوئی بدنیتی نہیں تھی جیسا کہ لوگ سمجھ رہے ہیں۔ اس کا جنس سے کوئی تعلق تھا نہ ہی میرا ارادہ عورت ذات پر حملہ کرنے کا تھا۔'

سدھارت نے لکھا کہ انھیں امید ہے کہ ثائنہ انھیں معاف کر دیں گی۔