آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ہارڈ ٹاک: بی بی سی کے پروگرام ہارڈ ٹاک کے میزبان سٹیفن سیکر اسحاق ڈار اور دیگر سیاستدانوں سے انٹرویوز کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟
- مصنف, عالیہ نازکی
- عہدہ, بی بی سی اردو، لندن
بی بی سی ہارڈ ٹاک کے میزبان سٹیفن سیکر کہتے ہیں کہ ’اسحاق ڈار کافی صاف گو اور سیدھی بات کرنے والے شخص ہیں‘۔
ہمیں یقین ہے کہ آپ نے بی بی سی کے پروگرام ’ہارڈ ٹاک‘ کا نام تو ضرور سنا ہوگا؟ اور اگر اب تک نہیں سنا تھا تو حال ہی میں پاکستان کے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے انٹرویو کے بعد تو ضرور سنا ہوگا۔ یہ انٹرویو پاکستان میں وائرل ہو گیا تھا۔
کچھ لوگوں کو لگا کہ شو کے میزبان سٹیفن سیکر نے اسحاق ڈار کے ’چھکے چھڑا دیے‘ تو کچھ کو لگا کہ اسحاق ڈار سخت سوالوں کے باوجود پیچھے نہیں ہٹے۔ اس حوالے سے سوشل میڈیا پر اچھی خاصی بحث ہوئی اور سینکڑوں میمز بھی گردش کرتے رہے۔
ہم نے سوچا کہ انٹرویو تو ہو گیا مگر کیوں نہ ہارڈ ٹاک کے میزبان سٹیفن سیکر سے بات کر کے پوچھا جائے کہ اسحاق ڈار کے ساتھ انٹرویو کیسا رہا اور مجموعی طور پر سیاستدانوں سے جواب نکلوانا کتنا آسان یا مشکل ہوتا ہے۔
سوال: حال ہی میں آپ نے اسحاق ڈار کے ساتھ انٹرویو کیا جو پاکستان میں بہت مقبول ہوا، کافی دیکھا گیا۔ آپ کے لیے یہ انٹرویو کیسا رہا؟
ہارڈ ٹاک پر دیگر پاکستانی شخصیات کے انٹرویوز
جواب: میں بہت خوش تھا کہ اسحاق ڈار ہمارے شو پر آنا چاہتے تھے۔ ہم ’ہارڈ ٹاک‘ پر پاکستان کو زیادہ سے زیادہ کور کرنے کی کافی کوشش کر رہے ہیں، تو جب انھوں نے شو پر آنے اور ہمیں انٹرویو دینے کے لیے رضامندی کا اظہار کیا تو ہم بہت خوش ہوئے۔ ساتھ ہی اسحاق ڈار کافی صاف گو اور سیدھی بات کرنے والے شخص ہیں۔ ہارڈ ٹاک کے انٹرویوز میں ہمیشہ ایک شدت ہوتی ہے جو اس گفتگو میں بھی تھی۔ مجھے تو کافی مزہ آیا اور مجھے لگتا ہے کہ انٹرویو کے دوران ڈار صاحب کو بھی مزہ آیا اور انھیں یہ قابل قدر لگا۔
سوال: آپ کے جو مہمان ہوتے ہیں ان میں اکثر سیاستدان بھی ہوتے ہیں جو سیدھے جواب نہیں دیتے، ان سے جواب نکلوانا کتنا آسان ہوتا ہے؟
جواب: مجھے یہ شو کرتے ہوئے پندرہ سال ہو گئے ہیں۔ سیاستدان اور دیگر عوامی شخصیات اپنی بات سامنے رکھنے کے لیے، جو سوال پوچھا گیا ہو اس کا جواب نہ دینے کے لیے، جن طریقوں کا استعمال کرتے ہیں ان کا میں کافی عادی ہو گیا ہوں۔ مختلف طریقے ہوتے ہیں انھیں واپس موضوع پر لانے کے لیے۔ کبھی ایک ہی سوال کو کئی بار پوچھنا پڑتا ہے۔ کبھی اسے الگ زاویے سے پوچھنا پڑتا ہے لیکن کوشش یہی ہوتی ہے کہ بات سوال پر واپس پہنچے۔
ہارڈ ٹاک کا انٹرویو پچیس منٹ چلتا ہے، اس میں ایک روانی ہوتی ہے۔ آپ ایک سوال پوچھتے ہیں لیکن اگر آپ کا مہمان جواب نہیں دے رہا تو آپ کسی اور موضوع پر بات کر کے ایک بار پھر اپنے سوال کی طرف آ سکتے ہیں۔
کچھ مہمان اس چیلینج کو بھرپور طریقے سے اپناتے ہیں اور شروع سے ہی صاف اور واضح جواب دیتے ہیں، کچھ کو کھلنے میں ذرا وقت لگتا ہے۔ لیکن سوال پوچھنے والے کو بھی اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ وہ عزت سے پیش آئیں۔ انٹرویو کوئی باکسنگ میچ نہیں ہوتا جہاں میں نے کسی حریف کو چاروں خانے چت کرنا ہو۔ میرا مقصد اپنے ناظرین کے لیے معلومات حاصل کرنا ہوتا ہے۔
سوال: انٹرویو کے دوران اس بات کو کیسے یقینی بنایا جائے کہ آپ سخت سوال، جارحانہ انداز میں تو کریں لیکن بات بدتمیزی تک نہ پہنچے؟
جواب: یہ ایک اہم سوال ہے اور میرے لیے اس کا جواب عزت اور احترام میں ہے۔ میں اپنے مہمانوں کی عزت کرتا ہوں۔ ان میں سے اکثر عوامی شخصیات ہوتی ہیں جو اپنے ممالک میں اہم مقام رکھتی ہیں۔ میں ان کے بارے میں تحقیق اور موضوع پر تیاری کرتا ہوں، اس بات کو یقینی بناتا ہوں کہ انٹرویو سے پہلے میرے پاس تمام معلومات ہیں اور میں ہمارے ناظرین کی بھی عزت کرتا ہوں۔ مجھے لگتا ہے کہ ہمارے ناظرین ایک دانشمندانہ گفتگو دیکھنا چاہتے ہیں۔ وہ جارحیت اور بدتمیزی سے بھرا باکسنگ میچ نہیں دیکھنا چاہتے۔ ہمارے شو کا نام ہارڈ ٹاک ضرور ہے لیکن اس کا مقصد ہمارے ناظرین کے لیے معلومات اور جواب حاصل کرنا ہے۔ یہ میرا اپنے مہمان کے ساتھ کوئی ذاتی مقابلہ بالکل نہیں۔
سوال: ہارڈ ٹاک کا انٹرویو ویسے تو 25 منٹ کا ہوتا ہے لیکن اس کی تیاری اور تحقیق کس طرح ہوتی ہے؟
جواب: ہارڈ ٹاک کی سب سے بڑی طاقت اور وہ بات جو اس کو دیگر چھوٹے نیوز انٹرویوز سے الگ کرتی ہے وہ یہ ہے کہ ہم کافی سنجیدگی سے تحقیق اور تیاری کرتے ہیں۔ اس کے پیچھے پوری ٹیم ہوتی ہے۔ ظاہر ہے میں سٹوڈیو میں ہوتا ہوں، میرا چہرہ سب دیکھتے ہیں لیکن میرے پیچھے بہترین تحقیق کاروں اور پروڈیوسرز کی ایک ٹیم ہے جن کے پاس تین چار دن ہوتے ہیں ایک ڈوسئیر بنانے کے لیے جس میں مہمان کے بارے میں معلومات ہوں۔
پھر اس کے بعد میرے پاس ایک آدھ دن ہوتا ہے اس سارے مواد کو پڑھ کر اچھی طرح سمجھنے کے لیے، یہ سوچنے کے لیے کہ کس طرح کے سوالات ہو سکتے ہیں، کیا ماضی میں ان کے مؤقف میں کوئی تضاد رہا ہے جس کے بارے میں بات کی جا سکے۔
حقیقت تو یہ ہے کہ انٹرویو کی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ مائیک آن ہونے سے بہت پہلے ہو چکا ہوتا ہے اور اس کا دارومدار انٹرویو سے پہلے ہونے والی تحقیق پر ہوتا ہے۔ اگر تیاری پکی نہ ہو تو وہ بات انٹرویو میں صاف نظر آ جاتی ہے اور انٹرویو موضوع کی گہرائی تک نہیں پہنچ پاتا۔
سوال: آپ نے اتنے سارے انٹرویوز کیے ہیں، وہ کونسا انٹرویو تھا جسے کرنے میں آپ کو سب سے زیادہ مزہ آیا ہو؟ سب سے یادگار انٹرویو؟
جواب: اس کا جواب میرے لیے بہت آسان ہے۔ وہ انٹرویو جو ہمیشہ یاد رہے گا، وہ تب تھا جب مجھے کراکس جا کر وینیزویلا کے صدر ہوگو شاویز کا انٹرویو کرنے کا موقع ملا، ایک ایسے وقت میں جب وہ فیڈل کاسترو کے ساتھ لاطینی امریکہ میں سوشلِسٹ انقلاب کے سب سے نمایاں رہنما تھے۔
انھیں مغربی میڈیا بالکل پسند نہیں تھا۔ وہ امریکی میڈیا کے ساتھ ساتھ بی بی سی کو سامراجیت کا آلہ کار سمجھتے تھے لیکن کافی کوششوں کے بعد وہ ہم سے بات کرنے پر راضی ہوئے اور مجھے صدارتی محل آنے کی دعوت دی۔
وہ ایک نہایت ہی متاثرکن اور دعویدار شخصیت کے مالک تھے۔ اور میرے سامنے بالکل ایسے ہی بیٹھے تھے جیسے آپ بیٹھی ہیں۔ چوڑا سینہ، بہت پرکشش شخصیت! پچیس منٹ کا انٹرویو ہونا تھا مگر وہ ایک گھنٹے تک مجھے لیکچر دیتے رہے، اپنی انگلی میرے چہرے کے سامنے ہلاتے رہے۔ ایک بار تو یہ بھی کہا کہ سٹیون مجھے یقین نہیں ہوتا کہ بی بی سی نے میرا انٹرویو کرنے کے لیے تم جیسے بیوقوف کو بھیجا ہے!
کیونکہ ہر بار کی طرح میں تیاری کر کے گیا تھا اور ان سے انسانی حقوق اور آزادی اظہار کے کچھ کیسز کے بارے میں سوال کر رہا تھا۔ میرے پاس شواہد تھے۔ وہ ایک بہت ہی دلچسپ انٹرویو تھا۔ اور یہ ایک ایسا انٹرویو تھا جو وہ اپنے ملک کی میڈیا کے ساتھ کبھی نہیں کرتے۔
یہ واضح تھا کہ صدر کو بھی کافی مزہ آیا تھا کیونکہ انٹرویو کے بعد۔ وہ مقامی ٹی وی پر آئے اور انھوں نے ہسپانوی زبان میں کہا کہ ’ہارڈ ٹاک سے یہ شخص ابھی مجھ سے مل کر گیا ہے۔ کافی مضبوط تھا۔ وہ اپنی تیز گیندیں میری طرف پھینکتا رہا لیکن میں نے سب کو پارک سے باہر اڑا دیا!‘
یہ قصہ دہرانے کا مقصد یہ ہے کہ سیاستدان جانتے ہیں کہ ہارڈ ٹاک پر انھیں چیلینج کیا جائے گا اور سخت سوال پوچھے جائیں گے مگر وہ سیاست دان جنھیں اپنے کیس پر اعتماد ہوتا ہے، جنھیں اپنے پیغام پر یقین ہوتا ہے، وہ اس شو کو انجوائے کرتے ہیں۔ بات سچ ہے کہ ہارڈ ٹاک آسان نہیں لیکن یہ ایک زبردست پلیٹ فارم بھی ہے۔ ہمارے شو کے ذریعے عوامی شخصیات کو ہر دن ستر ملین افراد تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
سوال: ہارڈ ٹاک جیسے شوز آج کل کے سوشل میڈیا دور میں کتنے اہم ہیں اور کیوں؟
جواب: یہ ایک بہت ہی اہم سوال ہے۔ جہاں تک دنیا کو ہارڈ ٹاک جیسے شوز کی اہمیت کے بارے میں بتانے کا سوال ہے تو یہ میرا مشن ہے،اور میں اس پر شدت سے یقین رکھتا ہوں کہ ہمارا جو کام ہے یعنی ایک لمبا، سنجیدہ، تحقیق پر مبنی انٹرویو آج کل کی دنیا میں اور آج کل کے میڈیا کو دیکھتے ہوئے نہایت ہی اہم ہے۔
شاید اتنا اہم پہلے کبھی نہیں تھا کیونکہ ہم ایک ایسی دنیا میں رہتے ہیں جہاں ہر طرف سے ہمیں معلومات حاصل ہو رہی ہیں، ہمارے سمارٹ فونز کے ذریعے۔۔۔ سوشل میڈیا کے ذریعے۔۔۔ اس میں سے زیادہ تر کی تصدیق ممکن نہیں ہوتی اور زیادہ تر کے بارے میں ہمیں یہ بھی پتا ہے کہ وہ بالکل قابل اعتبار نہیں ہوتیں، فیک نیوز سے اب ہم سب واقف ہیں۔
ایسے میں ہمارا پروگرام، یہ چند آخری شوز میں سے ایک ہے۔ ایک سادہ سا فارمیٹ، ایک لمبا انٹرویو، جہاں ہمارے پاس یہ موقع ہوتا ہے کہ ہم ایک سیاستدان یا عوامی شخصیت کو اپنے سٹوڈیو میں بلائیں اور ان سے وہ سوال پوچھیں جن کے جواب ہمارے ناظرین جاننا چاہتے ہیں، خاص طور پر ان کے اپنے ممالک میں۔ آج سے پہلے شاید اس طرح کی جوابدہی اور شفافیت کی ضرورت پہلے کبھی نہیں تھی۔
سوال: آخر میں صحافیوں کے لیے آپ کی طرف سے انٹرویو کرنے کے لیے تین ٹاپ ٹِپس (اہم مشورے)؟
جواب:سب سے اہم۔۔۔ اپنے کانوں کا استعمال کریں۔ ہاں، آپ کے پاس انٹرویو کے لیے ایک پلان ہو سکتا ہے، کس طرح کے سوال آپ پوچھنا چاہتے ہیں وغیرہ، لیکن مہمان کی بات سننا نہایت اہم ہے۔کیونکہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ کچھ ایسا کہیں جس کی آپ توقع ہی نہیں کر رہے تھے۔ اپنے کان کھلے رکھیں!
نمبر دو، کبھی بھی غصہ نہ ہوں۔ انٹرویو میں اس قدر نہ الجھ جائیں کہ آپ کا پارا چڑھ جائے اور آپ غصہ ہو جائیں۔
نمبر تین، عزت کریں، احترام کریں۔۔۔ اپنے مہمان کا اور اپنے ناظرین کا۔۔۔ میرا پکا یقین ہے کہ ہمارے ناظرین ذہین اور عقل مند لوگ ہیں جو ایک دانشمندانہ اور تحقیق پر مبنی گفتگو دیکھنا چاہتے ہیں۔
تو میری تین ِٹپس:
کان کھلے رکھیں
غصے پر قابو رکھیں
احترام کریں