آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پشتون، پختون اور پشتین: نسل پرستی کے موضوع پر بنی متنازع ویڈیو سوشل میڈیا پر زیر بحث
نسل پرستی کے خلاف آوازیں تو دنیا بھر میں اٹھتی رہتی ہیں حال ہی میں امریکہ اس کی تازہ مثال بنا۔ کچھ ایسا ہی پیغام پاکستان میں دینے کا خیال آیا تو کسی نے ایک ویڈیو بنا ڈالی۔ پیغام تو بڑا سادہ سا تھا لیکن جس طریقے سے یہ عوام تک پہنچایا گیا وہ متنازع بن گیا۔
پاکستان کے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں بظاہر #SayNoToRacism اور سبھی پختون، پنجابی، سندھی، بلوچی اور مہاجر برابر ہیں کا پیغام دینے کی کوشش کی گئی لیکن ہوا اس کے بالکل برعکس۔
اس ویڈیو کو دیکھنے والوں کا کہنا ہے کہ جس کسی نے بھی ناشپاتی پرائم نامی ڈجیٹل میڈیا پلیٹ فارم کے اس پیغام کا سکرپٹ لکھا وہ پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا اور اس کے قریب و جوار کے رہنے والوں کے متعلق بالکل نابلد ہے۔
یہ بھی پڑھیے
ویڈیو میں کیا ہے؟
اس ویڈیو میں ایک لڑکی شادی نہ کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے ایک لڑکے سے کہتی ہے کہ اسے کسی پٹھان سے شادی نہیں کرنی۔ اور اس کی وجہ بتانے ہوئے وہ پختونوں کو غصہ ور، گرم مزاج اور شدت پسند قرار دیتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس ویڈیو میں لڑکی کہ بقول پٹھان تعصب برتتے ہیں ’پختون ہمیشہ منفی رویہ رکھتے ہیں اور گلہ کرتے ہیں کہ ملک نے انہیں دیا ہی کیا ہے۔‘
جواباً پہلے تو لڑکا اس لڑکی سے دریافت کرتا ہے کہ وہ پختونوں کی بات کر رہی ہے یا پشتونوں کی۔ اس کے بعد وہ اس لڑکی کو یہ احساس دلاتا ہے کہ کسی ’ایک فرد‘ کی وجہ سے پوری قوم کو موردِ الزام ٹھہرانا درست نہیں۔
اس ویڈیو میں جس جملے پر بظاہر سب سے زیادہ ردعمل سامنے آیا ہے وہ یہ ہے کہ لڑکا کہتا ہے ’ہمیں بھی برا لگتا ہے پختونوں کو ایک انتہا پسند پشتین سے ملایا جائے۔ ہر پختون پشتین نہیں ہوتا۔‘
اس جملے کے بعد یہ پیغام سکرین پر ابھرتا ہے کہ نسل پرستی سے انکار کریں، ہم سب کا تعلق ایک پاکستان سے ہے۔‘
’انتہا پسند پشتین‘ کے الفاظ سنتے ہی لوگوں کے لیے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ یہاں ذکر منظور پشتین کا کیا جا رہا ہے اس لیے ٹاپ ٹرینڈ میں منظور پشتین کا نام بھی شامل تھا۔
ماروی سرمد نے اس کی مذمت کرتے ہوئے لکھا کہ منظور پشتین کو انتہا پسند قرار دینا ٹھیک نہیں تھا۔
پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما محسن داروڈ کا کہنا تھا کہ پشتون ایسی نسل پرستی کا سامنا ہر روز کرتے ہیں۔ ’اور اپنے لوگوں کے حقوق، انصاف کے حصول اور اپنے لوگوں کے خلاف ظلم کے خاتمے کا مطالبہ کرنا ہمیں شدت پسند نہیں بناتا۔ یہ سختی سے قابل مذمت ہے۔‘
پختون، پشتون اور پشتین میں دراصل فرق کیا ہے؟
بی بی سی اردو سروس نے پشاور میں اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے شعبۂ پشتو کے سربراہ اور پشتو کے مشہور شاعر عباسین یوسفزئی سے بات کی اور پوچھا کہ پختون، پشتون اور پشتین میں دراصل فرق کیا ہے؟ تو انھوں نے بتایا کہ اس میں فرق صرف مختلف لہجوں اور علاقوں کا ہے۔
’پشتو زبان کے دو لہجے ہیں۔ ایک یوسفزئی لہجہ اور دوسرا قندھاری لہجہ۔ یوسفزئی لہجہ بولنے والے جن میں اکثریت پاکستان میں پشاور اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں رہتی ہے پختون بولتی ہے، جبکہ قندھاری لہجہ بولنے والے جو کہ افغانستان اور پاکستان کے جنوب میں رہتے ہیں پشتون بولتے ہیں۔‘
وہ بتاتے ہیں ’پشتین بھی لہجے کی بات ہے، ورنہ وہ بھی بختون ہی ہیں۔ وزیرستان اور بنوں کے علاقوں میں ’ے‘ پہ زور دیا جاتا ہے۔ جیسے پشتو کا لفظ مور یعنی ماں وہاں جا کر میر بن جاتا ہے۔ لیکن لکھنے میں سب ایک ہی طرح لکھتے ہیں، املا بالکل ایک جیسی ہے۔‘
سوشل میڈیا پر ردعمل
سوشل میڈیا پر اس وقت جو موضوع ٹرینڈ کر رہے ہیں ان میں سر فہرست پخِتون اور پشتون ہی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ آئی ایم پشتین بھی ٹرینڈ کرتا رہا۔
سوشل میڈیا صارفین نے اس ویڈیو میں جہاں پشتون اور پشتین کے الفاظ کے باعث پیدا کی جانے والی غلط فہمی کو آڑے ہاتھوں لیا وہیں اسے منفی پروپیگینڈا بھی قرار دیا۔
ندا کرمانی نے لکھا کہ ’یہ پروپیگینڈے کا انتہائی برا مظاہرہ ہے۔‘
وہیں گلالئی محسود نے اپنی قوم کو شدت پسند کہنے پر لکھا: ’لیکن ہم سب پشتین ہیں اور آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے پشتین انتہا پسند نہیں بلکہ امن پسند ہیں۔‘
شربت گلا نے لکھا کہ ’ہم سب پشتین ہیں کیونکہ ہماری مادری زبان میں پختون نہیں پشتین کہا جاتا ہے۔ بتائیں کیا میں پاکستانی نہیں ہوں؟ کیا میں صرف اپنے ’ڈائیلیکٹ‘ یا بولنے کے طریقے کی وجہ سے انتہا پسند ہوں۔‘
اشفاق بلوچ کے مطابق یہ کام ’پاکستان کے خلاف کام کرنے والے لابی کر رہی ہے‘۔
ایک صارف عمران خان لکھتے ہیں کہ ’ایسا تب ہوتا ہے جب آپ ایسے مسئلے پر سکرپٹ لکھنے کے لیے وادیِ پشاورسے کسی گل خان کو نوکری پر رکھیں۔ پختون کو پشتو کے مرکزی ڈائلیکٹ میں پشتین بولا جاتا ہے۔ یہ لفظ منظور نے نہیں بنایا۔ ’یہ کہنا کہ ’ہر پختون، پشتین نہیں ہوتا ایک نسل پرستانہ بیان ہے۔‘
صحافی طلعت اسلم لکھتے ہیں کہ „کیا ان کو کسی نے نہیں بتایا کہ پشتو/پختو کے مختلف ڈائلیکٹس میں پختون، پشتون اور پشتین کا ایک ہی مطلب ہے‘۔
ناشپتی پرائم کراچی میں قائم ایک ڈجیٹل میڈیا پلیٹ فارم ہے جو یوٹیوب، فیس بک، انسٹاگرام اور اپنی ویب سائٹ پر اپنے آن ڈیمانڈ اینٹرٹینمنٹ پروگرام دکھاتا ہے۔