سوشل میڈیا پر بحث: ٹی وی ڈرامے انسانی ذہن اور معاشرتی اقدار پر کیسے اثر انداز ہوتے ہیں؟

    • مصنف, سعد سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

ایک ایسے وقت میں جب کورونا وائرس کی وبا نے لوگوں کو گھروں میں رہنے پر مجبور کر دیا ہے وہیں ٹیلی وژن عام افراد کی تفریح کا ایک اہم ذریعہ بن کر سامنے آیا ہے اور اس میں پاکستانی ڈراموں کو نہ صرف پاکستان میں مقبولیت حاصل ہے مگر انڈیا میں بھی ان ڈراموں کے مداح پائے جاتے ہیں۔

سوشل میڈیا پر جہاں صارفین نجی ٹی وی چینلز پر نشر ہونے والے ڈراموں کی کہانی اور کرداروں پر تبصرہ کرتے نظر آتے ہیں وہیں اس بحث نے بھی اپنی راہ بنائی ہے کہ ان ڈراموں کے معاشرتی سوچ اور افکار اور پر پڑنے والے اثرات کیا ہیں۔

کنول احمد نامی ایک صارف نے گذشتہ روز پاکستانی ڈراموں سے متعلق ایک ٹویٹ کی جو دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہو گئی۔

کنول احمد نے پاکستانی ڈرامہ آپ کو کیا سکھاتا ہے کہ نام سے ایک ٹویٹ کا ایک سلسلہ شائع کیا اور ڈراموں کے مختلف منظرنامے بیان کرنے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا کہ اس وقت ٹی وی پر نشر کیے جانے والے بیشتر پاکستانی ڈراموں کا مرکزی خیال شادی شدہ مرد کا دوسری بیوی گھر لانے کے گرد گھومتا ہے۔

اس ٹویٹ کے نیچے ایک گرما گرم بحث چھڑ گئی جہاں متعدد صارفین کنول کی حمایت میں سامنے آئے اور ان سے اتفاق کرتے ہوئے یہ موقف اپنایا کہ پاکستانی ڈرامے یقیناً معاشرے میں ایک پدرشاہی سوچ کو فروغ دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

دوسری جانب دیگر صارفین نے ان کی رائے سے نہ صرف اختلاف کیا مگر یہ سوال بھی اٹھایا کہ دوسری بیوی کو گھر لانا اتنا معیوب کیوں سمجھا جاتا ہے؟

سید احمد نامی صارف نے کنول کی رائے سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ یہ درست نہیں کہ تمام ہی پاکستانی ڈراموں کی مرکزی کہانی اسی کے گرد گھومتی ہو اور یہ کہ ڈرامے پاکستانی معاشرے کی عکاسی نہیں کرتے۔

ٹی وی ڈرامے انسانی ذہن پر کیسے اثر انداز ہوتے ہیں؟

ملک میں لاک ڈاؤن کے باعث لوگوں کے پاس تفریح کے مواقع انتہائی محدود ہو گئے ہیں اور ایسے میں سوشل میڈیا پر صارفین ایک دوسرے سے اچھے پاکستانی ڈراموں کے نام پوچھ رہے ہیں تاکہ گھر پر وقت گزارہ جا سکے۔

ایک صارف نے لکھا کہ موجودہ حالات میں ذہنی سکون حاصل کرنے کے لیے وہ یوٹیوب پر بغیر تعطل کے پاکستانی ڈرامے دیکھ رہی ہیں۔

پاکستانی ڈراموں کی مقبولیت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ماہر نفسیات انعم نجم کا کہنا تھا کہ عوام کی اکثریت کو ان ڈراموں اور ٹی وی پر نشر کیے جانے والے مواد تک رسائی حاصل ہے۔

انعم نجم کے مطابق آبادی کے ایک بہت بڑے حصے میں معلومات حاصل کرنے کا واحد ذریعہ یہی ڈرامے ہوتے ہیں اور تواتر سے ایسا مواد دکھانے سے 'یہ افراد اپنی زندگی کو اسی معیار پر ڈھالنے کی کوشش کرنے لگتے ہیں جسے ماڈلنگ بھی کہا جاتا ہے۔'

انسانوں کی شخصیت پر اس کے اثرات کے حوالے سے انعم نجم کا کہنا تھا کہ ’بہت سے ایسے فیصلے جن کو لینے سے ہم ہچکچاتے ہیں، میڈیا پر تواتر سے دیکھنے کے بعد ہمارے اندر وہ حساسیت ختم ہو جاتی ہے اور ہم ان فیصلوں کو معمولی تصور کرنے لگتے ہیں۔‘

ایسی دیگر تحقیقات موجود ہیں جہاں یہ دیکھا گیا کہ پرتشدد واقعات پر مبنی گیمز یا ویڈیوز دیکھنے کا براہ راست اثر بچے کے ذہن پر پڑتا ہے۔ ایک ایسی ہی تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے انعم نجم کا کہنا تھا کہ یہ دیکھا گیا کہ بچے میں پرتشدد سوچ کا اضافہ ہوتا ہے اگر وہ ایسی ویڈیوز تواتر سے دیکھیں۔

کیا پاکستانی ڈرامے معاشرے کا عکاس ہیں؟

صحافی اور حقوق نسواں کی ایک سرگرم کارکن نایاب گوہر جان کے مطابق پاکستانی ڈرامے پدرشاہی سوچ کو پنپنے میں مدد دیتے ہیں۔

پاکستانی ڈراموں میں خواتین کرداروں سے متعلق نایاب گوہر کا کہنا تھا کہ ’خواتین کو ان ڈراموں میں کمزور اور تابعدار دکھایا جاتا ہے اور نوکری پیشہ خواتین کی ان ڈراموں میں کوئی نمائندگی نہیں کی جاتی۔‘

اس کردار نویسی پر تبصرہ کرتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ لباس جیسی چیزوں کی بنیاد پر ڈھکے چھپے انداز سے اچھی اور بری خاتون کے درمیان تفریق کی جاتی ہے۔

لاہور یونیورسٹی آف مینیجمنٹ سائنسز (لمز) کے شعبہ عمرانیات کی معلمہ ندا کرمانی کے مطابق ایک حد تک معاشرے کے رجحانات کی عکاسی ڈراموں میں ہوتی ہے مگر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ معاشرتی رویوں کے درست عکاس ہے۔

’پاکستانی ڈرامے صرف ناکام اور ناخوش شادیوں سے متعلق ہوتے ہیں‘

پاکستان کے قومی ادارہ برائے پاپولیشن سٹڈیز کی ایک تحقیق کا حوالہ دیتے ہوئے حقوق نسواں کی ایک سرگرم کارکن نازش بروہی نے ٹوئٹر پر لکھا کہ پاکستانی ڈراموں میں دوسری شادی کا موضوع کیوں غالب ہے جبکہ 2017-18 کی تحقیق کے مطابق معاشرے میں صرف چار فیصد خواتین ایسے شادی شدہ رشتے سے منسلک ہیں۔

سوشل میڈیا پر بہت سے صارفین نے نشاندہی کی کہ اس وقت ٹی وی پر دکھائے جانے والے تمام ڈرامے ان موضوعات پر مبنی نہیں ہوتے اور انھوں نے ماضی کے چند ڈراموں کی مثال دیتے ہوئے صارفین کو انھیں دیکھنے کی تاکید بھی کر ڈالی۔

سنہ 2012 سے پاکستانی ڈراموں کی ناقد اور میڈیا کے ادارے ڈان سے وابستہ صدف حیدر کے مطابق ٹی آر پی یا ریٹنگ کی بنیاد پر بھی یہ ڈرامے ترتیب دیے جاتے ہیں اور یہ دیکھا گیا ہے کہ ڈرامہ بنانے والے اور ہدایت کار ان کو ملحوظ خاطر رکھتے ہیں۔

گھریلو خواتین پر مبنی اکثریتی ڈراموں پر بات کرتے ہوئے صدف کا کہنا تھا کہ عمومی طور پر یہی خواتین بڑی تعداد میں ان ڈراموں کو دیکھتی ہیں جس کے باعث بہت سے پاکستانی ڈرامے خصوصی طور پر ان ناظرین کے لیے یہ ترتیب دیے جاتے ہیں۔

صدف حیدر کے مطابق ایسا نہیں کہ ہدایت کار ڈراموں میں روشن خیال کرداروں کو نہیں دکھاتے مگر ان کا زیادہ انحصار منافع کمانے کی جانب ہوتا ہے جس کے باعث وہ متوسط طبقے کے افراد کی گھریلو کہانی پر اپنی توجہ مرکوز رکھتے ہیں۔

کیا ساری ذمہ داری میڈیا کی ہے؟

صحافی نایاب گوہر کے مطابق میڈیا پر نشر ہونے والے ڈراموں پر معاشرے میں پائے جانے والی سوچ کی مکمل ذمہ داری نہیں ڈالی جا سکتی لیکن تواتر سے ایسے مواد کو دیکھنے سے آپ پر ایک گہرا اثر ضرور پڑتا ہے۔

ندا کرمانی کی رائے میں موجودہ دور میں اکثریتی ڈرامے پدرشاہی کی سوچ کو فروغ دیتے ہیں مگر اس کے برعکس ماضی میں ایسے بیشتر ڈرامے تھے جو اس بنیاد پرنہیں بنائے جاتے تھے۔

کورونا کی وبا خود کسی ڈراؤنی فلم سے کم نہیں لیکن اس وبا کا خوف کم کرنے اور مشکل وقت کو آسان بنانے میں فلم اور ڈرامے ایک اہم سہارا بن گئے ہیں۔

اگر آپ بھی اس مشکل وقت میں اپنی بوریت دور کرنا چاہتے ہیں تو بی بی سی کی ماضی کے ان دس ڈراموں کی فہرست کا جائزہ لیجیے جس سے یقینا ماضی کی یادیں تازہ کرنے کے ساتھ ساتھ آپ ڈراموں میں شامل مواد سے بھی لطف اندوز ہو سکیں گے۔